پانامہ کے بعد

پانامہ کے بعد
پانامہ کے بعد

  



پانامہ کیس کا فیصلہ عوام کی بھاری اکثریت کے لئے خلاف توقع نہیں۔ فریقین البتہ اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ پورے بنچ کو متفقہ حکم دینا چاہیے تھا کہ وزیراعظم نااہل ہو گئے۔ حکومت کے حامی اس بات پرناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ 5 رکنی بنچ میں شامل 2 جج صاحبان نے نااہلی کی سزا کیونکر سنا دی۔ جس طرح کی چاہے قانونی موشگافیاں کی جائیں فریقین جو چاہے رائے دیتے پھریں امر واقعہ یہی ہے کہ وزیراعظم آج بھی اپنے عہدے پر براجمان ہیں۔ جن عناصر نے اسٹیبلشمنٹ کے بعد عدلیہ سے امید لگا رکھی تھی کہ وہ وزیراعظم کو چلتا کر دے گی وہ شدید مایوسی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ فی الوقت تو صورتحال یہی ہے کہ حکومت مخالفین نے یکجا ہو کر ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے اور تو اور جناب آصف زرداری ان 3 جج صاحبان پر برس پڑے ہیں جنہوں نے وزیراعظم کو ہٹانے کے اقلیتی فیصلے کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جے آئی ٹی کے معاملے پر اعتراز احسن نے تو سیدھا آئی ایس آئی کے سربراہ پر اعتراض کر دیا ہے ۔ اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کا تسلی بخش جواب دیا ہے پھر بھی معاملے کو الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے تبصرہ کیا ہے کہ آصف علی زرداری کے منہ سے آرٹیکل 62‘63 اور ایمانداری کی باتیں قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ چودھری نثار کی بات میں کتنا وزن ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے کسی گیلپ سروے کی ضرورت نہیں۔ بظاہر دکھائی دے رہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط ثابت کرنے کے لئے تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر زور لگائیں گی مگر یہ بات پورے وثوق سے کہی نہیں جا سکتی۔

کسی احتجاجی مہم کے دوران جمہوریت لپیٹے جانے کا خدشہ پیدا ہوا تو پیپلز پارٹی ’’سلیقے‘‘ سے پیچھے بھی ہٹ سکتی ہے۔ اب بھی کئی باتیں اور واقعات ایسے ہیں کہ جو شکوک پیدا کر رہے ہیں کیا یہ بات نظر انداز کر دینی چاہیے کہ تقریباً پوری کی پوری مسلم لیگ (ن) سندھ کو پیپلز پارٹی کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ نام لکھنے شروع کئے جائیں تو طویل فہرست تیار ہو جائے گی ۔کیا نواز شریف اتنے ہی کمزور وزیراعظم تھے کہ سندھ میں سیاسی اور انتخابی انٹری ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے؟۔ سیاسی تجزیہ کار یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں پھر سندھ میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنی جماعت کو اپنے ہی ہاتھوں لپیٹ کر پیپلز پارٹی کی جانب کیوں دھکیلا۔ اسٹیبلشمنٹ کی دم چھلا فنکشنل لیگ کا تو گویا مکمل کباڑا ہی ہو گیا۔ اس کے تقریباً تمام اہم رہنما پیپلز پارٹی کو پیارے ہو گئے ۔ابھی جمعہ کو اس پارٹی کے واحد گڑھ سمجھے جانے والے سانگھڑ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کر کے اس کا ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جمہوری نظام کو مضبوط اور اس کا تسلسل یقینی بنانے کے لئے صوبہ سندھ عام انتخابات سے سال ڈیڑھ سال قبل ہی پیپلز پارٹی کے حوالے کرنے کا ’’سٹریٹجک ‘‘فیصلہ کر لیا گیا ہو؟رہ گئی تحریک انصاف تو اسے ہر صورت احتجاج ہی کرنا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی عمران خان کو فیصلے کی سمجھ ایک روز بعد آئی۔ عدالتی فیصلہ آتے ہی رس گلے اڑاتے رہے۔ کسی نے تفصیلات سے آگاہ کیا تو اگلے روز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج اور سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران ایک اور پیش رفت بھی ہوئی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق لال حویلی جا پہنچے اور احتجاج کی دھمکیاں دینے لگے۔ دھرنوں کی موجد جماعت ہونے کا کریڈٹ لیتے ہوئے انہوں نے سب کو یاد دلایا کہ مرحوم قاضی حسین احمد کی قیادت میں 1996ء میں دھرنا دیا گیا تھا جس میں ان کے 5 کارکن جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ سراج الحق کو واجپائی کی لاہور آمد پر 1999ء میں کئے جانے والے پرتشدد احتجاج کا بھی ذکر کرنا چاہیے تھا جس میں کئی غیر ملکی سفیروں کی گاڑیاں بھی پتھراؤ کی زد میں آ گئی تھیں اور پورے ملک کا عالمی سطح پر تماشا بنا تھا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جماعت اسلامی کے درویش سربراہ یہ اعتراف بھی کر لیتے کہ ایسے دھرنوں‘ جلسے‘ جلوسوں کے پیچھے ملک کے طاقتور حلقے نہ صرف موجود تھے بلکہ گائیڈ لائن بھی فراہم کرتے رہتے تھے۔ اب کی بار احتجاج میں ایسا نہ ہوا تو کیا ہو گا؟ شاید یہی وہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنا کسی طور آسان نہیں۔ سول حکومت کو چلتا کر دینے کی پچھلی سب سے زور دار تحریک 2014ء کے دھرنے تھے۔ اس وقت لگ رہا تھا کہ شاید حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ پھر یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ دھرنے دلوانے والوں کی غالب اکثریت حکومت کو رخصت کر کے خود اقتدار سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ‘ارادہ حکومت کو کمزور کر کے تابعداری کی حد تک ماتحت رکھنے کا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا 2016ء میں پانامہ کیس کے حوالے سے عمران خان اور طاہر القادری پھر سے میدان میں آئے ‘بڑا سگنل نہ پا کر طاہر القادری تو پتلی گلی سے اپنے اصلی دیس کینیڈا واپس نکل لئے۔ عمران خان کسی کے بہکاوے کا شکار ہو گئے۔

اسلام آباد بند کر کے حکومت کو رخصت کرنے کا دعویٰ ایک بار پھر طمطراق سے کر بیٹھے ‘پھر چشم فلک نے دیکھا کہ حکومتی مشینری حرکت میں آئی۔ خان اعظم بنی گالا سے باہر نہ نکل سکے اور سارا احتجاج ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔ حالات اب بھی نہیں بدلے۔ اب بھی عمران خان کواپنے کئے کرائے پر خود ہی پانی پھیرنا پڑے گا۔ اس وقت سب کو نظر آ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو انتخابی میدان میں شکست دے کر اقتدار میں آنا بہت مشکل ہے۔ سیاسی مخالفین کی یہی پریشانی مایوسی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ تلہ گنگ میں پنجاب اسمبلی کی نشست پر پچھلے ہفتے ہونے والے ضمنی الیکشن میں 2013ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں (ن) لیگ کی لیڈ 7 ہزار سے بڑھ کر 22 ہزار ہو گئی۔ یہ بات نوٹ کئے جانے کے قابل ہے کہ اس الیکشن کے حوالے سے کسی بھی فریق نے ایک ووٹ کی دھاندلی کا بھی الزام نہیں لگایا۔ یہ تمام صورتحال اسٹیبلشمنٹ کے بھی سامنے ہے۔ تاریخ سے تو یہی لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے درمیان محبت اور نفرت کا عجیب و غریب رشتہ ہے۔ کسی حد تک ناپسند ہونے کے باوجود بھی کام انہی سے لینا چاہتے ہیں۔ سیاسی شطرنج پر متحرک ہر مہرے کی ہر طرح کی سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ بعض مہرے صرف چند چالیں چلنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں ان کے ذریعے شہ مات نہیں دی جاتی۔ بہرحال آنے والے دنوں میں گیم پیچیدہ اور دلچسپ ہو سکتی ہے مگر اس کا انحصار اسی پر ہے کہ آخر شاطر کا ارادہ ہے کیا۔ اپوزیشن کی چند جماعتیں اب معاملے کو عدالتوں کے ذریعے طے کرنے پر تیار نظر نہیں آتیں۔ جج صاحبان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر عجیب و غریب ریمارکس دیئے جا رہے ہیں۔ جسٹس کھوسہ کی جانب سے شہرہ آفاق ناول گاڈ فادر کی ایک سطر کو فیصلے کا حصہ بنائے جانے پر قانونی حلقے بھی تنقید کر رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہر خزانے کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے‘‘۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فیصلے میں آئینی اور قانونی حوالوں کا ذکر کیا جاتا ۔ قرآن و سنت کے آفاقی اصولوں اور خلفائے راشدینؓ کے طرز حکمرانی کو بطور نمونہ پیش کر کے تفصیلی فیصلہ جاری کیا جاتا۔ ناولوں اور فلموں کے ڈائیلاگ تو سب جانتے ہیں کہ زیب داستان کیلئے ہوتے ہیں۔ ناول گاڈ فادر کی اس سطر کو مسلمہ اصول کس طرح مانا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا میں ہزاروں‘ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے خالصتاً اپنی محنت اور قسمت کے بل بوتے پر پوری بزنس ایمپائر کھڑی کی۔ دنیا کے سب سے دولت مند شخص بل گیٹس کو ہی دیکھ لیں۔ ایک پائی کی ہیرا پھیری کا شائبہ تک نہیں۔ خود پاکستان میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایسے ڈائیلاگ عدالتوں اور عدالتی فیصلوں میں استعمال ہونے شروع ہو گئے تو پھر کسی مقدمے میں بچ نکلنے والے ملزم کا وکیل یہ بھی کہہ سکتا ہے ’’ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے‘‘ عدالتی فیصلے نے گاڈ فادر کے ڈائیلاگ کا یہ ذکر سیاسی رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے خدشہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے عدلیہ پر بھی تنقید بڑھتی جائے گی ۔بہرطور اس حوالے سے عدالتی ضابطہ اخلاق پر پھر سے غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ شاید مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں شیخ رشید احمد کے پے در پے انٹرویوں اور شگوفوں کا اثر کچھ زیادہ ہی ہو گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالتی فیصلے والے دن بھی شیخ رشید کی اپنی زبان لڑھک گئی اور کہہ ڈالا انشاء اللہ فتح مسلم لیگ (ن) کی ہی ہو گی۔ یہ وہ موقع تھا کہ حکومت کے حامی تو کجا بعض تجزیہ کار بھی چونک گئے کیونکہ ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ فرزند راولپنڈی جو دعویٰ کرتے ہیں نتیجہ اس کے الٹ آتا ہے۔ اب کی بار یہ ریکارڈ ٹوٹ گیاجو کچھ شیخ صاحب غلطی سے کہہ گئے وہی رونما ہو گیا۔ ایک بار پھر سے پوری قوم کی نظریں مستقبل پر جمی ہیں۔ احتجاج ہوتا نظر آ رہا ہے اور اب تو بعض وکلاء تنظیمیں بھی اس میں شامل ہو رہی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ بار نے تو دھمکی دے ڈالی ہے کہ وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو عدلیہ بحالی سے بھی زیادہ بڑی تحریک چلائیں گے ۔یہ الگ بات ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک سے ملک و قوم کا کوئی فائدہ نہ ہو سکا۔ الٹا نقصان ہی ہوا‘ آج نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ وکلاء سائلین کے ساتھ ساتھ سرکاری اہلکاروں بشمول پولیس والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔ مرضی کے فیصلے اور تاریخیں نہ دینے پر ججوں کی بھی چھترول اور لاتوں گھونسوں سے تواضع کی جا رہی ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قوم اور معاشرے کو تو ابھی عدلیہ بحالی کے بد اثرات سے نکلنے کے لئے ٹھوس عزم اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے اوپر سے نئی تحریک کی دھمکی چہ معنی دارد؟۔ احتجاجی تحریک چلی تو حکومت بھی جوابی حکمت عملی تیار کرے گی۔ استعفے کے مطالبے کو سرے سے خارج از امکان قرار دیتے ہوئے حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2018ء میں اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔ اگر مفروضے کے تحت مان بھی لیں نواز شریف وزیراعظم نہیں رہتے تو اس عرصہ میں کیا پی ٹی آئی یا پی پی پی کا وزیراعظم آئے گا؟ یقیناًنہیں ۔لگتا تو کچھ یوں ہی ہے کہ احتجاج اور حکومت دونوں چلتے رہیں گے۔ سودے بازیاں ‘ جوڑ توڑ ‘ ساز باز کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ حکومت میں آنے کی جلدی اپوزیشن خصوصاً تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو ہے حکومت کو جانے کی کوئی جلدی نہیں۔

بعض کم عقل جنرل راحیل کی مسلم ممالک کی مشترکہ فوج کے بطور سربراہ تقرر کو حکومت پاکستان سے سودے بازی کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں ‘جنرل راحیل کو این او سی جاری کرنے سے قبل پارلیمنٹ کو پوچھا تک نہیں گیا۔ پاک فوج بطور ادارہ اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔ اوبامہ دور میں معاملہ مختلف تھا امریکی اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی تھی کہ جنگی ماحول اور دباؤ میں آئی خلیجی ریاستوں کو مشکل سے نکالنے میں پاکستان کوئی کردار ادا کرے۔ اوبامہ بطور صدر کئی مرتبہ سعودی عرب کے خلاف براہ راست بیانات بھی دے چکے تھے۔ یہ امریکی دباؤ ہی تھا کہ پاک فوج کی سعودی عرب روانگی روکنے کے لئے خود اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر پارلیمنٹ سے قرارداد منظور کرائی گئی تھی۔ ٹرمپ کے آنے سے امریکہ کی مڈل ایسٹ پالیسی میں تبدیلی آ گئی ہے۔ موجودہ امریکی صدر سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بجائے ان کا ساتھ دے کر تجارتی تعلقات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ سو اب ہماری اسٹیبلشمنٹ پر اس حوالے سے کوئی دباؤ موجود نہیں۔ ادارے نے فیصلہ کیا حکومت نے جھٹ سے این او سی جاری کر دیا۔

مزید : کالم