وزیر اعظم کے استعفے کیلئے تحریک چلانے کا اعلان جذباتی اور بچگانہ ہے

وزیر اعظم کے استعفے کیلئے تحریک چلانے کا اعلان جذباتی اور بچگانہ ہے

لاہور،اسلام آباد(صباح نیوز)پانامہ کیس کے عدالت عظمی کے فیصلے پر وکلا تنظیمیں بھی تقسیم کا شکار ہو گئیں لاہور ہائیکورٹ بار نے وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل نے نوازشریف کے استعفے کیلئے تحریک چلانے کے اعلان کو جذباتی اور بچگانہ قرار دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پانامہ کیس کے عدالت عظمی کے فیصلے پر وکلا تنظیمیں بھی تقسیم کا شکار ہو گئیں لاہور ہائیکورٹ بار نے وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل نے نوازشریف کے استعفے کیلئے تحریک چلانے کے اعلان کو جذباتی اور بچگانہ قرار دیا ہے اس حوالے سے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عہدے کا اخلاقی جواز بھلے ہی کھو چکے ہیں لیکن قانونی طور پر وہ وزیر اعظم ہیں،انکے استعفے کا مطالبہ جذباتی اور بچگانہ ہے،کسی بھی اقدام سے قبل وکلا کوجے آئی ٹی کی تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے ادھر سپریم کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری آفتاب باجوہ نے بھی لاہور ہائیکورٹ بار کے اعلان سے لاتعلقی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کو وکلا کا کنونشن بلا کر معاملے پر مشاورت کرنی چاہیے ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ بار کا مطالبہ ذاتی ہے ، سپریم کورٹ بار تمام وکلا اور بارز ایسوسی ایشنز سے مشاورت کے بغیر اسکا حصہ نہیں بنے گی۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر عارف چوہدری نے بھی وزیراعظم کے خلاف تحریک کو مسترد کرتے ہوئے تمام ایگزیکٹو کمیٹی ممبران سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وکلاء

مزید : صفحہ اول