تپڑ ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر!

تپڑ ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر!
 تپڑ ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر!

  



ٹرک کی بتی جل چکی ہے، بس اب جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو اس کے پیچھے لگنا ہے۔ پیپلز پارٹی تو پہلے ہی سے یہ معاملہ کورٹ میں لے جانے کے خلاف تھی اور اب جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے بھی خلاف ہے، کیونکہ اس کے خیال میں یہ ٹیم بھی حکومت کے ماتحت محکموں اور نیم اکتائے حساس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ہو گی، جبکہ تحریکِ انصاف فیصلہ آنے کے پہلے دن مٹھائی کھانے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ جے آئی ٹی سوائے اپنا اور عدالت کا وقت ضائع کرنے کے کچھ نہیں کر پائے گی۔۔۔بظاہر اب جے آئی ٹی کے صرف دو حامی دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک سپریم کورٹ اور دوسری مسلم لیگ(ن) حکومت۔

سپریم کورٹ کو امید ہے کہ یہ ٹیم دو ماہ میں ان تیرہ ٹیکنیکل سوالوں کے جوابات حاصل کر لے گی جو عدالتِ عظمی کو چار ماہ کی سماعت میں بھی نہ مل سکے۔ نواز حکومت اس لئے جے آئی ٹی کی حامی ہے کہ ٹیم ایسا کیا نیا اکھاڑ لے گی جو پہلے سے نہیں معلوم۔حکومت کو اچھے سے معلوم ہے کہ جے آئی ٹی کو کچھ نیا معلوم کرنے کے لئے بیرونِ پاکستان موجود ریکارڈ چھاننے کی ضرورت ہو گی، مگر قطر میں اب اس ٹیم کے لئے کچھ نہیں رکھا۔ قطری کوئی نیا خط دینے کے بجائے پندرہ ارب ڈالر کی ایل این جی دینا زیادہ پسند کریں گے۔ متحدہ عرب امارات والے یہ تو بتا سکتے ہیں کہ میاں محمد شریف مرحوم کی گلف سٹیل مل کہاں پر تھی، مگر اس کے بعد کس نے کس کو بیچ کر پیسہ کس طرح کہاں پہنچایا، یہ آپ بڑے میاں صاحب یا ان کے ورثا سے معلوم کریں تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔تو کیا میاں نواز شریف کے سابق میزبان سعودی جے آئی ٹی کو بتائیں گے کہ جدہ سٹیل مل کیسے بنی؟ وہ تو یہ بتانے کو بھی تیار نہیں کہ انہوں نے میاں صاحب کو اقتدار میں آتے ہی ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم کا تحفہ کس خوشی میں دیا۔ کیا یہ بیعانہ تھا جس کی پہلی قسط راحیل شریف کی شکل میں لوٹائی گئی ہے؟

ظاہر ہے کہ جے آئی ٹی کو دنیا کی نو ٹیکس جنتوں میں قائم آف شور کمپنیوں کے اوریجنل ریکارڈ تک رسائی بھی درکار ہوگی، مگر ان میں سے سات ٹیکس جنتوں کا ریکارڈ اگلے برس جولائی سے پہلے نہیں مل سکتا،کیونکہ یہ ٹیکس جنتیں ایک سو نو ممالک پر مشتمل ٹیکسوں اور بینک کھاتوں کی معلومات کے تبادلے کے جس کنونشن کی رکن ہیں، اس کنونشن میں پاکستان اسی ماہ شامل ہوا ہے اور کنونشن کے ضوابط کے تحت دیگر رکن ممالک سے معلومات کا تبادلہ ایک سال سے پہلے ممکن نہیں۔ پاناما کا غبارہ پھٹنے کے بعد سنٹرل بورڈ آف ریونیو نے نو ٹیکس جنتوں میں قائم444پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں دستاویزی معلومات کے حصول کے لئے گزشتہ اکتوبر میں جو خطوط لکھے،ان کا صرف ایک جواب سمووآ کی حکومت کی جانب سے آیا اور وہ یہ ہے کہ ہم آپ کو معلومات فراہم نہیں کرسکتے، کیونکہ ہمارا آپ سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں۔اگر آج حکومتِ پاکستان کا نو ٹیکس جنتوں سے دو طرفہ معاہدہ ہو بھی جائے تب بھی جو معلومات جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو درکار ہیں وہ کم از کم ٹیم کی مدتِ حیات، یعنی ساٹھ دن میں تو ملنے سے رہیں۔بدقسمتی سے ٹیم کے پاس الٰہ دین کا چراغ بھی نہیں اور چراغ ہو بھی تو کسی کام کا نہیں، کیونکہ آج کل الٰہ دین کا جن سی پیک کے منصوبوں میں اس بری طرح مصروف ہے کہ اس کے پاس نیا آرڈر لینے کا بھی ٹائم نہیں۔اس کا مطلب کیا ہوا ؟ مطلب یہ ہوا کہ قانونی طور پر تو تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور سیاسی اخلاقیات میرا دردِ سر نہیں۔ ایجی ٹیشن کا تپڑ ہے تو آ جاؤ:

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ ’’دھرنے‘‘ میرے آزمائے ہوئے ہیں

ایجی ٹیشن کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ کم ازکم پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف ایک پیج پر ہوں، مگر یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ کل ہی دادو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’نواز شریف تو بری طرح پھنس گیا‘اب میں دوسرے کرپٹ ترین انسان آصف علی زرداری کے پیچھے آ رہا ہوں‘‘۔۔۔ گویا:

وہ جو تعمیر ہونے والی تھی

لگ گئی آگ اس عمارت میں

( جون ایلیا )

اب رہے عوام جو اس کرپٹ سسٹم کے سب سے بڑے شکار ہیں تو وہ کس کے حق میں کس توقع پر باہر نکلیں ؟ ویسے بھی الیکشن کا سال شروع ہو چکا ہے۔ نواز شریف کیلنڈر کی طرف دیکھ رہا ہے، آصف علی زرداری موقع دیکھ رہا ہے، عمران خود کو دیکھ رہا ہے اور عمران کو سب دیکھ رہے ہیں۔ پیچھے کہیں سپریم کورٹ بھی کھڑی ہے۔

آسمان تلے زبردست اتھل پتھل ہے، حالات بہترین ہیں ( ماؤزے تنگ )۔

مزید : کالم