’’جس پر احسان کرو ۔۔۔‘‘

’’جس پر احسان کرو ۔۔۔‘‘
 ’’جس پر احسان کرو ۔۔۔‘‘

  



لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چودھری ذوالفقار اور دیگر عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس میں وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ اگر وہ سات یوم کے اندر مستعفی نہ ہوئے تو عدلیہ بحالی سے بڑی تحریک چلائی جائے گی، وکلاء کا مُلک گیر کنونشن بھی ہو گا ار آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔ چودھری ذوالفقار کا تعلق وکلاء کے اس دھڑے سے ہے، جس کی قیادت حامد خان کرتے ہیں، اس گروپ کو پروفیشنل گروپ کے نام سے پکارا جاتا ہے، میں نہیں جانتا کہ ایک آئینی اورمنتخب حکمران پر، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کو تحفظات کے باوجود قبول کرنے کا اعلان کر رہا ہے، مستعفی ہونے کے لئے دباؤ ڈالنا کس حد تک آئینی، قانونی اور پروفیشنل ہے اور شائد انہیں وہ دن بھول گئے ہیں جب یہی پروفیشنل گروپ ایک آمر کے ہاتھوں اپنے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کوعہدے سے ہٹانے پر سڑکوں پر تھا، وکلاء تحریک ہر جمعرات کو ایک جلوس نکالنے تک محدود تھی اور پھر اسی سیاست دان نے اپنا تمام وزن وکلاء کی تحریک کے پلڑے میں ڈال کر انہیں جتوا دیا تھا جسے اب وہ دھمکیاں دے رہے ہیں۔

میں یہ بھی جانتا ہوں کہ سیاست میں تعلقات اور اخلاقیات سے کہیں زیادہ مفادات ہوتے ہیں، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور پاناما مقدمے میں اپنے لیڈر کی وکالت کرنے والے حامد خان کا ساتھ اگر نواز شریف نے دیا تھا تو اس میں ان کے اپنے سیاسی مفادات بھی تھے، نواز شریف بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کو زچ کرنا چاہتے تھے جس میں وہ کامیاب بھی رہے لیکن کیا حامد خان اس امر سے انکا رکر سکتے ہیں کہ جہاں چیف جسٹس کی بحالی والی تحریک کی تاریخی کامیابی کا پوراکریڈٹ ان کا گروپ لیتا ہے وہاں انہیں یہ امر بھی مان لینا چاہئے کہ اگر نواز شریف اس تحریک میں باہر نہ نکلتے تو وہ سڑکوں پر جوتیاں چٹخاتے ہی رہ جاتے۔ یہ بات تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ خود حامد خان کے محترم قائد عمران خان اس لانگ مارچ کے موقعے پر غائب ہو گئے تھے۔

مجھے وہ دن یاد آ رہا ہے جب ایک کارکن صحافی کے طور پر میں ماڈل ٹاؤن میں میاں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر موجود تھا۔ اس رہائش گاہ کے باہر مشرقی اور مغربی سمت ہی سڑک بند نہیں تھی، بلکہ اس سے باہر فیروز پور روڈ کو بھی کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ نواز شریف اپنے اعلان کردہ لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے لئے گھر سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ گھر کے باہر گرین ایریا میں کارکنوں کے لئے قناتیں لگا کر بیٹھے کا انتظام کیا گیا تھا جو انتہائی دانش مندی سے بنی ہوئی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ ظہر کی نماز کے بعد180 ایچ ماڈل ٹاؤن کے گیٹ اچانک کھلے تھے اور وہاں سے گاڑیوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ نمودار ہوا تھا۔ وہ گاڑیاں مشرق یا مغرب کی طرف جانے کی بجائے تیزی سے سامنے لگی ان قناتوں کے اندر گھس گئی تھیں،جن میں سے کرسیوں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے دوسری طرف نکلنے کے لئے راستہ پہلے ہی بنا دیا گیا تھا۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا معرض وجود میںآ چکا تھا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی کہ نوازشریف لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے لئے اپنے اس گھر سے باہر نکل آئے ہیں، جس کا پولیس نے ایک قلعے کی طرح محاصرہ کر رکھا تھا۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر (مرحوم)نے اپنے راج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پنجاب میں لاہوریوں کے پسندیدہ، مگر جان لیوا تہوار بسنت کا بھی اعلان کر رکھا تھا تاکہ لاہوری پتنگیں اڑاتے رہیں اور اس لانگ مارچ کا حصہ نہ بنیں، مگر چند ہی منٹوں کے اندر ماڈل ٹاؤن پارک کے ساتھ ساتھ ماڈل ٹاؤن موڑ کی طرف جانے والے سڑک ہزاروں انسانی سروں سے بھر چکی تھی جو نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ مسلم لیگیوں کے قائد نے ایک ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔ جب یہ قافلہ کلمہ چوک پہنچا تو وہاں پڑے ہوئے بڑے بڑے کنٹینر مسلم لیگی کارکنوں کے سامنے نہ ٹھہرسکے، وہ الٹا اور گرا دیئے گئے۔میں ایک گاڑی کی چھت پر سوار تھا اور مجھے فیروز پور روڈ پر انسانوں کا سمندر نظر آ رہا تھا۔ قافلہ آہستہ آہستہ قذافی سٹیڈیم، مسلم ٹاؤن، رحمانپورہ، اچھرہ، شمع ، مزنگ چونگی سے ہوتا ہوا ہائی کورٹ کی عمارت کی طرف بڑھ رہا تھا اور چند کلومیٹر سفر کا یہ مرحلہ مغرب تک ہی مکمل ہو سکا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے مال روڈ کا چوک اس قافلے کا پہلا پڑاو تھا، کیونکہ نواز شریف اپنی کوئی علیحدہ تحریک نہیں چلا رہے تھے، بلکہ وہ وکلاء تحریک کا حصہ بن رہے تھے،یہ وکلاء تحریک چاہتی تھی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کر دیا جائے، کیونکہ جو دھڑا یہ تحریک چلا رہا تھا اچھی طرح جانتا تھا کہ افتخار چودھری کی بحالی کی صورت میں ان بہت سارے وکیلوں کے بھی جج بننے کی راہ ہموار ہو جائے گی جو ان کے چیمبروں سے تعلق رکھتے ہیں، پھر وہاں میرٹ اور صلاحیت بے معنی اور اضافی ہوجانے تھے مگر پاکستان کی سول سوسائٹی کے سامنے صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ایک آمر کی طرف سے برطرف کئے گئے عدلیہ کے سربراہ کو اس کی سیٹ پر واپس بٹھا دیا جائے۔

میں دوبارہ وکلاء کے اسی دھڑے کی طرف آتا ہوں جس نے میاں نواز شریف کے استعفے کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے ۔ وکلاء ہم جیسے عام لوگوں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے میں دائر کئے گئے مقدمے کے پیچھے اصل نیت کیا ہے اور شائد وکلاء کے ایک گروپ کے لیڈر اسی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں جس میں ان کا رہنما قانونی طور پر ناکام ہو گیا ہے۔ بہرحال میاں نواز شریف کا یہ قافلہ جب لاہور ہائی کورٹ پہنچتا ہے تو پروگرام کے مطابق وہاں سے وکیلوں نے ساتھ چلنا ہوتا ہے۔ میاں نواز شریف کے قافلے کے پہنچنے سے پہلے کچھ وکلاء، مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کی پولیس کے ساتھ ایک بڑی جھڑپ ہو چکی ہوتی ہے اور وہاں مسلم لیگی قافلہ تو موجود ہوتا ہے،مگر وہاں اس وکلا گروپ کے رہنما بالکل اسی طرح نظر نہیں آتے جس طرح ان کے لیڈروں کا لیڈر غائب ہو جاتا ہے۔ وکیلوں کا ایک رہنما مجھے بتاتا ہے کہ وکلاء کے اس گروپ کی طرف سے لانگ مارچ کی ناقص منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اسلام آباد جانے اور وہاں دھرنا دینے کے اعلان کے باوجود بسیں تک کرائے پر نہیں لیں اورجو وکلاء صبح یہاں لانگ مارچ میں شریک ہونے کے لئے پہنچے تھے ان میں کچھ پولیس کی طرف سے کی گئی ماردھاڑ اور کچھ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے تتر بتر ہو چکے ہیں۔ وکلاء کا لانگ مارچ ااس کے بعد عملی طور پر مسلم لیگ (ن) کا لانگ مارچ بن جاتا ہے۔ میاں نواز شریف کافی دیر تک وکلاء اور ان کے رہنماؤں کا انتظار کرتے ہیں اوراس کے بعد قافلہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ شاہدرہ میں مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی ملک ریاض کے گھرپر رات کا کھانا کھاتے اور کچھ دیر قیام کرتے ہیں۔ رات بھیگنے پر قافلہ آگے بڑھتا ہے اور صبح کے قریب گوجرانوالہ پہنچتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کی حکومت دونوں نواز شریف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔واضح ہے کہ اگر نوا ز شریف نہ نکلتے تو وکلاٗ تحریک اسی وقت ٹھس ہو کے رہ جاتی، مگر پروفیشنل گروپ ناچتا کودتا اگلے روز منظر عام پر آتا ہے،وہ کامیابی کے کریڈٹ کا کچھ حصہ بھی اس وکلاء کے اس گروپ کو بھی نہیں دیتا جس میں اعتزاز احسن شامل ہوتے ہیں ، اعتزاز احسن نواز شریف کی گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں۔

میں نے ہمیشہ وکلاء کی طرف سے پولیس سمیت تمام اداروں کے اہلکاروں کو پھینٹی لگانے ہی نہیں بلکہ ججوں کو ان کی عدالتوں میں برا بھلا کہنے کے بعد تالے لگا کر بند کرنے کو بھی کچھ افراد کا ذاتی فعل کہا اور سمجھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر وکلا کو ٹیکس ادانہ کرنے والی سب سے بڑی برادری سمجھا جاتا ہے تو اس میں بھی انہیں بطور کمیونٹی الزام دینے کی بجائے ٹیکس چوروں کی انفرادی حیثیت میں گوشمالی ہونی چاہئے، مگر جب ان کے منتخب نمائندے ناکام سیاسی جماعتوں کے کارندے اور ہرکارے بننے کی کوشش کرتے ہیں، جنہیں ابھی حال ہی میں ملک کی سب سے بڑی قانونی ہی نہیں،بلکہ تلہ گنگ میں لگنے والی عوامی عدالت میں ماضی کی نسبت تین گنا ووٹوں سے شکست ہوئی ہے تومیں سوچتا ہوں کہ آج سے صدیوں پہلے علم کے شہر کے دروازے سے منسوب قول بالکل درست ہے کہ تم جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔ پروفیشنل گروپ مجھے یہاں ان سے الگ نہیں لگتا،جنہوں نے اپنی والدہ کے نام پر ہسپتال کی زمین لی یا جنہوں نے ماڈل ٹاؤن کی مسجد سے اپنی دکانداری چمکائی اور پھر دشمنی کی ہر حد پار کر گئے۔

شہرِ یاراں

مزید : کالم