بھارت، افغانستان اور اسرائیل پاکستان کی سلامتی اداروں کو بد نام کرنے کیلئے سر گرم

بھارت، افغانستان اور اسرائیل پاکستان کی سلامتی اداروں کو بد نام کرنے کیلئے ...

  

دبئی/اسلام آباد (اے این این) عرب ٹی وی نے انکشاف کیاہے کہ خطے میں تبدیل ہوتی صورت حال میں بھارت ، افغانستان اوراسرائیل پاکستان اوراس کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کو بدنام کرنے کیلئے سرگرم ہو چکے ہیں جبکہ امریکی سی آئی اے بھی اس کھیل میں شامل ہے۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام پر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملہ کرانے کے مبینہ الزام اور وزیر اعظم کی بطور خاص کراچی کے نجی ہسپتال میں زخمی صحافی سے ملاقات کے بعد جنرل راحیل کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز آنا ایک مرتبہ پھر پاکستان کے عسکری، حکومتی ، ابلاغی اور سفارتی حلقوں کیلیے غیر معمولی توجہ کا موضوع بن گیا ہے ۔ اس نازک مرحلے پر جبکہ پاک فوج کے ترجمان نے ملکی سلامتی سے متعلق ادراوں کے خلاف بے بنیاد الزام لگانے والوں کیخلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اور حکومت نے صحافی پر حملے کی تحقیقات کیلئے تین رکنی عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جنرل راحیل کا یہ دورہ انتہائی اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں تبدیل ہوتی صورت حال اور افغانستان سے امریکی فوج کے اسی سال انخلا کے حوالے سے پاکستان کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے پاس پہلے سے مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ بھارت ، افغانستان ، اسرائیل اور ایران پاکستان اور اس کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کو بدنام کرنے کیلئے سرگرم ہو چکے ہیں۔ کینیڈا کے تارکین وطن کے معاملات کو دیکھنے والے وزیر کا اپنی کتاب ’’طویل راستہ’’میں پاکستان کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا جانا اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔آئی ایس پی آر نے جنرل راحیل کی منگل کے روز آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز آمد اور مصروفیات کے بارے میں جاری کردہ چار سطری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے قومی ۔ آئی ایس پی آر کے اس موقع پر جاری کیے گئے بیان میں اگرچہ بہت اختصار سے کام لیا گیا تاہم فوج کے ترجمان کا یہ چار سطری بیان بھی کافی اہم ہے۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید جنہوں نے خود کو شریف براردان کے بعد سب سے زیادہ با اختیار شخصیت کے طور خود کو ثابت کر رکھا ہے اور مسلم لیگ نواز میں بعض انہیں ڈی فیکٹو وزیر اعظم مانتے ہیں، نے پیر کی رات یہ تاثر دیا تھا کہ آئی ایس آئی چیف کو اپنے اوپر لگائے گئے الزام کی وضاحت خود کرنی چاہیے۔ یہ پہلا موقع ہے آرمی چیف کو ایک ہی ماہ کے دوران قومی سلامتی کے اہم دو شعبوں میں جا کر انہیں ان کی عزت اور وقار کے حوالے سے اعتماد میں لینا پڑا ہے۔ اس موقع پر قومی سلامتی کے ادارے کی طرف سے حالیہ برسوں میں تقریبا دو سو قیمتی جانوں کی قربانی کا ذکر بھی ہوا اور ادارے کے وقار کے تحفظ کی بات بھی اسی پیرائے میں ہوئی جس پیرائے میں اس سے چند دن پہلے غازی تربیلا میں ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ پیر کی شام اچانک طے ہوا تھا تاکہ فوری ایشوز پرنوٹس تبدیل کیے جاسکیں۔

مزید :

صفحہ اول -