ممبئی میں ہندو غنڈوں کی طرف سے پاکستان دشمنی کی انتہا

ممبئی میں ہندو غنڈوں کی طرف سے پاکستان دشمنی کی انتہا

مودی سرکار نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت کا حکم سنائے جانے کے بعد پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسی میں شدت پیدا کر دی ہے اس کے لئے ہندو غنڈوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ پاکستان دشمنی میں جب،جہاں اور کسی بھی وقت اپنے ’’جوہر‘‘ دکھا سکتے ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال ہفتے کے روز اُس وقت سامنے آئی،جب ممبئی میں انتہا پسند تنظیم نے شاپنگ مال میں ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کو دیکھتے ہی حملہ کر دیا۔تمام پاکستانی مصنوعات کو اتار پھینکا گیا۔ توڑ پھوڑ کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستانی مصنوعات کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ اِس کارروائی کے دوران پولیس موقع پر موجود رہی،لیکن ہندو غنڈوں کو روکنے کی بجائے تماشائی بنی رہی۔ بھارت میں یہ ایک واقعہ نہیں،پاکستان دشمنی کے عملی اظہار اور عدم برداشت کا مظاہرہ آئے روز کہیں نہ کہیں ہوتا رہتا ہے، جس پر نہ صرف پاکستانی وزارتِ خارجہ کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا،بلکہ پاکستان میں مختلف تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کی طرف سے ممبئی طرز کے واقعات کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

ممبئی اور دیگر مقامات پر ہونے والے واقعات میں اہم بات یہ بھی ہے کہ ہندو غنڈے اور انتہا پسند تنظیموں کے رہنما پاکستانی مصنوعات فروخت کرنے والوں کو سنگین نوعیت کی دھمکیاں دیتے ہیں،جس سے تاجر برادری میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔دراصل مودی سرکار اپنے جاسوس کو سزائے موت کا حکم سنائے جانے پر سخت برہم ہے اور برداشت کی حدوں کو پھلانگ کر ایسی کارروائیوں میں مصروف ہے،جس کے ذریعے اشتعال پھیلے اور دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں۔ مودی سرکار کی منفی پالیسی اور عدم برداشت کے باوجود پاکستان کی طرف سے باہمی تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ممبئی میں ہونے والے اشتعال انگیز واقعہ پر حکومتِ پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایسے واقعات سے بھارتی پالیسی اور حکمتِ عملی کی عکاسی ہوتی ہے۔ کسی بھی بات کو بہانہ بنا کرپاکستان دشمنی کو ہَوا دینے کے لئے ہلہ بولنے سے گریز ہی پاک بھارت تعلقات کے لئے بہتر ہے۔ بھارتی حکمتِ عملی سے معاملات بہتری کی طرف نہیں جائیں گے۔ایسے واقعات سے پاکستانی عوام ہی نہیں، دُنیا بھر میں غیر جانبدار اور باہمی احترام پر یقین رکھنے والے حلقوں میں بھی بھارت کے لئے اچھے جذبات اور مثبت پیغام کی گنجائش نہیں رہتی۔ مودی سرکار خود سوچ لے کہ اپنے لئے کانٹے کیوں بو رہی ہے!

مزید : اداریہ