دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موبائل فون کے استعمال کو کینسر کا باعث قرار دے دیا گیا، جج نے تہلکہ خیز فیصلہ سنادیا

دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موبائل فون کے استعمال کو کینسر کا باعث قرار دے ...
دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موبائل فون کے استعمال کو کینسر کا باعث قرار دے دیا گیا، جج نے تہلکہ خیز فیصلہ سنادیا

  

روم (مانیٹرنگ ڈیسک) انسانی صحت کیلئے موبائل فون کے بکثرت استعمال کے خطرات کے بارے میں تحقیقی رپورٹیں اور عمومی آراءتو ایک عرصے سے سامنے آتی رہی ہیں لیکن پہلی بار ایک عدالت نے بھی موبائل فون کو کینسر کا سبب قرار دے کر سنگین خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک اطالوی عدالت نے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے موبائل فون کے بکثرت استعمال کو درخواست گزار کے دماغ کی رسولی کا سبب قرار دیا ہے، جو غالباً اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے۔ دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کی نیشنل انشورنس کمپنی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرجانے کے طور پر متاثرہ شخص کو عمر بھر کیلئے مالی امداد فراہم کرے۔

رپورٹ کے مطابق 57 سالہ درخواست گزار رومیو اٹلی کی نیشنل نیٹ ورک ٹیلی کام کمپنی کا ملازم تھا اور اس نے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے تحت 1995ءمیں فون کا استعمال شروع کیا۔ وہ 15 سال تک بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے روزانہ تقریباً 4 گھنٹے کیلئے فون کا استعمال کرتا رہا۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ فون کے مسلسل استعمال کی وجہ سے اس کی سماعت متاثر ہوئی اور بالآخر بائیں کان سے سنائی دینا بند ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ اس کے دماغ میں رسولی بن چکی تھی اور یہ رسولی کافی پھیل چکی تھی۔ اگرچہ اس کا آپریشن کیا گیا لیکن معاملہ پیچیدہ ہوتا چلا گیا اور بالآخر رومیو دائیں کان کی سماعت سے بھی محروم ہوگیا۔

نوجوان لڑکی اپنی موت کے بعد اپنے قاتل کی گرفتاری کا باعث بن گئی، یہ کیسے ممکن ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

عدالت میں رومیو کی درخواست پر طویل سماعت ہوئی جس کے بعد جج نے فیصلہ سنایا کہ موبائل فون کا طویل عرصے تک بکثرت استعمال ہی اس کی رسولی کا سبب بنا تھا، لہٰذا کمپنی کو حکم دیا گیا کہ وہ درخواست گزار کی باقی زندگی کیلئے اسے باقاعدگی سے مالی امداد فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکہ اور برطانیہ کے متعدد نامور سرکاری و غیر سرکاری تحقیقاتی ادارے یہ کہہ چکے ہیں کہ اگرچہ دماغ کی رسولی اور موبائل فون کے بکثرت استعمال کے درمیان کوئی واضح تعلق ثابت نہیں ہوا لیکن اس امکان کو پوری طرح رد بھی نہیں کیا جاسکتا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس