سی پیک سے پاکستانیوں کی زندگی میں بہتری تبدیلی آئی، چائنا ریڈ یو انٹر نیشنل

سی پیک سے پاکستانیوں کی زندگی میں بہتری تبدیلی آئی، چائنا ریڈ یو انٹر نیشنل

  



اسلام آباد (اے پی پی) پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے آغاز کے دو سال بعد پاکستان کے مقامی باشندوں کی زندگیوں میں خاطر خواہ بہتری اور تبدیلی آئی ہے۔ یہ پراجیکٹ چینی حکومت کی ’’ بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘‘ پراجیکٹ کا اہم عنصر ہے جو کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران 2015ء میں باضابطہ طور پر شروع کیا گیا تھا۔ چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اربوں ڈالر کے منصوبہ میں روٹ کے ساتھ ساتھ سنکیانگ میں کاشغر کو جنوب مغربی پاکستان کی بندرگاہ کو ملانے کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ سی پیک پراجیکٹ کے سیکشن کے جنرل مینجر نثار خان نے کہا ہے کہ روٹ کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کاموں میں تیزی آنے سے روزگار کے متعدد مواقع پیدا ہوئے ہیں کیونکہ مقامی باشندے ان میگا پراجیکٹس کی تعمیر کیلئے مہارت یافتہ ہیں جو کہ پلوں، سرنگوں کی تعمیر اور ان منصوبوں میں کام کرنے والوں کے تحفظ کے حوالہ سے بھی ماہر ہیں۔ نثار خان نے کہا کہ انہی مقامی باشندوں کی مہارت کے باعث بہت سی ایسی چیزیں دیکھنے کو ملی ہیں جو کہ چین کی طرف سے پاکستان میں منتقل کی گئی ہیں اور جس سے پاکستانی قوم مستفید ہو رہی ہے۔ گوادر کی بندرگاہ پر سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنے والے 50 سالہ بشیر احمد نے کہا ہے کہ بندرگاہ پر بڑے پیمانے پر ہونے والے تعمیراتی کاموں نے اس کے پانچ بچوں کیلئے بھی روزگار کے مواقع پیدا کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے چینی دوست بڑی محنت سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑا اچھا پرائمری سکول قائم کرنے میں ہماری مدد کی تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں بہتری لاسکیں۔ اب علاقہ بھر میں انجینئرنگ کے تعمیراتی کام جاری ہیں۔ چینی اوورسیز کمپنی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہے اور ان میں کافی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں اسے فری تجارتی زون میں بدلنے کیلئے توسیعی کام بھی شامل ہے جو کہ 2030 میں آپریشنل ہونا ہے۔ ہائی وے کے پراجیکٹ کی قیادت چائنا روڈ اینڈ بریج کارپوریشن کررہی ہے۔ پراجیکٹ سے نہ صرف مقامی ٹریفک میں بہتری آئی ہے بلکہ روٹ کے ساتھ ساتھ 2500 ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ تعمیراتی سائیٹ پر کام کرنے والے کارکنوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں ان دور دراز علاقوں کا سفر کرتے ہوئے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی جبکہ اس سے قبل ہمیں ٹریفک کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

مزید : کامرس