تھری جی ٹیکنالوجی، موبائل فون’’انٹر نیٹ موڈیم‘‘کی شکل اختیار کر جائیگا

تھری جی ٹیکنالوجی، موبائل فون’’انٹر نیٹ موڈیم‘‘کی شکل اختیار کر جائیگا

  

لاہور(رپورٹ: صبغت اللہ چودھری)’’تھری جی‘‘ کا مطلب ہے’’ تھرڈ جنریشن‘‘ یعنی موبائل ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی تیسری نسل۔دنیا میں اس موبائل ٹیکنالوجی کی پہلی نسل’’فرسٹ جی‘‘ تھی جسے ’’ایمز‘‘ بھی کہا جاتا تھا، پاکستان میں دو عشرے قبل موبائل فونوں میں ایمز ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ، ایک دہائی کے بعد اس کی دوسری نسل نے جنم لیا اور سم کے بغیر چلنے والے ایمز کی’’ اینالوگ ‘‘ٹیکنالوجی سم کی’’ ڈیجیٹل ‘‘ٹیکنالوجی میں منتقل ہو ئی، موبائل ٹیکنالوجی کی دوسری نسل(2G ) کو ’’جی ایس ایم ‘‘ یعنی گلوبل سروس فار موبائلز کہا گیا، ڈیجیٹل جی ایس ایم سموں کے بعد پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں موبائل کمیونیکشن کا انقلاب برپا ہوااور ملک میں موبائل صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ، ترقی یافتہ دنیا میں سمارٹ فونز اور ’’اینڈرائیڈ ا‘‘ ٹیکنالوجی کی ایجادات سے پوری طرح مستفید ہونے کیلئے موبائل ٹیکنالوجی کی تیسری نسل (تھری جی) کا جنم ہوا تاہم پاکستان ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک سے دیگر شعبوں کی طرح پیچھے ہی رہا اور یہاں موجود سیلولر کمپنیوں نے اپنے صارفین کو جی ایس ایم ٹیکنالوجی تک ہی محدود رکھا، تاہم سمارٹ فونز کے شوقین افراد کو اس میں تھوڑی جدت اس طرح ملی کہ جی ایس ایم ٹیکنالوجی پر ہی ’’جی پی آر ایس‘‘ سسٹم یعنی جنرل پیکٹ ریڈیو سسٹم متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے موبائل پر انٹرنیٹ اور دیگر ڈیٹا سروسز فراہم کی گئیں، جی پی آر ایس سسٹم کے بعد اسے مزید اپ ڈیٹ کر کے ’’ایج‘‘ یعنی ’’انہانسڈ ڈیٹا ریٹس فار جی ایس ایم ایوولوشن‘‘ متعارف کروایا گیا، اس وقت پاکستان کی تمام سیلولر کمپنیاں سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کو ’’ایج‘‘ سروسز ہی فراہم کر رہی ہیں،پاکستان میں موبائل فون ٹیکنالوجی کے دو عشرے پورے ہونے کے بعد اب یہاں ’’تیسری نسل ‘‘ کا جنم ہونے جا رہا ہے جس کی نیلامی گزشتہ روز ہوئی ہے، پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی ابتدائی طور پر ’’ایمز ‘‘اور’’ جی ایس ایم‘‘ کے بعد ’’یو ایم ٹی ایس‘‘ یعنی یونیورسل موبائلز ٹیلی کمیونیکشن سسٹم (تھری جی ) کی طرف منتقل ہونے جا رہی ہے اور اگلے مرحلے میں اسے ’’فور جی‘‘ کی طرف جانا ہے، تھری جی ٹیکنالوجی بنیادی طور پر ڈیٹا سروسز اور ملٹی میڈیا سے متعلق ٹیکنالوجی ہے جو پاکستان میں سمارٹ فونز اور اینڈرائیڈ ایپلیکیشنز استعمال کرنے والے شوقین حضرات یا پھر ایک مخصوص کلاس کیلئے ہوگی، اس ٹیکنالوجی کے ذریعے موبائل فون باقاعدہ طور پر’’ انٹرنیٹ ماڈیم‘‘ کی شکل اختیار کر جائے گا ، اس کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ، گاڑیوں کی ٹریکنگ، جی پی ایس سسٹم، ویڈیو کانفرنسز، ذاتی کمپنیوٹر اور کی بورڈ کا موبائل کنٹرول سمیت دیگر ڈیٹا سروسز نہایت تیزرفتاری سے میسر آ سکیں گی، یوں کہا جا سکتا ہے کہ تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد انفارمیشن کا مزید انقلاب برپا ہو جائے گا ، اس ٹیکنالوجی سے انفارمیشن ٹرانسفر ریٹ 200 کلو بائٹس فی سکینڈہوگا، پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی کی تیسری نسل کے جنم سے پرانے موبائل اور جی ایس ایم((2G ) استعمال کرنے والے صارفین کو کوئی خطرہ یا پریشانی کی ضرورت نہیں، تھری جی ٹیکنالوجی سمارٹ فونز اور کمپیٹیبل ڈیوائسز کے ذریعے ہی چلے گی جبکہ عام صارف سادہ اورآسان فہم طریقے سے اپنا موبائل استعمال کر سکے گا، بالکل ان صارفین کی طرح جو کمپیوٹر وغیرہ پر انٹرنیٹ سرفنگ تو کرتے ہیں لیکن آج بھی سمارٹ فونز اور موبائل انٹرنیٹ وغیرہ سے نا بلد ہیں اور جی پی آر ایس سروسز استعمال نہیں کرتے، گزشتہ روزپاکستان میں تھری جی لائسنس کی نیلامی کا آٹھواں مرحلہ مکمل ہوگیا ہے جس میں ’’زونگ‘‘ نے سب سے زیادہ بولی دیکر لائسنس خرید لیا ہے جبکہ موبی لنک نے 10 میگا ہرٹز، یوفون نے 5 میگا ہرٹس اور ٹیلی نار نے تھری میگا ہرٹز کا لائسنس جیتا ہے ، صارفین کی تعداد کے لحاظ سے بڑی سیلولر کمپنی ’’وارد‘‘ نے تھری جی کی نیلامی میں حصہ نہیں لیا ، اس کمپنی کا خیال ہے کہ تھری جی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد نہایت کم ہوگی جبکہ کمپنی کا انحصار عام فون استعمال کرنے والے صارفین پر ہے اس لئے انہیں اس ٹیکنالوجی کا فائدہ نہیں،یوفون تھری جی ٹیکنالوجی سب سے پہلے لاہور سے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں آج پرل کانٹی نیشنل ہوٹل میں لانچنگ تقریب بھی منعقد ہونے جا رہی ہے، تھری جی لائسنس حاصل کرنیوالی 4 کمپنیوں کو آئندہ چند روز میں ہونیوالی ’’4G ‘‘ کی نیلامی میں شامل کیا جائیگا، اس حوالے سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کی آئی کمیٹی کے سربراہ اسامہ نے ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تھری جی ٹیکنالوجی کے بعد موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز حیران کن حد تک ایڈوانس شکل اختیار کر جائیں گی، اس کے ٹیکنالوجی کے بعد پاکستان میں بھی ’’پیپر لیس رجیم‘‘ حقیقی معنوں میں شروع ہو جائے گا اور دفاتر میں ساتھ والے کمرے میں بیٹھے ہوئے کولیگ سے بھی ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جائیگا، انہوں نے کہا کہ سیاسی وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی کا جنم تاخیر سے ہوا ہے ترقی یافتہ ممالک میں ’’4G ‘‘ پر کام ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک ارب ڈالر کے قریب تھری جی ٹیکنالوجی کی نیلامی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ابتدائی طور پر اس کی سروسز انتہائی مہنگی ہونگی جو عام صارف افورڈ نہیں کر پائے گا کیونکہ سیلولر کمپنیاں اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد ساری انویسٹمنٹ صارفین سے پوری کرینگی حکومت کو چاہیے کہ تھری جی ٹیکنالوجی عام آدمی تک پہنچانے کیلئے نیلامی حد سے زیادہ نہ بڑھنے دے۔

مزید :

صفحہ اول -