مشعال قتل کیس، 2یونیورسٹی ملازمین سمیت 3افراد گرفتار، 5ملزم عدلات میں پیش

مشعال قتل کیس، 2یونیورسٹی ملازمین سمیت 3افراد گرفتار، 5ملزم عدلات میں پیش

  



مردان،پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک، بیورو رپورٹ، صباح نیوز، اے این این) مشعال قتل کیس میں مزید 5ملزمان عدالت میں پیش ،ایک نے اعتراف جرم کرلیا ،پولیس نے مزید دو یونیورسٹی ملازمین سمیت تین افراد کوکو گرفتار کرکے تفتیش کو آگے بڑھادیاہے گرفتارملزمان کی تعداد 35ہوگئی مشعال قتل کیس میں پانچ ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیاگیا جن میں ایک کو عدالت نے جیل بجھوادیاجبکہ چارکو بیانات ریکارڈ کروانے کی اجازت دے دی جو پولیس کی سخت سیکورٹی میں مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے جہاں ایک ملزم اشرف علی نے اعتراف جرم کرلیا جبکہ باقی تین ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا جنہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بجھوادیاگیا اب تک اس کیس میں 35ملزمان گرفتار کرلئے گئے ہیں جن میں 19کو عدالت میں پیش کردیاگیاہے جن میں 3نے اعتراف جرم کرلیاہے جبکہ ایک لیکچرر ضیا ء اللہ ہمدرد بطور گواہ پیش ہوئے ہیں ۔دوسری طرف مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی نے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے والے اپنے ہی ضلع ناظم کو شو کازنوٹس جاری کردیا۔ضلع ناظم مردان حمایت مایار خان نے مشال قتل کیس پر پوری طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کی جس پر پارٹی قیادت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ شوکاز نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حمایت مایار خان نے بحیثیت ضلعی ناظم مشال قتل کیس میں وہ متحرک کردار ادا نہیں کیا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی بلکہ انہوں نے کیس پر غلط طریقے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔حمایت مایار خان نے بعض لوگوں کو چھڑانے کی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے خود ڈی پی او اور ڈی آئی جی کے دفتر بھی گئے تھے۔ پارٹی کی جانب سے نوٹس کا تین روز میں جواب طلب کیا گیا ہے اور اگر حمایت مایار خان قیادت کو مطمئن نہ کر پائے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔صباح نیوز کے مطابق یونیورسٹی کے سیکیورٹی انچارج بلال کو بھی گرفتار کرلیا گیاہے وقوعہ کے بعد سے روپوش تھا ۔اے این این کے مطابقمیڈ یا رپورٹس کے مطابق مشال خان قتل کیس میں لوگوں کو اکسانے اور مشال خان کو کمرے سے باہر نکالنے والے تین مرکزی ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے ،ملزمان میں دو یونیورسٹی کے ملازم علی اور نواز جبکہ تحریک انصاف کے تحصیل کونسلر عارف شامل ہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مشال خان پرگولی بھی ان ہی تین ملزمان میں سے ایک نے چلائی ہے ۔دوسری جانب مشال خان قتل کیس پر بننے والی جے آئی ٹی نے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا عندیہ بھی د ے دیا ۔

مزید : صفحہ آخر