دلچسپ سیاسی منظرنامہ!

دلچسپ سیاسی منظرنامہ!
 دلچسپ سیاسی منظرنامہ!

  

سیاسی منظر ہے تو بہت الجھا ہوا تاہم پھر بھی اس میں دلچسپی کے تمام عناصر موجود ہیں۔ آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ لینے کے لئے کیا اپوزیشن کوئی گرینڈ الائنس بنا پائے گی یا نہیں؟یہی دلچسپی کا سب سے بڑا محور ہے جس میں ہر سیاسی رہنما اپنی تمام تر مجبوریوں اور تضادات کے ساتھ موجود ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت ایسے کسی اتحاد کو بننے سے پہلے تتر بتر کر سکتی ہے۔ماضی قریب میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف اس قدرمحاذآرائی کی ہے کہ اب ان کا کسی ایجنڈے پر متحد ہونا خود ان کے لئے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ابھی یہ آثار پیدا ہو ہی رہے تھے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی وزیراعظم ہٹاؤ ایجنڈے پر اتحاد بنا سکتی ہے کہ عمران خان نے دادو کے جلسے میں آصف علی زرداری پر تابڑ توڑ تنقید کر کے ایسے کسی بھی اتحاد کی کمرتوڑ کے رکھ دی۔انہوں نے تو یہ تک کہہ دیاکہ نواز شریف کو جے آئی ٹی تک لے آئے ہیں اب آصف علی زداری کا پیچھا کریں گے۔سو یہ بیل تو اب منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی کہ وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کے لئے عمران اور آصف زرداری ایک میز پر بیٹھ جائیں۔ ادھر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے مل کر پریس کانفرنس کیا کی، توپوں کا رخ ان کی طرف ہو گیا۔ اپنے دور امارت میں سراج الحق دل کھول کر آصف علی زرداری کی کرپشن پر تنقید کرتے رہے ہیں، اب اگر وہ ان کے ساتھ مل کر وزیراعظم کو کرپشن کے الزام میں گھر بھیجنے کی مہم چلاتے ہیں تو قدم قدم پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا عجب صورت حال ہے کہ آج بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا اتحاد ہی فطری نظر آتا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کی مدد بھی کی اور آصف زرداری نے موجودہ لب و لہجہ اختیار کرنے سے پہلے ہمیشہ وزیراعظم نواز شریف کو یقین بھی دلایا کہ وہ پانچ برس پورے کریں گے۔کیا پتہ کہ اب بھی وہ کسی ایسی ہی گیم کے اسباب پیدا کر رہے ہوں کہ ٹی او آر کی طرح وزیراعظم مخالف تحریک کی ڈرائیونگ سیٹ بھی خود سنبھال کر ایک بار پھر سب کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائیں۔

اس وقت زمینی سطح پر بظاہر جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ضروری نہیں کہ وہ سب حقیقت ہو، پاناماکیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ضرور بڑھا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے پاس دلائل کی شدید کمی نظر آ رہی ہے، اس لئے مٹھائیاں بانٹنے کی ترکیب بری طرح ناکام ہونے کے بعد یہ حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔یہ مؤقف اختیار کر کے درحقیقت مسلم لیگ ن ان تمام اعتراضات کا بھرپور جواب دے سکتی ہے،جو کئے جا رہے ہیں اورجن کی وجہ سے وزیراعظم کومستعفی ہونے کے مطالبے کا سامنا ہے۔ اخلاقی دباؤ چاہے کتنا ہی ہو‘ قانونی طور پر وزیراعظم کم از کم دو ماہ کے لئے بالکل محفوظ ہیں۔

سپریم کورٹ نے واضح طور پر اپنے حکم میں ان کی اہلیت کے خلاف کسی بھی فیصلے کو جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مشروط کر کے انہیں کام کی اجازت دیدی ہے۔ اب کیا اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں صرف اخلاقی دباؤ کی بنیاد پر وزیراعظم کو مجبور کر سکتی ہیں کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ یہ کسی او ر معاشرے میں ہوتا ہو تو پتہ نہیں، پاکستان میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں کہ صرف پند ونصائح کی بنیاد پر کسی عام افسر کو بھی گھر بھیجا گیا ہو، یہاں تو معاملہ ملک کے وزیراعظم کا ہے۔ ظاہرہے آج کوئی نوابزادہ نصراللہ خاں جیسی شخصیت تو موجود نہیں کہ ا پوزیشن کو تمام ترتضادات کے باوجود ایک نکتے پر متحد کر سکے۔حتیٰ کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی صدارت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو الائنس کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔اس وقت تو سب اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے رہنما ہیں، جنہوں نے ایک دوسرے کے درمیان الزامات اور نفرتوں کی ہی دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں کہ انہیں ختم بھی کرنا چاہیں تو ختم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ اس لئے پورے سیاسی منظرنامے پر کوئی ایک بھی ایسی غیر جانبدار سیاسی شخصیت نہیں جو اپنی ضمانت پر اپوزیشن کو ایک اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ کر سکے۔

عمران خان ایک بار پہلے یہ غلطی کر چکے ہیں کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے ساتھ ٹی او آر کے مسئلے پر اتحاد کیا، خورشید شاہ کے پیچھے کھڑے ہو کر پریس کانفرنسیں کیں اور ان کا نتیجہ یہ بھگتا کہ آج تک انہیں یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں کو کرپٹ قرار دینے کا مؤقف چھوڑ دیا۔ اس لئے یہ امکان بہت کم ہے کہ وزیراعظم کو ہٹانے کے نکتے پر وہ ایک بار پھر یہی غلطی دہرائیں۔ آصف علی زرداری اگرچہ آج کل بہت بلند آواز میں نواز شریف کو گھر بھیجنے کی باتیں کر رہے ہیں، لیکن آج بھی ان کی باتوں کو نہ تو عوام اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) والے سنجیدگی سے لینے کو تیار ہیں۔ لوگ تو سیاسی لحاظ سے اب بہت سیانے ہیں۔انہیں یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ اب جبکہ آصف علی زرداری کے تمام مطالبات مانے جا چکے ہیں۔ایان علی باہر جا چکی ہے ڈاکٹر عاصم حسین پرواز کرنے والے ہیں، شرجیل میمن آزاد پھر رہے ہیں، پھر وہ کیوں چاہیں گے کہ نواز شریف کو وقت سے پہلے گھر بھیجا جائے؟ یہ کام تو انہوں نے اس وقت نہیں کیا، جب ان کی کوئی بات بھی نہیں مانی جا رہی تھی۔آصف علی زرداری ایک ہی سانس میں یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان نے میاں نواز شریف کو بچانے کے لئے ہم کردار ادا کیا ہے اور ساتھ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ پھر قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی نے پاناماکیس کے حوالے سے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کی، اسمبلی میں کوئی آواز اٹھائی نہ ہی عدالتی جنگ میں کوئی کردار ادا کیا، بلکہ الٹا یہی کہتی رہی کہ عمران خان نے یہ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ لے جا کر پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کی کوشش کی اب اتنے واضح مؤقف کے باوجود پیپلزپارٹی اگر پاناماکیس کا فیصلہ آنے پر اتنا بڑا یوٹرن لے رہی ہے اور وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی دوسری کہانی تو موجود ہے۔

پورے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالنے کے بعد ایک بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ آصف علی زرداری پنجاب میں تحریک انصاف کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر سے خوفزدہ ہیں۔ وہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے لئے جگہ بنانا چاہتے ہیں ،مگر ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کی یہ خواہش ضرور ہو گی کہ کس طرح تحریک انصاف کو پیپلزپارٹی کے قریب لا کر اس کی انفرادی چھاپ کو ختم کیا جا سکے۔ اب بظاہر یہ بہت اچھا موقع ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو ہٹانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر تحریک انصاف کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے،مگر اس میں دو تین بڑی رکاوٹیں ہیں۔ پہلی رکاوٹ تو خود عمران خان ہیں‘ جو اس باریک نکتے کو سمجھ چکے ہیں کہ اگر وہ صرف نواز شریف کو ہٹانے کے لئے پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو عام انتخابات میں ان کے اس مؤقف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا کہ وہ دونوں سیاسی جماعتوں کی کرپشن اور موروثی سیاست کے خلاف ہیں اور عوام کو ایک تیسری سیاسی قوت دے رہے ہیں۔دوسری بڑی رکاوٹ خود پیپلزپارٹی کی پُراسرار پالیسی ہے ۔وہ احتجاجی سیاست کرنا بھی چاہتی ہے اور سڑکوں پر بھی نہیں آنا چاہتی۔ وہ جھنگ جیسے جلسوں کی توروادار ہے، مگر جس قسم کی جارحانہ سیاست عمران خان کرنا چاہتے ہیں اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ظاہر ہے اس قسم کے نیم دلانہ اقدامات سے حکومتیں بدلتی ہیں نہ تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ق) اور شیخ رشید احمد کی عوامی لیگ اتنا دم خم نہیں رکھتیں کہ کسی بڑی تحریک کی بنیاد بن سکیں۔ جماعت اسلامی کے پاس سٹریٹ پاور ہے، لیکن اس کا فطری اتحاد تحریک انصاف کے ساتھ تو بنتا ہے البتہ پیپلزپارٹی کے ساتھ اس کے اتحاد پر بہت سی انگلیاں اٹھ سکتی ہیں۔

تاہم ان تمام حقیقتوں کے باوجود یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سول سوسائٹی جس میں وکلاء کی بعض تنظیمیں قابل ذکر ہیں، ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ لے آئی ہیں۔ اس طرح یہ سب سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے سرخرو ہونے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر انہیں ٹف ٹائم دیں گی ۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میں شاید ہی امن و سکون دیکھنے میں آئے۔ اس وقت پورے سیاسی منظرنامے میں اگر کوئی شخص مختلف چیلنجوں میں گھرا ہوا ہے تو وہ صرف وزیراعظم نواز شریف ہیں۔اگر وہ ان چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کا کرشمہ دکھانے میں کامیاب رہے تو پھر تاریخ انہیں واقعی ایک مرد بحران کے طور پر یاد رکھے گی۔

مزید : کالم