پاکستان کے دوست کہاں ہیں ؟

پاکستان کے دوست کہاں ہیں ؟
پاکستان کے دوست کہاں ہیں ؟
کیپشن: najam wali khan

  

سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر کو دن دیہاڑے سڑک پر گولیاں مار دی جاتی ہیں، یہ قابل افسوس بھی ہے اور قابل مذمت بھی، کیا ہم بطور صحافی اس قاتلانہ حملے کو قبول کر سکتے ہیں،ہرگز نہیں، ہم یہ تو تسلیم کر سکتے ہیں کہ بہت سارے معاملات پر ہماری رائے غلط ہو سکتی ہے مگر اس کو بنیاد بناتے ہوئے اظہار رائے کے حق پر پابندی قبول نہیں کی جا سکتی ، میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان کے بااثر ترین صحافی کو گولیاں لگتی ہیں، وقت کے وزیراعظم تک اپنی پہلی فرصت میں ان کی عیادت کو پہنچ جاتے ہیں، گھنٹوں پر گھنٹے اور دنوں پر دن گزرتے ہیں مگر اس حملے کی ایف آئی آر درج نہیں ہوپاتی ۔۔ یقین کریں میں اس سلسلے میں کسی پر الزام تراشی نہیں کر رہاکیونکہ میں ایک کارکن صحافی ہوں اور ان معاملات میں درپیش مشکلات کو اچھی طرح جانتاہوں مگرمیں یہ ہرگز نہیں جانتا کہ حامد میر جب بیان دینے کی پوزیشن میں ہوں گے تو کیا وہ اپنے بھائی کے بیان کی سو فیصد تائید کریں گے جو کہ ایک منطقی سی بات قرار دی جا سکتی ہے یا وسیع تر قومی مفاد میں تصادم کی اس فضا کو ٹالنے کی کوئی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ حامد میر ایک جرات مند اور دانش مند صحافی ہیں اور اگر وہ دوسرا راستہ بھی اختیار کرتے ہیں تو میں اس یقین کے ساتھ اسے عین قومی مفاد میں سمجھوں گا کہ وہ غدار نہیں ہیں، وہ سکہ بند محب وطن ہیں۔

مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہم صحافی بطور برادری متحد نہیں،ہم ایک دوسرے کو غدار قرار دیتے ہیں۔ آج پاکستان کا ایک بڑا میڈیا گروپ جس مشکل کا شکار ہوا ہے توا س میں حب علی سے زیادہ بغض معاویہ رکھنے والوں نے کردار ادا کیا ہے۔ نقطہ نظر کا اختلاف اپنی جگہ پر مگر میرے خیال میں پاکستان کے ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد کارکن صحافیوں کو محب وطن ہی سمجھنا چاہئے۔ میڈیا گروپوں کے مالکان کے مفادات اپنی جگہ پر ، دوسری طرف جنگ گروپ نے بھی اپنے ملازمین کے علاوہ کسی دوسرے صحافی کو کبھی صحافی نہیں سمجھا، ان کے مسئلے کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا، حالات تو اس قدر خراب ہیں کہ خبروں، پروگراموںاور کالموں میں دیگر میڈیا گروپوں سے تعلق رکھنے والوں کے نام تک نہیں لئے جا سکتے اور جب کبھی یہ گروپ مشکلات کا شکار ہوتا ہے اور اکثر ہی ہوجاتا ہے تو امید کرتا ہے کہ دوسرے اس کا نام ہی نہیں لیں گے بلکہ ان کے لگائے ہوئے احتجاجی کیمپوں میں شریک بھی ہوں گے۔ مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب ایک مقبول پروگرام کے اینکر کو ان کے اپنے والد ہی کے اشعار سنانے سے روکا گیا کیونکہ وہ ایک دوسرے گروپ کے اخبار کے ادارتی صفحے پر لکھ رہے تھے، میں سمجھتا ہوں کہ ان کے والد عصر حاضر میں غزل کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ اس شکوے کے باوجود اس گروپ کی پاکستان کی صحافت میں خدمات کو نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔ آج یہ گروپ پیمرا کی عدالت میں کھڑا ہے ، جہاں وزارت دفاع کی طرف سے اس چینل کو بند کرنے کی درخواست کرتے ہوئے غصے کے عالم میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے کردار پر بے حد تنقید ہوتی رہی ہے اور یہ کافی حد تک درست بھی ہے۔ پیمرا، الیکٹرانک میڈیا کوریگولیٹ کرنے میں ناکام رہا مگراب حکومت کی طرف سے اس ادارے کی بھی تطہیر کی جا رہی ہے، بہت سارے افسران جیل پہنچ چکے ہیں اور پیمرا کی سربراہی ایک نیک نام پولیس افسر پرویز راٹھور کے سپرد کی جا چکی ہے۔ دوسری طرف وزارت اطلاعات پرویز رشید جیسے سیاسی کارکن کے پاس ہے جو آج بھی بغیر کسی پروٹوکول کے پاکستان کے تمام کارکن صحافیوں کوصرف ایک ایس ایم ایس پر دستیاب ہوتا ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ پرویز رشید اور پرویز راٹھور کی موجودگی میںکسی بھی ادارے کے ساتھ ناانصافی ہو سکتی ہے چاہے وہ ادارہ کوئی میڈیا گروپ ہو یا وہ قوم کے تحفظ کی عظیم ذمہ داری سرانجام دے رہا ہو۔ جنگ اور جیو کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ غدار ہیں، یہ بھی زیادتی ہے کہ اس گروپ نے ملک میں آئین اور قانون کی حاکمیت کے لئے کردار ادا کیا ہے اور دوسری طرف اگر ہماری مسلح افواج بارے ایسا پروپیگنڈہ ہو جس کا فائدہ بھارت جیسا کم ظرف دشمن اٹھائے تواس کی بھی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ میں اس موقف کا اعادہ کروں گا کہ حامد میر کو پاکستان کے کسی بھی شہری اور افسر پر الزام لگانے کا حق حاصل ہے مگر دوسری طرف الزام کو فیصلہ بنا کے سنا دینابھی ناانصافی ہے۔ پاکستان کا میڈیا اپنی افواج اوران سے وابستہ ایجنسیوں کے حوالے سے ہمیشہ ہی حساس رہا ہے اور اب یہ مان لینا چاہئے کہ جنگ اور جیو گروپ کی طرف سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ادارتی غلطی ہوئی۔حامد میر پر ہونے والے حملے اور ان کی نازک حالت کی وجہ سے ان کے ساتھی بہت سارے ” پروفیشنل“ اور ” نیشنل“ تقاضوں کو نظرانداز کر بیٹھے، جوں جوں بلند فشار خون معمول پر آتاگیا، بریکنگ نیوز اور کمنٹس کی ٹون بھی بدلتی چلی گئی۔ یہاں بجا طور پر نشاندہی ہوئی کہ الیکٹرا نک میڈیا میں ”ایڈیٹر “ جیسے مضبوط ادارے کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ لائیو ٹرانس میشن میں چند نوجوان اینکروں اور رپورٹروں کے ہاتھوں میں پوری کی پوری گیم ہوتی ہے اورجسے وہ دانستہ اور نادانستہ خراب کر سکتے ہیں۔ جب ہم ایک ”ٹیکر “ کو چلانے سے پہلے اور ایک بیان کو شائع کرنے سے پہلے اس کی ایڈیٹنگ کرتے ہیںتو پھر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ” ایڈیٹنگ “کے اس اہم ترین تقاضے کو الیکٹرانک میڈیا میں کس طرح پورا کیا جاسکتا ہے۔ عامر میرکا بھائی موت و حیات کی کشمکش میں تھاا ورانہوں نے لائیو اپنا ردعمل دیا، مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اگر یہ ردعمل لائیو نہ ہوتا تو یقینی طور پر ادارتی ذمہ داریاں ادا کرنے والے اس میں مداخلت کرتے اور بات وہاں تک نہ پہنچتی، جہاں تک جاپہنچی ہے۔

وہ لوگ جو آئین، قانون اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں، انہیں ہر معاشرے او رہر حکومت میں خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں سے شکایات رہتی ہیں مگر دوسری طرف جب پاکستان جیسے ملک کے حالات کو دیکھا جاتا ہے جہاں دشمنوں کی فوج ظفر موج، اپنے بے حد اور بے پناہ وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسے حالت جنگ میں دھکیلے رکھتی ہیں، اس کے محب وطن شہریوں کو اپنے زر خریدوں کے زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے بغاوت کی راہ پر لے جاتی ہیں تو ایسے عناصر کی روک تھام کے لئے معمول کے قوانین بے اثر ہوجاتے ہیں۔ ایجنسیوں کو بہت سارے ایسے اقدامات کرنا پڑتے ہیں جو معمول میں قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ ہمیں بھی اپنی ایجنسیوں کو ان معاملات میں تھوڑی بہت چھوٹ دینی ہوگی ورنہ قانون کے کمزور جالے کو توڑتے ہوئے مکڑیاں پورے گھر کو کھاجائیں گی۔ہم اپنی ایجنسیوں کے حق میں بہت بھونڈا پروپیگنڈہ کرتے ہیں حالانکہ ان کی خدمات اور قربانیوں پر بہت بہتر انداز میں کام ہو سکتا ہے۔ ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ہیروز کی قربانیوں پر شاہکار ادب تخلیق ہو سکتا ہے اور وہ کتابیں وطن سے محبت کی لازوال بنیادیں بن سکتی ہیں۔ یہ فوج ہماری زرہ بکتر ہے اور ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی زرہ بکتر نہیں کاٹ سکتے۔

کہنا تو صرف یہ ہے کہ پاکستان میں امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بڑے میڈیا گروپ کی پاکستان کی سلامتی اور پاکستانیوں کی حفاظت کے لئے کام کرنے والے جانثاروں سے لڑائی نہیں بنتی مگر اب یہ لڑائی ” پیمرا“ کی عدالت میں پہنچ چکی ہے۔میں نے لکھا تھا کہ یہ ایک نئی جنگ کا آغاز ہے اور یہ آخری جنگ بھی ہو سکتی ہے اور آج میںکہتا ہوں کہ اللہ نہ کرے کہ یہاں کوئی بھی جنگ آخری جنگ ہو۔۔۔ ہم آپس میں لڑتے رہیں گے مگر پاکستان کے وہ دوست کہاں ہیں جو پاکستان کے دو مختلف نقطہ نظر رکھنے والے دوستوں میں صلح کروا سکتے ہیں؟

مزید :

کالم -