کسی چینل کے لائسنس یا اخبار کے ڈیکلریشن کی منسوخی نا قابل قبول ہو گی، سی پی این ای

کسی چینل کے لائسنس یا اخبار کے ڈیکلریشن کی منسوخی نا قابل قبول ہو گی، سی پی ...

  

 لاہور(پ ر)کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرزکا ہنگامی اجلاس ایوان اقبال لاہورمیں منعقد ہوا،اس میں اتفاق رائے سے اعلان کیا گیاکہ کسی میڈیا ہاؤس کی بندش یا کسی نیوزچینل کے لائسنس یا کسی اخبار کے ڈیکلریشن کی منسوخی کسی طو ر قابل قبول نہیں ہوگی۔اسے قومی مفاد کی سنگین خلاف ورزی تصورکیاجائے گا۔اس طرح کے کسی اقدام سے ایک ایسا بحران جنم لے گاجوجمہوری پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے،اجلاس کی صدارت سی پی این ای کے صدر مجیب الرحمن شامی نے کی۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ دفاعی اور میڈیا اداروں کی حرمت اور عزت یکساں اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ دونوں قومی ادارے ہیں ۔مزید کہا گیا کہ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی بنیادی اہمیت کے قومی ادارے ہیں اس لئے ان کا دفاع اور ان کی عزت اور تکریم کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔اجلاس میں تمام میڈیا ہاؤسزپر زوردیا گیا کہ وہ انتہائی اہم دفاعی اداروں کے بارے میں رپورٹنگ اورتبصرے کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔اجلاس میں پیمرا کو بھیجے جانے والے وزارت دفاع کے ریفرنس پر بھی تفصیلی اظہارخیال ہوا،ایک لحاظ سے یہ اقدام اطمینان بخش ہے کہ حکومت اور دوسرے متاثرہ قومی اداروں نے کسی یکطرفہ کارروائی سے گریز کرتے ہوئے ایک قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔تاہم پیمرا کی موجودہ تشکیل پر گہری تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہارکیا گیا کہ اس سے کسی منصفانہ فیصلے کی توقع نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ یہ کسی مستقل ڈھانچے سے محروم ہے۔اجلاس میں سینئر اخبار نویس حامد میر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت میڈیاسے وابستہ تمام کارکنوں کے تحفظ کے لئے جلد اور فوری اقدامات کرے ،اجلاس نے یہ بھی واضح کیا کہ اظہاررائے کے حق کی ضمانت دستور پاکستان میں د ی گئی ہے،اس لئے ریاست پر لازم ہے کہ وہ اخبار نویسوں کی زندگی کو لاحق خطرات سے تحفظ کو یقینی بنائے ،اجلاس میں وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ذمہ داران کسی خوف اور دباؤ کے بغیر انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔اجلاس میں آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی(اے پی این ایس) پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے)اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی یو جے) سے اپیل کی گئی کہ اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔انہیں متحد ہوکر میڈیا ہاؤسز کے درمیان اختلاف او ر تناؤ کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیئے۔اجلاس میں امید ظاہرکی گئی کہ مذکورہ بالا تمام تنظیمیں یک جا ہوکر آزادی صحافت کے تحفظ اور اخباری کارکنوں کی حفاظت کے لئے اقدام کریں گی۔اجلاس میں سینئر اینکر پرسن افتخار احمداور بعض دوسرے حضرات کو ملنے والی دھمکیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہارکیا گیااور مطالبہ کیا گیاکہ اس حوالے سے حکومت فوری اقدام کرے۔اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی عارف نظامی (پاکستان ٹوڈے) شاہین قریشی (نائب صدرسی پی این ای،جنگ گروپ) امتیاز عالم(ساؤتھ ایشیاجرنل) سلمان غنی(روزنامہ دنیا) عمرشامی(روزنامہ پاکستان) خالد قیوم (روزنامہ ایکسپریس) ممتاز طاہر (روزنامہ آفتاب)سجاد بخاری(روزنامہ ابتک) نوید چودھری(روزنامہ سٹی 42) بیدارسرمدی(روزنامہ فرنٹ) بیدار بخت بٹ (روزنامہ جنگ) حافظ اقبال (روزنامہ انصاف) خواجہ منورالحسن (روزنامہ مساوات) خالد فاروقی (روزنامہ آواز) ذوالفقار لودھی (روزنامہ تجارت) اصغر علی (روزنامہ جرات) صدیق اصغر(دی نیوز) عدیل نیاز (جہانگیر ورلڈٹائمز) اسد کاشف ادیب جاوادانی (ماہنامہ مون ڈائجسٹ) منیر احمد نولکھا (مصور انٹرنیشنل) اور توفیق رحمان (روزنامہ سعادت)

مزید :

صفحہ اول -