اقتصادی راہداری کا منصوبہ

اقتصادی راہداری کا منصوبہ

  

ایک امریکی جریدے میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی امداد کے حوالے سے اس بات کا تجزیہ کیا گیاہے کہ امریکا اس میدان میں چین سے بہت پیچھے رہ گیاہے۔ چین پاکستان میں چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہاہے،جبکہ امریکا کی جانب سے 2009ء سے لے کر اب تک مختلف مدوں میں دی گئی امدادصرف پانچ ارب ڈالر بنتی ہے ،جس کے عوض دہشت گردی کے نام پرپاکستان نے اپنے شہریوں کی ہزاروں جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔اتنا سب کچھ کھو کر پاکستان کے حکام بالاکی آنکھیں اب کھل جانی چاہئیں۔ چین کی جانب سے پاکستان کوجو تعاون فراہم کیا جارہاہے، اتنی بڑی پیشکش آج تک کسی ملک نے پاکستان کو نہیں دی ہے ۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ،10400میگا واٹ بجلی کے پراجیکٹس، 832کلومیٹر طویل سڑکیں، 1736 کلومیٹر ریلوے ٹریک اور8آبدوزوں کی پاکستان کوفروخت جیسے منصوبے پاکستان کی معاشی اور سیاسی تقدیر بدلنے کے لئے کافی ہیں،لیکن ان پراجیکٹوں کی تکمیل کے لئے 3سے پندرہ سال کی مدت درکار ہے۔ چین نے ان منصوبوں کے لئے جو رقم مختص کی ہے، وہ کیش میں نہیں ہے اور نہ ہی چین کبھی کیشں دیتاہے ،بلکہ وہ پروجیکٹ مکمل کرواتا ہے۔

دیکھنا اب یہ ہے کہ ہماری حکومت کے پاس اتنی حیثیت ہے کہ وہ ان پراجیکٹوں کی تکمیل کے لئے ضروری انتظامی ماحول پیدا کرسکے اور ملک میں اندرونی دہشت گردی کو کنٹرول کرسکے ۔چین کے تمام وعدوں کوحقیقت بنانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اپنی کارکردگی کو موثر اور شفاف بنائے تاکہ ان پراجیکٹوں کاحقیقت میں نفاذ ممکن ہوسکے ۔اگر دہشت گردی کا یہی حال رہا خصوصاً بلوچستان میں تو ان پرواجیکٹوں کی تکمیل میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، کیونکہ بھارت جو اس وقت ان منصوبوں کی وجہ سے خاصا بے چین دکھائی دے رہے ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی تخریب کاری کی واردات کا منصوبہ بناسکتاہے۔،چینی ہم منصب سے ملاقات میں پاکستان کے صدرمملکت کے سامنے ان ایشوز کو بھی گفت وشنید میں لایا گیا جن پر ان تمام باتوں کومد نظر رکھتے ہوئے چینی باشندوں اور اقتصادی راہ داری کی سیکیورٹی فوج کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جس کا مقصد چینی انجینئرز اور اس پرواجیکٹ میں کام کرنے والے دونوں ممالک کے مزدوروں کوشدت پسندی کے واقعات سے بچانا مقصود ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خصوصی سیکیورٹی ڈویژ ن کاسربراہ براہ راست جی ایچ کیو کو رپورٹ کرے گا۔جہاں ملک میں دہشت گردی کی بات کی جائے تویہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ چینی صدر شی چنگ پنگ نے جس طرح افواج پاکستان کی صلاحیتوں کی بات کی ہے اور افواج پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ضرب عضب کی تعریف کی، وہ قابل ستائش ہے، چینی صدر کی جانب سے ضرب عضب کو خطے میں گیم چینجر کا لقب دینا بہت بڑا عزاز ہے۔ قارئین کرام !یہ سوال اربوں ڈالر سے بننے والے 47 بڑے معاہدوں کی تکمیل کا ہے اور ایسے مواقع حکومتوں کو بہت کم ملاکرتے ہیں، چین کی شفافیت پر کوئی انکار نہیں، مگر سدھارنا اپنے آپ کو ہے ،چینی صدر کی آمدپر حکومت پاکستان نے اسلام آباد کو بڑے بڑے ہورڈنگز بورڈ، رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجاکر ملک میں امن وامان اور یکجہتی کا پیغام دیا ہے، یوں تو ان تمام منصوبوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے، مگر دونوں ممالک کی زیادہ توجہ اقتصادی کوریڈور پر مرکوز ہے، جس میں گہرے پانیوں والی گوادر بندرگاہ کو چین کے مغربی علاقے سنکیانگ نامی علاقے سے جوڑا جائے گا۔

یہ منصوبہ اقتصادی اور معاشی لحاظ سے اس قدر اہمیت کا حامل ہے جس نے بھارت سمیت کئی ممالک کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔چینی صدر کی جانب سے بھارت کا دورہ بھی کیا گیا ہے اور بہت سے معاہدے بھی کئے گئے ہیں، مگر جس انداز میں چین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس پر بھارتی میڈیانے خوب شور مچایا ہے اورساتھ دونوں ممالک کی شراکت داری کو بھارت کے ساتھ سنگین سازش قراردیاہے ۔جہاں بات توانائی کی جارہی تھی، اس میں توانائی کے غیر معمولی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے پاکستان توانائی کے بحران سے نمٹنے کے قابل ہوجائے گا ۔ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے سولہ ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرسکے گا۔یہ بھی ضروری ہے کہ ان پراجیکٹوں کے فائدے عام پاکستانی، خصوصاً بلوچستان کے شہریوں کو ضرور ملنے چاہئیں۔یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صاحبان اقتدار و اختیار ان پراجیکٹوں سے اپنی جیبیں بھریں۔چین نے پاکستان کو ترقی کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے، مگر اس موقع کو حقیقت بنانے کے لئے بنیادی کردار فیڈرل حکومت نے اداکرنا ہے جس کے لئے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ کرے کہ یہ حکومت ان منصوبوں کو بتدریج احسن اور شفاف طریقے سے پورا کرے۔

پاکستان اور چین کی دوستی میں یہ بات بہت اہم ہے کہ اس دوستی میں صرف حکومتوں کا عمل دخل نہیں ہے، بلکہ یہ رشتہ دونوں ملکوں کے عوام میں رچا ہواہے ،یہی وجہ ہے کہ وہ عوام جو چینی صدر کی آمد سے قبل اس حکومت کو برابھلا کہہ رہے تھے اپنے خاص مہمان کی آمد پر سب کچھ بھلا کر اس کی مہمان نواز ی میں مشغول ہوگئے ۔اسی جذبے کے تحت غیر سرکاری سطح پر پاکستان اور چین نے ایک تھنک ٹینک بھی بنایا گیا ہے جس کا شریک چیئرمین سینیٹرمشاہد حسین سید کو بنایا گیاہے جو ایک نہایت ہی قابل اور مدبر سیاستدان ہیں پاکستان اور چین کو ملانے، یعنی ایک دوسرے کو قریب لانے میں مشاہد حسین سید کا کردارتاریخی اعتبار سے بہت اہم رہا ہے ،ان کاایک تھنک ٹینک پاک چائینہ انسٹیٹیوٹ کے نام سے اسلام آباد میں کام کررہاہے۔ یہ انسٹیٹیوٹ یکم اکتوبر2009ء کو قائم کیا گیا تھا۔ یہ دن تاریخی اعتبار سے پاکستان کے ہمدرر دوست چین کا قومی دن بھی ہے۔مشاہد حسین سید کی جانب سے بنایا گیایہ ادارہ دونوں ممالک میں عوامی سطح پر موثرانداز میں علمی اور سفارتی کام کررہاہے، جس کی وجہ سے قوی امید ہے کہ مشاہد حسین کی ذاتی کاوشوں سے بننے والایہ تھنک ٹینک جس اندا ز میں اپنی ذمہ داریاں نبھارہا ہے، اس کے نتائج حکومت وقت کو اپنے منصوبوں کی تکمیل میں آسانیاں پیدا کرنے کی صورت میں ملیں گے، جس سے پاکستان اور چین کے تعلقات میں مزید بہتر ی کے امکانات روشن ہوں گے ۔

مزید :

کالم -