غذائی اجناس کی پیکنگ کے شعبہ میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری مل سکتی ہے

غذائی اجناس کی پیکنگ کے شعبہ میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری مل سکتی ہے

  



اسلام آباد (اے پی پی) ملک میں آئندہ 2 تا 3 سال کے دوران غذائی اجناس کی پیکنگ کے شعبہ میں ایک ارب یورو سے زائدہ کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے جس کے لئے غذائی اجناس کی پراسیسنگ کی صنعت میں استعمال ہونے والے خام مال پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی شرح پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن نے اپنی بجٹ تجاویز برائے مالی سال 2017-18ء میں حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ دودھ اور جوسز کی صنعت آئندہ 5 سال کے دوران 10 گنا تک ترقی کر سکتی ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت پولی مرز، کوٹڈ پیپر بورڈ اور ایلومینیم فوئلز پر عائد ٹیکسز کی شرح میں مناسب حد تک کمی کرے۔ ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے کہا کہ اگر غذائی اجناس کی پراسیسنگ کی صنعت کے پیکنگ میٹریلز میں استعمال ہونے والی مصنوعات پر ٹیکسز میں رعایت دی جائے تو غذائی اجناس کی پیکنگ کے شعبہ ایک ارب یورو سے زائد کی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید : کامرس