دنیا کو اسلامی انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی

دنیا کو اسلامی انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی
دنیا کو اسلامی انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی

  

 لندن ( بیورورپورٹ) دنیا کو اسلامی انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی اور آزاد معیشت کے اصولوں کو ترویج دیناچاہیے۔ ان خیالات کا اظہار سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے بلوم برگ میں ایک تقریب کے دوران خطاب میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں اسرائیل کے ٹھوس وجود اور اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اس سلسلہ میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری اسرائیل فلسطین کے تنازعات میں کمی اور پائیدار امن کے لئے بجا طور پر سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔ خطے میں دو قوتوں کے درمیان عظیم کشمکش جاری ہے، ایک قوت اس خطے کوسیاسی، معاشی اور سماجی طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کوشاں ہے جبکہ دوسری قوت مذہبی اختلافات کی بنیاد پر سیاست کو پروان چڑھانا چاہتی ہے اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سےفلسطینی قیادت منقسم اور محدود ہے۔ ٹونی بلیئر نے مزید کہا ہمیں کسی طرف تو جھکنا ہےاور دنیا کو اسی مسئلے پر متحد ہو کر آواز بلند کرنا چاہیے، مگر اس کا مطلب ہرگز فوجی کارروائی نہیں۔ ہمیں مذہبی انتہا پسندی کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھنا چاہیئے کیوں کہ اسی انتہاءپسندی نے اسلام کے اصل پیغام کو مسخ کر رکھا ہے۔ یہ انتہا پسندی پوری دنیا کی اقوام پر منفی انداز میں اثر انداز ہو رہی ہے اور عالمگیریت کے اس دور میں بھی اس خطے میں پرامن بقائے باہمی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ 

مزید :

بین الاقوامی -