’افغانستان میں ہم یہ کام کرتے تھے‘ جرمنی پہنچنے والے ہزاروں افغان مہاجرین ایک ہی بات کہنے لگے، یہ کیا کام ہے؟ جان کر یورپی حکام کے ہاتھوں کے بھی طوطے اُڑ گئے کیونکہ۔۔۔

’افغانستان میں ہم یہ کام کرتے تھے‘ جرمنی پہنچنے والے ہزاروں افغان مہاجرین ...
’افغانستان میں ہم یہ کام کرتے تھے‘ جرمنی پہنچنے والے ہزاروں افغان مہاجرین ایک ہی بات کہنے لگے، یہ کیا کام ہے؟ جان کر یورپی حکام کے ہاتھوں کے بھی طوطے اُڑ گئے کیونکہ۔۔۔

  

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ اور افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے میں جرمنی سب سے آگے تھا لیکن اب ہزاروں افغان پناہ گزینوں نے یہ کہہ کر جرمن حکام کے ہوش اڑا دئیے ہیں کہ وہ افغانستان میں طالبان تنظیم کا حصہ تھے۔

ویب سائٹ RTکی رپورٹ کے مطابق 2015ءسے لے کر اب تک ہزاروں افغانیوں نے جرمن فیڈرل آفس فار مائیگریشن اینڈ ریفیوجیز کے حکام کے سامنے دئیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ان کا طالبان سے تعلق رہا ہے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ طالبان کا حصہ رہتے ہوئے مسلح جنگ بھی کرتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق جرمن فیڈرل پراسیکیوٹر آفس نے 70 افغان پناہ گزینوں کے بیانات کی تصدیق کرنے کے بعد قانونی کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ پناہ کی درخواست دینے والے چھ مزید افغانیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن کے خلاف اگلے ہفتے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

چین نے اپنی فوج کو سب سے بڑا حکم دے دیا، اب تک کا سب سے سنگین خطرہ پیدا ہوگیا

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ غالباً یہ پناہ گزین افغانستان واپسی سے بچنے کیلئے یہ دعویٰ کررہے ہوں کہ وہ طالبان کا حصہ رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات مان لی جائے کہ ان کا تعلق طالبان کے ساتھ رہا ہے تو افغانستان واپسی پر ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے، لہٰذا اس صورت میں جرمن حکومت انہیں اپنے ہاں رکھنے پر مجبور ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ جرمن حکومت 12ہزار افغانیوں کو واپس بھیجنے پر غور کررہی تھی۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے پیش نظر یہ ممکن ہے کہ کچھ پناہ گزین جان بوجھ کر غلط بیانی کررہے ہوں تا کہ انہیں واپس نہ بھیجا جائے۔

مزید : بین الاقوامی