گرلز سکول کی سرکاری عمارت میں منتقلی خوش آئندہ ہے‘ زمان شاہ

گرلز سکول کی سرکاری عمارت میں منتقلی خوش آئندہ ہے‘ زمان شاہ

  



چارسدہ( بیورو رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے تحصیل کونسل کے ممبر زمان شاہ سمیت دیگربلدیاتی نمائندوں نے ڈائریکٹر ایجوکیشن کی جانب سے گورنمنٹ گرلز سکول کوامیر آباد رجڑکو کرایہ کے عمارت سے سرکاری عمارت میں منتقلی کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بعض مفاد پرست لوگ اپنی ذاتی مفاد کی حاطر محکمہ تعلیم کے فیصلے سے خوش نہیں اور آئے روز معصوم بچوں سے مظاہرے کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے چارسدہ پریس کلب میں صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے تحصیل کونسل کے ممبر سیدزمان شاہ ،ویلج کو نسل ناظم صالم شاہ اور سید طارق با چا سمیت دیگر نے بتایا کہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول امیر آباد رجڑعرصہ دراز سے کرایہ کے مکان میں چل رہا تھا اور مالک مکان نے باقاعدہ قانونی طریقے سے ذاتی ضرورت کیلئے سکول کی عمارت کو خالی کیا تھا جس کے بعد ڈائریکٹر ایجوکیشن نے 2اپریل کو چارسدہ کا دورہ کرکے گورنمنٹ گرلز پرائری سکول امیر آباد رجڑ کو قریب ہی واقع گورنمنٹ مڈل سکول فار بوائیز کی عمارت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے لڑکیوں کیلئے علیحدہ سیکشن قائم کیا جبکہ مڈل کلاسوں کے طلباء کو قریب ہی واقع ہائی سکول میں ایڈجسٹ کیا جس کو عوامی حلقوں نے سراہا لیکن ضلعی نائب ناظم اعلیٰ محکمہ تعلیم کے مذکورہ اقدام سے خوش نہ تھے اور ہر صورت مذکورہ سکول کیلئے اپنے سسر کی عمارت کرایہ پر لینا چاہتے تھے جس کیلئے نائب ناظم اعلیٰ نے کئی بار سکول کے بچوں کو احتجاجی مظاہروں پر اکسایا اور اب بھی نائب ناظم اعلی ٰ نے سکول کو دوبارہ کرایہ کے عمارت میں منتقل کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کو آج پیر کے د ن تک ڈیڈ لائن دی ہے اور محکمہ تعلیم کے دفتر کو تالے لگانے کی بھی دھمکی دی ہے ۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ نائب ناظم اعلی چند ہزار روپے کے لئے سکول کے بچوں کو مظاہروں پر مجبور کر رہے ہیں اور گزشتہ روز بھی انہوں نے خود مظاہرے کی قیادت کی ۔ چارسدہ میں اس وقت 20کے قریب گرلز پرائمری سکول سرکاری عمارت نہ ہونے کی وجہ سے کرایہ کے عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں جس میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول امیر آباد جڑ بھی شامل ہیں جو 1971سے کرایہ کی عمارت میں قائم تھی اور مالک مکان کو ماہانہ 8ہزار روپے محکمہ تعلیم کی طرف سے ادائیگی ہو تی رہی ۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کا موقف ہے کہ نائب ناظم اعلی کی خواہش پر محکمہ تعلیم نے ان کی نشاندہی پر مذکورہ کرایہ کی عمارت کا مشاہدہ کیا مگر اس میں سہولیات کا فقدان ہے جبکہ عمارت کا کرایہ بھی 25000ہزار روپے ماہا نہ ہے جو محکمہ تعلیم کے بس میں نہیں ہے ۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے اکاونٹس سیکشن کے آفیسر نے بتایا کہ چارسدہ میں 20 سکولوں کی عمارتوں کے لئے کرایہ کے مد میں سالانہ 35لاکھ روپے ریلیز کئے جاتے ہیں جس سے اوسط کرایہ 14ہزار روپے ماہانہ بنتا ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر