پنجاب حکومت کا پولیس آرڈر 2002پر عملدرآمد کی بجائے ترمیم کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا پولیس آرڈر 2002پر عملدرآمد کی بجائے ترمیم کرنے کا فیصلہ

  



لاہور(جنرل رپورٹر): پنجاب حکومت کا پولیس آرڈر 2002 پر عملدرآمد کی بجائے ترمیم کرنے کا فیصلہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی سربراہی میں انسپکٹرویٹ ہیڈ کوارٹر بنانے اور آئی جی پنجاب کی تعیناتی کیلئے تین نام وفاقی حکومت کو بھیجنے کی قانونی شک ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔واضح رہے کہ پولیس آرڈر 2002 پرعمل درآمد نہ ہونے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 مئی کو جواب طلب کر رکھا ہے۔ حکومت نے معاملہ ہائیکورٹ میں آنے کے بعد پولیس آرڈر 2002 پر عملدرآمد کرنے کی بجائے اس میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس کو قابو کرنے کیلئے پولیس آرڈر 2002 میں متعدد ترمیم کی جائیں گی۔ صوبائی حکومت نے اپنا من پسند آئی جی تعینات کرنے کیلئے تمام قانونی رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی جی کی تعیناتی کیلئے وفاقی حکومت کو تین افسروں کے نام بھجوانے کی قانونی شرط ختم کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس افسران کے تبادلوں کیلئے تین سال کی مدت کی قانونی شرط بھی ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہیجبکہ برطانیہ پولیس کی طرز پر پنجاب پولیس کی کارکردگی کی ماںیٹرینگ کیلئے انسپکٹرویٹ بنایا جائے گا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اسکے سربراہ ہوں گے۔ذرائع کا کہنا تھاکہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء4 اللہ کی سربراہی میں پولیس آرڈر 2002 میں ترامیم کیلئے اعلی سطحی کمیٹی کے چار اجلاس ہوچکے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں گزشتہ روز اجلاس ہوا جس میں اعلی سطحی کمیٹی کے ارکان ایڈیشنل سیکرٹری ہوم، آئی جی پنجاب، سیکرٹری پراسیکویشن، سابق ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث، ڈاکٹر اسامہ، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل امجد رفیق شامل تھے۔اجلاس میں پولیس کمپلینٹ اتھارٹی، پنجاب پبلک سیفٹی کمیشن اور پولیس آرڈر 2002 کی کئی شقوں میں ترمیم پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت پولیس آرڈر 2002 پر عملدرآمد نہ کرنے کے کیس میں 3 مئی کو جواب داخل کرائے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1