روس پر ایرانی صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام

روس پر ایرانی صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام

  



ماسکو(این این آئی)حال ہی میں تاتارستان کے صدر اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے مذہبی امور سے متعلق خصوصی مندوب رستم مین خانوف کی ایران میں سپریم لیڈر کے مجوزہ صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی سے ملاقات پر ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق روسی عہدیدارکی خامنہ ای کے مندوب اور ان کے متوقع جانشین سے ملاقات کو ایران میں 19 مئی 2017ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے معنوں میں لیا جا رہا ہے۔ تا تارستان کے صدر اور پوتن کے خصوصی مندوب نے تہران میں ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ، ایران کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات بالخصوص ایران کے تاتارستان کے ساتھ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی اصلاح پسندوں کا خیال ہے کہ روس ایران میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں محوری کردار ادا کررہا ہے۔ وہ روس پر’انتخابی انجینیرنگ‘ کی پھبتی کستے ہیں جبکہ ایران کے بنیاد پرست حلقوں کا کہنا ہے کہ ماسکو حسن روحانی اور ان کے گروپ کو تقویت پہنچا رہا ہے۔ اس کی وجہ حسن روحانی اور روس کے درمیان تعلقات ہیں۔

گارڈین کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے گذشتہ برس دسمبر میں ایک مضمون میں روس کی ایران میں مداخلت کا اعتراف کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی خفیہ ادارے ایران میں مداخلت کررہے ہیں یہ مداخلت مئی 2017ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران زیادہ تیز ہوسکتی ہے۔محسن رضائی نے خبردار کیا کہ ایران میں بہت سے سیاسی حلقے روسی مداخلت اور انٹیلی جنس اداروں کے اثرو نفوذ سے فایدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ روسی خفیہ ادارے ایران میں اپنی مرضی کا صدارتی امیدوار لانے کے لییایران میں داخلت کریں اور اسے کامیاب بنانے کے لیے بھی اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔دوسری جانب روس نے ایران میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام یکسر مسترد کردیا ہے۔

مزید : عالمی منظر