وزیر اعظم قائدانہ کردار کے ذریعے آئی ایس آئی کا وقار، میڈیا کی آزادی بچائیں

وزیر اعظم قائدانہ کردار کے ذریعے آئی ایس آئی کا وقار، میڈیا کی آزادی بچائیں
وزیر اعظم قائدانہ کردار کے ذریعے آئی ایس آئی کا وقار، میڈیا کی آزادی بچائیں
کیپشن: Sohail Ch

  

تجزیہ: سہیل چودھری

  معروف اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملہ کے بعد وفاقی دارالحکومت میں ایک طوفان بپا ہے ،جو تاحال تھمتا ہو ا دکھائی نہیں دے رہا ،ایک طرف ملک کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے تو دوسری جانب ملک کے تحفظ اور وقار کے حوالے سے سب سے بڑا قومی ادارہ ہے ،اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر ریستورانوں تک اور دفاتر سے لے کر عوامی مقامات پر ہر جگہ یہی ایشو زیر بحث ہے ،ہر طرف بے پر کی اڑائیاں جارہی ہیں اور اندھیروں میں تیر چلائے جارہے ہیں ،وفاقی دارالحکومت میں قیاس آرائیوں اور رنگ برنگے تجزیوں کی بدولت دھند سی چھائی ہوئی ہے اور کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ،ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو کچھ نظر سی لگ گئی ہے ،ملک میں ایک طویل آمریت کے بعد جمہوریت کی بحالی ،پھر پہلی بار ملک کی جمہوری تاریخ میں اقتدار کی منتقلی کے بعد موجودہ حکومت نے اہم قومی ایشوز پر ایک جامع حکمت عملی اپناتے ہوے ٹھوس پیشرفت کا آغاز کیا ،پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے دہشتگردی سے نپٹنے کیلئے طالبان سے مذاکرات کے پیچیدہ اور حساس عمل کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجہ میں ملک میں تقریبا 3ماہ سے زائد عرصہ سے ڈرون حملوں کا سلسلہ تھما ہو اہے اور طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ کئی بار ٹوٹتے ٹوٹتے بچا، حتیٰ کہ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمہ کے اعلان کے باوجود مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری ہے ،اور گزشتہ روز اس حوالے سے حکومتی اور طالبان امن کمیٹیوں کے مابین اہم ملاقات میں مثبت پیشرفت سامنے آئی جبکہ حامد میر پر قاتلانہ حملہ کے بعد اسلام آباد میں ایک ایسے وقت میں بحران پیدا ہوا جب حکومت طالبان سے امن مذاکرات سمیت اہم اقتصادی کا میابیوں اور انرجی سیکٹر میں اپنے اقدامات پر عوام سے داد وصول کررہی تھی ،ابھی حالیہ گیلپ پول میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اور قیادت کی مقبولیت میں اضافہ کی خبروں کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ملک میں سیاسی اور عسکری تعلقات میں اچانک تناؤ سامنے آیا ،بظاہر اس تناؤ کا محور جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا کیس قرار دیا جارہا تھا لیکن واقفان حال کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے حوالے سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اوروفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے بیانات سول ملٹری تعلقات میں دراڑ کی فوری وجہ ضرور ہے لیکن شائد دیگر وجوہات بھی ہیں ،ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ملکی پالیسیوں اوراہم قومی ایشوز پر’’ سویلین کنٹرول ‘‘کے بعض اقدامات پر بھی تحفظات ہیں تاہم یہ امر واضح ہے کہ جس ملک میں طویل عرصہ تک فوجی حکومتیں رہی ہوں وہاں سویلین کنٹرول اچھی طرز حکمرانی اوراشتراقی جمہوریت کو فروغ دے کر ایک ارتقائی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے ،ملکی پالیسیوں اور ایشوز پر سویلین کنٹرول کا کوئی ’’شارٹ کٹ‘‘نہیں ہے ،سول و فوجی تعلقات کے حوالے سے سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے فہم کا مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے کاکول اکیڈمی میں پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقع پر مسلح افواج اور باالخصوص آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی خوب تحسین کی ،خداخدا کرکے سول ملٹری تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہوئے تو حامد میر پر حملہ کے بعد ایک نئی بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی ،اس ساری صورتحال میں حامد میر پر حملے کا سنگین واقعہ پس پشت چلا گیا جبکہ سیاست ،میڈیا اور دیگر شعبوں میں بھی ایک تفریق نظرآئی ،ایسا لگ رہاہے کہ اسلام آباد میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بٹ کر رہ گئے ہیں ،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بڑے میڈیا گروپ نے اپنے اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملہ کے ردعمل میں کچھ زیادہ جوش کا مظاہرہ کیا ،اسے غیر ذمہ دارای سے بھی تعبیر کیا جاسکتاہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ سارے الیکٹرانک میڈیا کا مجموعی رویہ اسے ہی ہے الیکٹرانک میڈیا عمومی طورپر اپنے لئے کوئی اخلاقی حدود و قیود کا تعین نہیں کرسکا ،بالعموم سارے الیکٹرانک میڈیا اور بالخصوص بیشتر اینکرز کا یہی المیہ ہے کہ وہ اپنے آپ پر کوئی حد قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ،اگر تمام نہیں تو بہت سے بڑے نیوز چینلز اور کئی نامی گرامی اینکرز کسی ایک فریق کے خلاف میڈیا ٹرائل میں مصرو ف ہوتے ہیں لیکن یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے بسا اوقات ذمہ داری سے تجاوز کے باوجود یہ مظلوم طبقات یا افراد کی آواز بنتا ہے ،اور تمام ریاستی اداروں کو آئینہ دکھا کر انکی سمت درست کرنے میں مدد کرتاہے ،باالخصوص کیمرہ نے پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی غلط کاریوں کو براہ راست عوام کو دکھانا شروع کردیا ہے ،درحقیقت الیکٹرانک میڈیا ملک و قوم کے تمام شعبوں کے رہنماؤں پر ایک ریگولیٹر ہے ،کیمرہ کے تعاقب سے ملک میں حکمران اشرافیہ کے لوگ پریشان ہیں لیکن عوام اس تعاقب سے خوش ہیں اور عوام کی خواہش ہے کہ کیمرہ تعاقب کے ذریعے بااثر طبقات کا محاسبہ کرتا رہے تاہم حامد میر پر قاتلانہ حملہ کے بعد جذبات کے سیلاب کے سامنے اسکے میڈیا گروپ سے ملکی سلامتی کے حوالے سے اہم ترین ادارہ پر الزام تراشی کے حوالے سے شائد کوئی بے احتیاطی ہوگئی ہو لیکن اگر یہ غیر زمہ داری ہے تو یہ پہلے سے جاری ہے اور اس کے مرتکب باقی نیوز چینلز بھی ہیں لیکن اتفاق سے انکار واسطہ کسی طاقتور ادارہ سے نہیں پڑا ،تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ بہت سے نیوز چینلز نے کاروباری رقابت یا کسی دیگر وجوہ کی بناء پر جلتی پر تیل ڈلا ،اگرچہ وزارت دفاع کی درخواست پر پیمرا نے مذکورہ میڈیا گروپ کو نوٹس جاری کردیا ہے ،اگر تو مذکورہ چینل کے خلاف غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ثابت ہوتاہے تو سرزنش توہوسکتی ہے لیکن چینل کی بندش کا مطالبہ میڈیا کے مفاد میں ہے نہ ملک کے ،ملکی سلامتی کے حوالے سے اہم ترین قومی ادارے کے جذبات ضرور مجروح ہوئے ہیں ،ان کا ازالہ کرنا چاہئے ،دونوں اطراف سے صبر و تحمل کا مظاہرہ ہونا چاہئے ،حکومت کو چاہئے کہ وہ اہم قومی اداروں کے مابین سلگتے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے فائر بریگیڈ کا کام کرے ،وزیراعظم میاں محمد نوازشریف قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے تمام فریقین کو اس بحران سے نکالیںآئی ایس آئی کا وقار بحال کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی آزادی پر بھی قدغن نہ لگنے دیں کیونکہ ایک آزاد میڈیا اور جمہو ریت لازم و ملزوم ہیں۔ جبکہ پیمرا کو چاہئے کہ تمام چینلز کی جانب سے کسی غیر ذمہ داری کے مظاہرہ کے امکان کے سد باب کیلئے ایک فعال کردا ر ادا کرے ،علاوہ ازیں الیکٹرانک میڈیا کے رہنماء بھی سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنی اخلاقی حدود و قیود کا نہ صرف تعین کریں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں ،اگر الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے کسی فرد ادارے کی دل آزادی ہو تو اس کا ازالہ ہونا چاہئے ،تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ وزارت دفاع کی درخواست پر پیمرا نے مذکورہ میڈیا گروپ کو نوٹس تو جاری کردیا ہے لیکن اس وقت پیمر اکا کل وقتی چیئرمین ہی نہیں سابقہ چیئرمین چوہدری رشید نے اپنی بحالی کیلئے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے جب تک پیمرا کا کل وقتی چیئرمین تعینات نہیں ہوتا پیمرا قوانین کے تحت کسی چینل کیخلاف تادیبی کاروائی ممکن نہیں ۔

مزید :

تجزیہ -