دونوں فریق مسلمان ۔ مصالحت میں کیا امر مانع ہے؟

دونوں فریق مسلمان ۔ مصالحت میں کیا امر مانع ہے؟
دونوں فریق مسلمان ۔ مصالحت میں کیا امر مانع ہے؟
کیپشن: ch khadim hussain

  

تجزیہ :۔چودھری خادم حسین

شدت پسندوں کی طرف سے آگ اور خون کا کھیل پھر سے شروع کر دیا گیا ہے، ان کاتازہ نشانہ سرکاری اداروں کے چھوٹے اہل کار بنے ہیں، ایک طرف یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف طالبان رابطہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ترجمان مولانا یوسف شاہ کہتے ہیں، ہم طالبان کو پھر سے سیز فائر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پروفیسر ابراہیم تو کچھ مایوسی کا اظہار کرنے لگے ہیں، لیکن ہمارے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان حسب روایت مطمئن اور سنجیدہ ہیں ان کو یقین ہے کہ مذاکرات ہوں گے اور کامیاب بھی ہو جائیں گے اسی لئے تو انہوں نے مذاکراتی کمیٹیوں کو پھر سے ملاقات اور مذاکرات کا اہتمام کرنے کے لئے کہا ہے۔

کتنی بار کہا جائے اور کس قدر لکھا جائے کہ امن کی خواہش پاکستان کے ہر شہری کی ہے اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ خون بہے بغیر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو اس سے بہتر اور کوئی صورت ہی نہیں ہے، یہ درست بھی ہے لیکن سوال تو مذاکرات اور ان کی کامیابی کا ہے۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ کیا حکومت طالبان کے مطالبات تسلیم کرے گی اور کیا اس کے بعد مکمل امن ہو جائے گا، اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں، اگرچہ یہ کوئی مشکل کام نہیں طالبان کوئی غیر مسلم تو ہیں نہیں، مسلمان تو وہ بھی ہیں جو ان کا نشانہ بنتے ہیں یوں مسلمان کے ہاتھوں مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اسی پر طالبان کو غور کرنا چاہئے۔ ان کو سوچنا چاہئے کہ حکومت ہر حالت میں امن چاہتی ہے تو اس کا جواب بھی اسی انداز سے دیا جائے رہ گیا طالبان کے مطالبات کا مسئلہ تو خون ریزی بند کرو، آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرو تو مطالبات کے حوالے سے بھی کوئی حل نکل سکتا ہے، پھر ایسا کیوں نہیں ہو رہا، یہ ایک سوال ہے جس کا جواب کوشش کرنے والوں کو تلاش کرنا چاہئے۔

جہاں تک ملک کے اندر پھیلی شدت پسندی اور افراتفری کا تعلق ہے تو یہ ایک لمحے میں ختم ہو سکتی ہے نیت شرط ہے اگر حقیقی معنوں میں ارادہ کر لیا جائے تو پھر کوئی رکاوٹ درمیان میں نہیں رہتی میز پر بیٹھ کر ہر بات کی جا سکتی ہے۔ ہر مطالبہ پیش کیا اور اس کے حق میں دلیل بھی دی جا سکتی ہے۔ جب بات مفاہمت کی طرف بڑھے گی تو راستہ خودبخود بنتا چلا جائے گا لیکن اللہ کے نام پر ان پاکستانی عوام کے اعصاب کا اور امتحان نہ لو، جو کرنا ہے کر ڈالو۔

جہاں تک معلومات کا تعلق ہے تو مولانا سمیع الحق کے قریبی حلقوں کے مطابق مولانا سمیع الحق بڑے مطمئن ہیں بلکہ وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ بات بن جائے گی، اگر یہ توقع ہے تو پھر دیر کس بات کی؟ اس کے برعکس طالبان کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ مفاہمت ناممکن نہیں مگر اصل مسئلہ ان قیدیوں کی رہائی سے عبارت ہے جو پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اورسب تسلیم کر چکے ہوئے ہیں اس کے باوجود ا ن کی رہائی پر غور ہو سکتا ہے بشرطیکہ اسے مذاکرات کے لئے شرط نہ بنایا جائے اور ’’کیس ٹو کیس‘‘ کے فارمولے پر رضامندی ظاہر کر دی جائے۔ اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رکاوٹ دور نہیں ہوئی دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ پنجاب ایک مرتبہ پھر ملتوی ہو گیا اور اس کے لئے قیاس آرائیاں شروع کر دی گئی ہیں، بنیادی وجہ سکیورٹی بتائی گئی جو عذر گناہ کے مترادف ہے، پنجاب حکومت اور وزیر اعظم کی یقین دہانی کے بعد اور پھر بند دروازوں میں اجلاسوں کی وجہ سے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل بات کیوں چھپائی جا رہی ہے کہ بلاول کو ان کے مشیروں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی صورتحال بہتر نہیں ہو پا رہی، مخدوم شہاب الدین پس پردہ ہیں یوں جنوبی پنجاب میں جیالے خود ہی ہیں اور سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو تنظیم ہی مکمل نہیں کر پا رہے، اس کے علاوہ معاملہ ملاقاتوں کا بھی ہے۔ بلاول بھٹو کی طرف سے جو خواہش ظاہر کی گئی وہ کیسے پوری کی جا سکتی ہے؟ وہ چاہتے ہیں کہ پارٹی کے وہ جیالے جو مایوس ہو کر گھر بیٹھ گئے ہوئے ہیں ا ور وفاداری تبدیل نہیں کی ان کو فعال کیا جائے لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ بعض خالی عہدے ایسے حضرات سے پر کر لئے گئے جو پارٹی کے فلسفے ہی سے واقف نہیں۔ نئے چہرے نظر آ رہے ہیں ان کی موجودگی میں پرانے جیالوں کی پذیرائی کیسے ہو گی؟ یہی وہ مشکل ہے جو حل نہیں ہو پا رہی، جب بلاول کو اس حوالے سے گرین سگنل مل جائے گا وہ آ جائیں گے۔ یوں بھی پرانوں کی ایک مثال دے دیں کہ راجہ ریاض فعال ہیں تو رانا آفتاب کو کیسے برداشت کریں گے اور رانا آفتاب کو ملاقات کے لئے راجہ ریاض اور میاں منظور وٹو سے پرچی لینے کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے ہی کئی اور امور ہیں۔ ان کو بھی تو طے ہونا چاہئے بلاول نے عملی سیاست میں کچھ کرنا ہے تو یہ مسائل حل کرنا پڑیں گے اور وہ یہی چاہتے ہیں لیکن کوئی عمل نہیں کر پا رہا، اس لئے ان کا دورہ پنجاب مشروط ہی رہے گا۔

مزید :

تجزیہ -