وزیراعلیٰ پنجاب بھی ’جوتاکلب‘ کے ممبر بن گئے

وزیراعلیٰ پنجاب بھی ’جوتاکلب‘ کے ممبر بن گئے

ن لیگ کے ایم پی اے کا پولیس حراست میں ملزم پر تشدد, وزیراعلیٰ کے حکم پر رہا

وزیراعلیٰ پنجاب بھی ’جوتاکلب‘ کے ممبر بن گئے
کیپشن: Shahbaz Sharif

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف بھی ’جوتاکلب ‘ کے رکن بن گئے ہیں لیکن اُن پر جوتا کسی شہری نے نہیں بلکہ سوال کا جواب نہ دینے پر صحافی کی جانب سے پھینکا گیاہے،وزیراعلیٰ کے جانے کے بعد پولیس نے صحافی کو حراست میں لے لیا جبکہ گرفتار ملزم کو ن لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی وحیدگل نے تشدد کا نشانہ بنایا تاہم شہباز شریف نے رہائی کا حکم دے دیا۔وزیر اعلیٰ شہباز شریف ساﺅتھ ایشیا لیبر کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے کہ سوال کا جواب نہ دینے پر ایک صحافی نے ان پر جوتا پھینک دیا جو سٹیج کے سامنے جا گرا ۔وہا ں موجود دیگر صحافیوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی مہذب معاشروں اور میڈیا کے حلقوں میں کوئی گنجائش نہیں تاہم ابتدائی طورپر وزیراعلیٰ پنجاب کو کائی موقف سامنے نہیں آیا۔وزیراعلیٰ پر جوتا پھینکے جانے کے بعد سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور  تقریب کے اختتام پر مذکورہ صحافی کو حراست میں لے لیا گیا،صحافی کو دھکے دے کر ہوٹل سے باہر نکالنے کے بعد مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی نے  ملزم کو  تشدد کا نشانہ بنایا ۔گرفتاری کا علم ہونے پر وزیراعلیٰ نے ملزم کوفوری رہائی کے احکامات جاری کردیئے اور کہاکہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں ، کسی ایک فرد کے فعل کو تمام صحافیوں سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ کے احکاما ت پر ملزم کو فوری طورپر رہا کر دیا گیا۔ جوتاپھینکنے والے صحافی نے موقف اپنایا کہ یہ حکمران سیکیورٹی دینے میں ناکام ہوگئے ہیں، خصوصاً کراچی میں کوئی بھی محفوظ نہیں ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -