پانامہ کیس پر عدالتی فیصلہ

پانامہ کیس پر عدالتی فیصلہ
 پانامہ کیس پر عدالتی فیصلہ

  



پانامہ کیس کا فیصلہ آنے پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف دونوں ہی خود کو فاتح قرار دے رہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی فتح تو سمجھ میں آتی ہے کہ عدالت عظمیٰ نے پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا اور الزامات کی تصدیق کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم صادر کیا ہے جو وزیر اعظم اور اُن کے خاندان کے افراد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفتیش کرے گی اور ثبوتوں کے ساتھ رپورٹ عدالت عُظمٰی میں پیش کی جائے گی۔ رپورٹ ملنے پر چیف جسٹس آف پاکستان ازسر نو بینچ تشکیل دیں گے جو جے آئی ٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے کر فیصلہ دے گا ۔ میرے ذاتی خیال کے مطابق پانامہ کیس پر فیصلہ تا حال تو وزیر اعظم اور اُن کے خاندان کے حق میں جاتا ہے اور فریق دوئم کا خوشیاں منانا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ کمیشن یا جے آئی ٹی بنانے کی آفر تو وزیر اعظم نے پانامہ کا معاملہ شروع ہوتے ہی کی تھی اور کہا تھا کہ عدالت عظمٰی کی سربراہی میں کمیشن یا جے آئی ٹی بنا دی جائے جو اس کیس کی مکمل تحقیقات کرے اور وزیر اعظم اس کمیشن یا جے آئی ٹی کی رپورٹ پر فیصلہ بھی قبول کریں گے۔ گو یا بات وہیں پر آگئی جہاں سے شروع ہوئی تھی اور عدالت عظمیٰ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے قیام کا فیصلہ صادر کیا ۔ وزیر اعظم کی نااہلی کی اُمیدیں لگائے بیٹھے پا کستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان،شیخ رشید اور سینیٹر سراج الحق کی درخواستیں عدالت عظمٰی نے مسترد کر دیں ۔

پانامہ کیس کاجائزہ لیں تو درخواست گزار عدالت کو ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ عدالتوں کیلئے آئین اور قانون نے فیصلے کرنے کیلئے حدیں مقرر کر رکھی ہیں۔ عدالتیں فیصلے حقائق اور ثبوتوں کو مد نظر رکھ کر کرتی ہیں اور یہ ثبوت ریکارڈ پر بھی موجود ہونے چاہییں ۔ قیاس آرائیاں اور اندازے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ عدالت عُظمٰی نے خود اپنے پانامہ کیس فیصلے میں بھی لکھا ہے کہ درخواست گزار عدالت کو وہ ثبوت فراہم نہ کر سکے جن کی بنا پر عدالت وزیر اعظم کو نااہل قراردیتی۔ عدالتی فیصلہ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ سیاسی جوش و جذبہ، سیاسی واقعات، عوام میں مقبول جذبات اور تدابیر کسی کو گمراہ تو کرسکتی ہیں لیکن عدالت پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں ۔جج صاحبان کو آئین اور قانون کا سہارا لینا ہوتا ہے جب تک ان میں ترمیم نہیں ہوتی یا تبدیلی نہیں لائی جاتی ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 62اور 63کا اطلاق اور وزیر اعظم کی نا اہلی الیکشن کمیشن آف پاکستان'سپیکر قومی اسمبلی کا کام ہے۔ اگر کسی کے خلاف شکایات ہیں تو سب سے پہلے ریٹرنگ آفیسر نے کاغذات چیک کرنے ہوتے ہیں جو کسی کے صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں 'اور سوال اگر ممبر پارلیمنٹ کی نااہلی کا ہو تو یہ فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی کر سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ وزیر اعظم کی تقریروں بیانات اور حسن نواز اور حسین نوازکے بیانات میں تضاد نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا مواد موجود ہے جِس کی بنا پر ان تقریروں اور بیانات کو اُن کے خلاف استعمال کیا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مریم نواز کو بھی وزیر اعظم کے زیر کفالت قرار نہیں دیا اور نہ ہی مے فیئر کی جائیدادوں میں مریم نواز کی ملکیت ثابت ہوئی۔ دراصل فریق دوئم عدالت کو کوئی ایسے ثبوت فراہم نہیں کر سکا جس سے یہ الزامات درست ثابت ہوتے۔ عدالت نے اسی کیس میں وزیر اعظم کے داماد کیپٹن(ر) صفدر اور وزیرخزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو بھی الزامات سے بری الذمہ قراردیا اور کہاکہ آف شور کمپنیوں سے ان کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔

پاکستان تحریک انصاف کی وزیر اعظم کو نااہل قرار دلوانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ وزیراعظم کو سیاسی طور پر زیر کرنے کا یہ بھی ایک حربہ تھا جِس میں عمران خان پھر شکست سے دوچار ہوئے۔ گذشتہ چار سال میں پاکستان تحریک انصاف نے احتجاجی سیاست کے سوا عوام کو کوئی ایسا پروگرام یا منشور نہیں دیا جس سے وہ عوام کو ذہنی اور سیاسی طور پر موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اُٹھنے پر مجبور کر سکے ۔ اپوزیشن کی سیاست اپنی جگہ لیکن کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے قومی مفادات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی تاریخ میں ما سوائے احتجاجی سیاست اور الزام تراشی کے کوئی بھی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس سے وہ عوام کو مُطمئن کر سکے ۔ قومی مفادات کے پیش نظر ایک بڑی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے پاکستان تحریک انصاف کو احتجاجی سیاست کو ترک کرکے عوام کو اگلے انتخابات کیلئے کوئی ایسا منشور دینا ہوگا جو قومی مفاد میں ہو اور عوام کی رائے تبدیل کر سکے۔ دھرنوں اور الزامات کی سیاست سے قومی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتاہے۔ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ منصوبوں اور پالیسیوں کا تسلسل جاری رہ سکے۔ اپوزیشن کو منفی سیاست سے ہٹ کر معیشت اور تعمیری سیاست کو فروغ دینا ہو گا ۔

رہی بات کرپشن فری معاشرے کی تو یہ کام پارلیمنٹ بہتر طور پر کر سکتی ہے۔ قومی مفاہمت کے ذریعے ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جو ان مسائل کا حل ڈھونڈ سکے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے ایسا قانون لایا جانا چاہیے جو معاشرے سے کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے میں بھر پور کردار ادا کر سکے۔ دنیا میں اُنہی قوموں نے ترقی کی ہے جنہوں نے مثبت سوچ کو اپنایا ہے ۔ منفی سوچ کے ذریعے ترقی ممکن نہیں اور نہ ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔کئی اپوزیشن رہنماؤں کا رویہ ایسا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کو قبول کرنے کی بجائے جارحانہ رویہ اپنا تے نظر آرہے ہیں ۔ قومی اداروں کا احترام ہم سب پر لازم ہے اسیلئے عدالت کے فیصلے کو سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اگر وزیر اعظم عدالتی فیصلے کو تسلیم کر سکتے ہیں تو دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو بھی اس فیصلہ پر سیاست چمکانے اور پوائنٹ سکورنگ کی بجائے اسے قبول کرنا چاہیے اور جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں، اس معاملہ پر وزیر اعظم اور اُن کے خاندان کا یہ فیصلہ کہ وہ جے آئی ٹی سے تعاون کریں گے قابل ستائش ہے قوم اپوزیشن رہنماؤں سے بھی ایسے ہی فیصلوں کی امید رکھتی ہے۔

مزید : کالم