4جماعتی اتحاد کی شجاعت حسین کی سربراہی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے کی منظوری

4جماعتی اتحاد کی شجاعت حسین کی سربراہی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے کی ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ ق، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین اور پاکستان عوامی تحریک پر مشتمل 4جماعتی اتحاد نے چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں پانامہ کے ایشو پر گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی بھی شریک تھے۔ اجلاس میں 6نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں وکلاء تحریک کی بھرپور حمایت اور جے آئی ٹی کی 15 روزہ کارکردگی رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پانامہ فیصلہ کی روح کے مطابق وزیراعظم ایک ملزم کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں اداروں کے عدم تعاون کی صورتحال میں جے آئی ٹی کو وزیراعظم کے غیر ضروری اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنے کیلئے وزیراعظم نوازشریف کا مستعفی ہونا ضروری ہے تاکہ اس جے آئی ٹی کی فائنل رپورٹ کا انجام بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی جیسا نہ ہو جائے، سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی 15 روزہ دی جانے والی رپورٹ کو پبلک کیا جائے، ہائیکورٹ کے جج باقر نجفی صاحب کی سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کو فی الفور شائع کیا جائے، چار جماعتی اتحاد نے چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں پانامہ ایشو پر گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری دیتے ہوئے دوسری اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کیلئے کہا اور طارق بشیر چیمہ، خرم نواز گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، علامہ راجہ ناصر عباس پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی، یہ اجلاس وکلاء تنظیموں کے تحریک کے اعلان کی پرزور حمایت کرتا ہے۔ اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا، ایس ایم ظفر، طارق بشیر چیمہ، چودھری ظہیرالدین، محمد بشارت راجہ، ڈاکٹر خالد رانجھا، ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی، میاں منیر، شیخ عمر حیات، شاداب جعفری، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر بشارت جسپال، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا، مجلس وحدت المسلمین کے راجہ ناصر اور اسد عباس نقوی بھی شریک تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق اور چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ میں سے کسی نے وزیراعظم نوازشریف کو صادق و امین قرار نہیں دیا، وہ جے آئی ٹی میں پیشی سے قبل استعفیٰ دیں، چیف جسٹس آف پاکستان جے آئی ٹی کی شفافیت کو یقینی بنائیں اور جے آئی ٹی کی ہر 15 روزہ کارکردگی رپورٹ پبلک کی جائے۔ وہ یہاں رہائش گاہ پر جماعت اسلامی کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ امیر جماعت اسلامی کا ڈاکٹر فرید پراچہ، میاں مقصود احمد، ڈاکٹر وسیم اختر، اصغر گجر اور قیصر شریف کے ہمراہ آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کی ملاقات میں طارق بشیر چیمہ، سینیٹر کامل علی آغا، ایس ایم ظفر، ڈاکٹر خالد رانجھا، محمد بشارت راجہ، چودھری ظہیرالدین، ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی اور میاں منیر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے دو، دو سینئر وکلاء پر مشتمل 4 رکنی ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا جو جے آئی ٹی کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرے گی، پانامہ کے ایشو پر گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دینے کیلئے چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں اعلیٰ رہنماؤں کا وفد پیر کو منصورہ جائے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے سراج الحق اور دیگر رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اختلافات بھلا دینے چاہئیں، نوازشریف کو پہلے ہی مستعفی ہو جانا چاہئے تھا، تمام ججوں نے دراصل ایک ہی فیصلہ دیا ہے، ہماری امیر جماعت اسلامی سے ملاقات بہت مفید رہی۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اتحاد کے ایجنڈا پر کسی کو اختلاف نہیں، تمام جماعتیں کرپشن کے خلاف متفق اور اتحاد بنانے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ حکمران ڈھول اور مٹھائیاں ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں، پورا فیصلہ سنا نہیں اور ڈھول بجا دئیے مٹھائی تقسیم کر دی، جب فیصلہ پڑھا تو ڈھول، مٹھائیاں اور قوم سے خطاب سب غائب ہو گئے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پانامہ کیس پر اپوزیشن کے مشترکہ ٹی او آر کی تشکیل میں چودھری پرویزالٰہی، طارق بشیر چیمہ اور کامل علی آغا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں آمد پر پاکستان کے سینئر ترین سیاستدان چودھری شجاعت حسین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ام المسائل ہے، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کے وکلا کی مشترکہ ٹیم کا اعلان جلد ہو گا، جے آئی ٹی دہشت گردوں کے خلاف بنائی جاتی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو ملزم قرار دیتے ہوئے انہیں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کو کہا ہے۔

اتحاد

مزید : صفحہ اول