معراج مصطفیؐ ۔۔۔۔۔۔عظیم ہستی کا عظیم سفر!

معراج مصطفیؐ ۔۔۔۔۔۔عظیم ہستی کا عظیم سفر!

اللہ کے رسولؐ عشاء کی نماز کے بعد اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ آپ کو مسجد الحرام میں لے جایا گیا، وہاں پر جبریل ؑ نے سرور کائناتؐ کا سینہ مبارک چاک کیا۔ پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ اس کے بعد وہ سونے کا ایک طشت لائے جو ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اسے آپؐ کے سینے میں انڈیل دیا‘ پھر سینہ بند کر دیا۔

پھر رسول اللہؐ کی خدمت میں براق لایا گیا۔ اس کی زین کسی ہوئی تھی اور لگام پڑی ہوئی تھی۔ یہ سفید رنگ کا بڑا خوبصورت جانورتھا‘ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اس کی برق رفتاری کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنا سم وہاں رکھتا تھاجہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی۔

سرور کائناتؐ براق پر سوار ہونے کے لیے ابھی پا بہ رکاب تھے کہ وہ اچانک شوخی کرنے لگا۔ جبریل ؑ نے اس سے کہا: ’’ارے ! کیا تو محمدؐ کے ساتھ شوخی کر رہا ہے؟ تجھ پر کبھی کوئی ایسی ہستی سوار ہی نہیں ہوئی جو اللہ کی بارگاہ میں ان سے زیادہ معزز ہو۔‘‘

یہ سن کر براق ایسا سہما کہ پسینے سے شرابور ہو گیا۔

بیت المقدس میں انبیائے کرام کو اکٹھا کیا گیا اور تمام انبیائے کرام نے رسول اکرمؐ کی امامت میں نماز پڑھی۔ صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان کی امامت کروائی‘‘۔

رسول اللہؐ مسجد اقصی سے نکلے تو جبریل ؑ نے آپ کی خدمت میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کیے۔ آپؐ نے دودھ والا پیالہ اٹھا کر نوش فرما لیا۔ یہ دیکھ کر جبریل ؑ نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا: ’’سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت عطا فرمائی۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔‘‘

اب اِس سے آگے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔ اسے ہم معراج کہتے ہیں۔ اس موقع پر حضرت جبریل ؑ نے رسول اللہؐ کا دست مبارک تھاما اور آپ کو اپنے ساتھ لے کر آسمانِ دنیا پر چڑھ گئے۔ وہاں پہنچ کر جبریل ؑ نے آسمان دنیا کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھٹکھٹایا اور آسمان کے دربان سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے پوچھا: کون ہے؟جبریل ؑ نے جواب دیا: میں جبریل ہوں۔

دربان نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے؟

جبریل ؑ نے کہا: ہاں! میرے ساتھ محمدﷺ ہیں۔دربان نے دریافت کیا: کیا آپ کو انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟جبریل ؑ نے کہا: ہاں۔

یہ سن کر دربان اور دیگر فرشتوں نے بے حد مسرت کا اظہار کیا اور کہا: ’’خوش آمدید! آپ اپنے ہی لوگوں میں تشریف لائے ہیں۔ آنے والے کیا ہی اچھے ہیں۔‘‘

دربان نے دروازہ کھول دیا۔ رسول اللہؐ نے دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے دائیں طرف بھی لوگوں کی جماعتیں موجود ہیں اور بائیں طرف بھی۔ جب وہ اپنے دائیں جانب دیکھتا ہے تو ہنستا ہے اور بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے۔ رسول اللہؐ نے جبریل ؑ سے پوچھا: ’’یہ کون ہیں؟‘‘

جبریل ؑ نے جواب دیا: یہ آپ کے والد آدمؑ ہیں۔ ان کے دائیں اور بائیں جو جماعتیں ہیں، وہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ ان میں سے دائیں طرف والے جنتی اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں۔ جب یہ اپنے دائیں جانب دیکھتے ہیں تو خوش ہو کر ہنستے ہیں اور جب بائیں جانب دیکھتے ہیں تو رنج کے مارے رونے لگتے ہیں۔جبریل ؑ نے رسول اللہؐ سے عرض کیا: آپ انہیں سلام کریں۔ آپؐ نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے آپ کے سلام کا جواب دیا اور کہا:

’’پیارے بیٹے! خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ تم کتنے اچھے بیٹے ہو۔‘‘

’’نیک پیغمبر اور نیک بیٹے کو خوش آمدید!‘‘

اس کے ساتھ ساتھ حضرت آدم ؑ نے آپؐ کے لیے بھلائی کی دعا بھی کی۔

اب جبریل ؑ رسول اللہؐ کو لے کر دوسرے آسمان کی طرف چڑھے وہاں حضرت یحییٰ ؑ اورحضرت عیسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھلائی کی دعا کی۔ پھر تیسرے آسمان پر سیدنا یوسف ؑ سے ملے۔ اسی طرح چوتھے آسمان پر سیدنا ادریس ؑ ‘ پانچویں آسمان پر سیدنا ہارون ؑ ‘ چھٹے آسمان پر سیدنا موسیٰ ؑ اور آخر میں ساتویں آسمان پر جد امجد سیدنا ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی جو بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہر آسمان پر مذکورہ انبیاء کرام نے آپ کا والہانہ استقبال کیا‘ خوش آمدید کہا اور دعا دی۔

سیدنا ابراہیم ؑ آپ کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئے۔ انہوں نے آپ کی امت سے بھی بے پناہ محبت اور ہمدردی و خیر خواہی کا اظہار کیا اور ان کے لیے اپنا سلام اور نہایت بیش قیمت اذکار کے تحفے بھی روانہ کیے۔حضرت ابراہیم ؑ نے آپؐ سے فرمایا: ’’اپنی امت کو حکم دیجیے کہ وہ جنت میں خوب شجرکاری کریں، اس لیے کہ اس کی مٹی عمدہ ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔‘‘

آپؐ نے پوچھا: ’وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّۃِ؟‘ ’’جنت کی شجرکاری کیا ہے؟‘‘ابراہیم ؑ نے جواب دیا: ’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘

رسول اللہؐ نے اس موقع پرحضرت ابراہیم ؑ کا جو حلیہ دیکھا تھا، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:’’ میں نے ابراہیم ؑ کو دیکھا۔ میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہوں۔‘‘

اس کے بعد رسول اللہؐ کو بیت المعمور (آباد گھر) دکھایا گیا: ’’یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔ جب وہ (ایک مرتبہ نماز پڑھ کر) نکلتے ہیں تو پھر کبھی اس میں دوبارہ داخل نہیں ہوتے۔ یہ ان کا آخری داخلہ ہوتا ہے جو ان پر فرض کیا گیا ہے۔‘‘

اس کے بعد اگلی منزل کی طرف روانگی ہوئی۔ جبریل ؑ رسول اللہؐ کو سدرۃ المنتہیٰ لے گئے۔ یہ بیری کا ایک عجیب و غریب درخت تھا۔ اس کا پھل ہَجَر کے مٹکوں کی طرح تھا (جو قدیم بحرین، یعنی سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء کا ایک قصبہ ہے) اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں جیسے تھے۔ جبریل ؑ نے آپ کو اس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:’’یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔‘‘

رسول اللہؐ نے سدرۃ المنتہیٰ پر چار نہریں دیکھیں جو اس کی جڑ سے نکل رہی تھیں۔ ان میں سے دو نہریں پوشیدہ تھیں اور دو نہریں کھلی تھیں۔ آپؐ نے جبریل امین ؑ سے پوچھا: ’’جبریل! یہ دونوں کیا ہیں؟‘‘

جبریل ؑ نے نبیؐ کو بتایا کہ جو دو پوشیدہ نہریں ہیں، وہ جنت میں ہیں اور جو دو کھلی نہریں ہیں، وہ نیل اور فرات ہیں۔

آپؐ فرماتے ہیں: ’’میں نے جبریل کو سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پروں سے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔‘‘

جبریل ؑ کا ایک پر اتنا بڑا تھا جتنا مشرق اور مغرب کا درمیانی فاصلہ ہے۔ان کے پاؤں کے بال حسین و جمیل موتیوں کی طرح تھے، جیسے سبزے پر بارش کی بوندیں پڑی ہوں۔ رسول اللہؐ نے جبریل ؑ کے لباس کے حسن و جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’جبریل میرے پاس ایسے سبز لباس میں آئے جس پر موتی جڑے ہوئے تھے۔‘‘

معراج کے موقع پر رسول اللہؐ کو جنت کا مشاہدہ بھی کرایا گیا۔ رسالت مآبؐ کا ارشاد گرامی ہے:’’پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار تھے اور اس کی مٹی کستوری تھی۔‘‘

سیدنا انسؓ نبی اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ

’’جنت کی سیر کرتے کرتے میں ایک ایسے دریا پر پہنچا جس کے دونوں کنارے خلا دار موتیوں کے قبوں پر مشتمل تھے۔ میں نے جبریل ؑ سے پوچھا: ’’جبریل! یہ کیا ہے؟‘‘ جبریل ؑ نے جواب دیا: یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کی ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں: ’’میں نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی مٹی نہایت خوشبودار کستوری ہے اور اس میں پڑی ہوئی چھوٹی چھوٹی کنکریاں موتی ہیں۔‘‘

سرور کائناتؐ نے جنت کی سیر کے دوران میں جنت کی ایک طرف سے ایک آہٹ سنی۔ آپؐ نے پوچھا:’’جبریل! یہ کیا ہے؟‘‘

جبریل امین ؑ نے بتایا کہ یہ بلالؓ مؤذن کی آواز ہے۔ آپؐ نے معراج سے واپس آکر لوگوں کو اس واقعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’بلال کامیاب ہوگئے۔ میں نے انہیں (جنت میں) ایسے ایسے (انداز میں) دیکھا ہے۔‘‘

سرور کائناتؐ نے اس وحشت ناک جہنم کا بھی مشاہدہ کیا جو اللہ رب العزت نے اپنے نافرمان، سرکش اور باغی بندوں کو عذاب دینے کے لیے تیار کر رکھا ہے۔

رسالت مآبؐ نے ان واعظوں اور خطیبوں کا عبرتناک انجام بھی دیکھا جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔معراج کے موقع پر رسول اللہؐ کی داروغۂ جہنم سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس کا نام مالک ہے۔اس فرشتے کی ہیبت اور رعب و دبدبے کا یہ عالم ہے کہ مضبوط سے مضبوط دل آدمی بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔ وہ شفقت اور رحم کا نام تک نہیں جانتا۔

معراج کے موقع پر سرور کائنات ؐ کو ایک ایسے بلند مقام پر بھی لے جایا گیا جہاں آپ کو قلموں کے چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں،جو اللہ کے فیصلے اور احکام وغیرہ لکھ رہے تھے۔ ان کے لکھنے کی حقیقی کیفیت اور نوعیت کیا تھی؟ اس کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو علم نہیں۔

معراج کے موقع پر سرور کائنات ؐ کو نماز کے علاوہ دو تحفے اور بھی عطا فرمائے گئے۔ یہ دونوں تحفے بھی انتہائی قیمتی اور رفیع الشان ہیں۔ ان میں سے ایک تحفہ سورۃ البقرہ کی آخری آیات ہیں اور دوسرا گرانقدر تحفہ یہ ہے کہ آپؐ کی امت میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گا، اس کے بڑے بڑے گناہ بھی بخش دیے جائیں گے۔

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی ؐ سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوںِ

مزید : ایڈیشن 2