پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ ، پولیس ناکام ، جامعہ میں پھر فائرنگ ، ماحول کشیدہ

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ ، پولیس ناکام ، جامعہ میں پھر فائرنگ ، ماحول کشیدہ

لاہور (لیاقت کھرل) پنجاب یونیورسٹی میں دو طلباء تنظیموں کے درمیان جاری جنگ سنگین شکل اختیار کرگئی ۔ جامعہ میں شرپسند عناصر اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ اور طلبا ء تنظیموں نے باقاعدہ اسلحہ کا استعمال بھی شروع کردیا ۔ گزشتہ روز ایک طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے دوسری طلبہ تنظیم کے ناظم پر یونیو ر سٹی کے سکیورٹی سپروائزرکے سامنے ہاسٹل نمبر ایک میں اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے یونیورسٹی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔تفصیلات کے مطا بق لاہور پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی تمام تر کوششوں، اقدامات و حکمت عملی کے باوجود جامعہ میں سکیورٹی معاملات کو فول پروف بنایا نہیں جاسکا ، گز شتہ روز ایک طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے دوسری طلبہ تنظیم جس کا نام اسلامی جمعیت طلبہ بتایا جاتا ہے کے ناظم اسامہ اعجاز پر اندھا دھند فائرنگ کردی تاہم وہ معجزانہ طور پر بال بال بچ گئے جبکہ یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈز اپنی جانیں بچانے کیلئے وہاں سے بھاگ گئے۔ واقعہ کیخلاف اسلامی جمعیت طلبہ کے سینکڑوں کارکن سراپا احتجاج بن گئے اوریونیورسٹی کے داخلی و خارجی گیٹوں سمیت نیو کیمپس پل بلاک کرکے رات گئے تک پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے اس موقع پر جہاں ٹریفک کا نظام مسلسل جام رہاوہیں یونیورسٹی کے اندر ہاسٹلز سمیت مختلف رہائشی کالونیوں میں رہائش پذیر طلبہ ، اساتذہ اور انکے خاندان کے افراد خوف و ہراس میں مبتلا رہے ، پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود رات گئے تک دونوں طلبا تنظیموں کے درمیان آگ تھم نہ سکی اور دونوں طلبا تنظیموں نے ایک دوسرے کیخلاف نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ ایس پی اقبال ٹاؤن رانا محمد فاروق پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ مظاہرین سے مذاکرات کرتے رہے، اس موقع پر ایس پی رانا عمر فاروق نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ فائرنگ کے واقعہ کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جائے وقوعہ سے دو خول ملے ہیں جنہیں قبضہ میں لے لیاگیا تاہم فرار ہوچکے ہیں ، انکی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جار ہے ہیں۔ ادھرذرائع کا کہنا ہے اس کشمکش اور طلبا کی تنظیمی جنگ میں سابق طلباء نے یونیورسٹی کا رخ کرلیا ہے جس میں بعض شرپسندوں نے اپنی جگہ بنانے سمیت یونیورسٹی میں اسلحہ لانا بھی شروع کر دیا ہے ، اس ضمن میں ایس پی رانا عمر فاروق نے مزید بتایا کہ سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور تمام گیٹوں پر صرف یونیورسٹی کارڈ ہولڈرز کو داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان کا کہنا ہے غیر متعلقہ طلبا کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے، پولیس حکام مقدمہ کے اندراج کیلئے صلاح مشورہ میں مصروف رہے ہیں،تاہم رات گئے سی ٹی او رائے اعجاز احمد نے طلباء سے مذاکرات کر کے احتجاج ختم کروادیا۔

مزید : صفحہ آخر