سافٹ وئیر انجینئر عادل نذیر سمیت 3 نوجوان لڑکوں کے قتل میں ملث ملزم گرفتار

سافٹ وئیر انجینئر عادل نذیر سمیت 3 نوجوان لڑکوں کے قتل میں ملث ملزم گرفتار ...
سافٹ وئیر انجینئر عادل نذیر سمیت 3 نوجوان لڑکوں کے قتل میں ملث ملزم گرفتار
کیپشن: pic

  

                   لاہور( کرائم سیل) ایس ایچ او جنوبی چھاﺅنی حسین فاروق اور انچارج انویسٹی گیشن انسپکٹر رانا اسلم نے مشترکہ کارروائی کے دوران سافٹ وئیر کے انجینئر عادل نذیر کے اندھے قتل سمیت تین نوجوان لڑکوں کے قتل میں ملوث ایک ملزم اعجاز کوگرفتار کرلیا ہے،ملزم نے دوران ابتدائی تفتیش نوجوانوں کو فیس بک پر دوستی کے بہانے جھانسہ دے کر بداخلاقی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے، ایس پی کینٹ انویسٹی گیشن اسد سرفراز خان نے ”پاکستان “ کو بتایا کہ ملزم اعجاز بٹ کا تعلق شاہدرہ سے ہے اورملزم فیس بک پر نوجوان لڑکوں کو دوستی کے بہانے جھانسہ دیتا تھا اور نشہ آور شربت یا نشہ آور گولیاں کھلا کر بے ہوش کرنے کے بعد بداخلاقیکرتا تھا، اور اپنا جرم چھپانے کی غرض سے نوجوان لڑکوں کا گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا،ملزم اعجاز نے گزشتہ ڈیڑھ سے دو ماہ کے اندر ایک سافٹ وئیر کے انجینئر سمیت تین نوجوانوں کو بداخلاقی کے بعد قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے، جس میں ملزم نے سافٹ وئیر انجینئر عادل نذیر کو چند روز قبل بیدیاں روڈ پر اُس کے کوارٹر میں بداخلاقی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، مقتول نوجوان عادل نذیر کو مائیکرو سافٹ کے مالک بل گیٹس نے دعوت دے رکھی تھی۔ اسی طرح ملزم نے دو اور نوجوانوں کو بھی قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے، جس میں گلشن راوی کے علاقہ میں ایک اکاﺅنٹینٹ ارسلان کو جبکہ ڈیفنس میں ایک نوجوان طاہر کو بھی بد اخلاقی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جبکہ اس حوالے سے ایس ایچ او جنوبی چھاﺅنی حسین فاروق نے بتایا کہ ملزم اعجاز خود بھی بداخلاقیکروانے کا عادی ہے، تاہم اس بارے تفتیش کی جارہی ہے اور اس بات کی بھی تفتیش کی جارہی ہے کہ ملزم کتنے عرصہ سے اس دھندہ میں ملوث اور ملزم کے ساتھ کتنے اور ملزمان ملوث ہیں، اس حوالے سے اگلے ایک دو دن تک اصل حقائق اور مکمل تفتیش کی تفصیل سامنے آجائے گی۔جبکہ اعجاز نے پولیس کو حراست میں ”پاکستان “ کو بتایاکہ اس نے ایک نیٹ ورک بنا رکھاہے اور اس کے ساتھ کے ساتھ اور بھی ملازم ہیں اور وہ درجنوں نوجوانوں کو نشانہ بنا چکا ہے ۔مزید افراد کو قتل کرنے کے حوالے سے ملزم نے خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم 100افراد کے قاتل جاوید اقبال کی طرح جنونی لگتا ہے ۔

مزید :

علاقائی -