نواز شریف کے پا اتعفی ٰ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں:مولا بخش چانڈیو

نواز شریف کے پا اتعفی ٰ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں:مولا بخش چانڈیو

حیدرآباد (بیورو رپورٹ )سابق وفاقی وزیر قانون اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ وزیراعظم نوازشریف کو بددیانت اور نااہل قرار دے چکی ہے اس لئے ان کے پاس استعفیٰ دینے کے سواء کوئی راستہ نہیں اب وہ جتنا عرصہ رہیں گے ان کے لئے ذلت مقدر بنے گی، ایان علی کا جب بھی ذکر آتا ہے نہ جانے مسلم لیگ کے کچھ وزراء کا ایمان جوش میں آ جاتا ہے آخر ان کا اس سے کیا رشتہ ہے، تحریک انصاف کے دانشور رہنماء عمران خان کو سمجھائیں کہ وہ سیاسی انداز اور طور طریقے اپنائیں ورنہ اپنے لئے وہ مسائل میں اضافہ کر سکتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں خوفزدہ ہو کر عمران خان نے مسلم لیگ (ن) سے مک مکا کر لیا ہے،تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں کو ہم جانتے ہیں سندھ میں کوئی قیامت برپا نہیں ہو گئی کہ وہ لیاقت جتوئی اور ارباب رحیم پر سندھ کے عوام اعتماد کریں گے۔وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف پیپلزپارٹی کی طرف سے حیسکو ہیڈکوارٹر پر دیئے گئے دھرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، دھرنے کے شرکاء نے گو نواز گو کے نعرے بھی لگائے جبکہ مولا بخش چانڈیو نے چوروں کی سرکار کو ایک دھکا اور دو، جھوٹوں کی سرکار کو ایک دھکا اور دو، پانامہ کے چور کو ایک دھکا اور دو کے نعرے خود لگوائے۔پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے پہلی بار یہ کہہ دیا ہے کہ وزیراعظم نااہل ہیں انہیں گھر بھیجو اور تین ججوں نے بھی اسے غلط نہیں کہا بلکہ جھوٹ بولنے حقائق چھپانے اور غلط دستاویزات فراہم کرنے کا سب نے ہی وزیراعظم کو مجرم قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے اس لئے اب وزیراعظم کو خود شرمندگی محسوس کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے مگر شائد انہیں تاریخ اور عزت سے کوئی واسطہ نہیں اسی لئے پانامہ کیس کا فیصلہ آنے پر نوازشریف نے شکر ادا کیا کہ ان کی حکومت بچ گئی، انہوں نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم کو کچھ نہیں ہو گا ان کو شرمندگی بھی محسوس نہیں ہو گی اور انہیں تاریخ میں اپنا کس حیثیت میں آتا ہے اس سے کوئی تعلق نہیں مسلم لیگ وہ پارٹی ہے جسے ہر آمر نے اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے کچھ وزیروں کو میدان میں چھوڑ دیا ہے وہ کس طرح کے بیانات دے رہے ہیں آپ دیکھیں ان میں واپڈا کا ایک وزیر جھوٹا متعصب ملک و وفاق کا ہی نہیں بلکہ نوازشریف کا بھی دشمن ہے اس نے ظلم برپا کر رکھا ہے قاسم آباد وحدت کالونی میں 25 روز سے بجلی بند ہے اسی طرح پھلیلی کے کئی علاقوں میں مسلسل بجلی بند ہے، انہوں نے کہا کہ اس ظالم واپڈا کے وزیر نے عزیر بلوچ اور ذوالفقار مرزا کے بارے میں جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کرکے وزیراعظم کو ان کے ساتھ ملا دیا ہے، ایان علی سے نہ جانے مسلم لیگ کے ان وزراء کی کیا رشتہ داری ہے کہ جب بھی اس کا نام آتا ہے ان کا ایمان جوش میں آ جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار اچھے آدمی ہیں میں نے ان کے اور شہباز شریف کے بیانات دیکھے ہیں وہ کہہ رہے کہ دوسرے بھی تو چور ہیں دوسرے چور ہیں یا نہیں وہ یہ بتائیں کہ کیا نوازشریف بیگناہ ہیں کیونکہ عدالت نے تو انہیں چور اور بددیانت قرار دے دیا ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو حکومت چھوڑ دینی چاہیے ان کے بہت سے رشتہ دار وزیر ہیں کوئی بھی ان کی جگہ لے سکتا ہے کیونکہ اب صورتحال یہ ہے کہ جو مسلم لیگ کی حمایت کر رہے تھے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ بھی نوازشریف کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ عدالت نے واضع کر دیا ہے کہ وزیراعظم نے جھوٹ بولا جبکہ قطری شہزادے کو بھی بے عزت ہونا پڑا، مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت حیسکو میں وائس رائے بھیج رہی ہے جو سندھ کے عوام پر ظلم کر رہے ہیں ہم بجلی چوری کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہیں ان کے خلاف ضرور کاروائی کی جائے لیکن ایک شخص کی غلطی کی سزا پورے علاقے کو نہ دی جائے اور ٹرانسفارمر اتار کر پورے علاقے کی بجلی بند کرنے کی ظالمانہ کاروائیاں بند کی جائیں ورنہ دھرنوں کا سلسلہ آگے بڑھے گا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پھلیلی اور وحدت کالونی کی بجلی بحال کی جائے لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور پانی کی قلت کو بھی دور کیا جائے، عمران خان کی طرف سے دادو کے جلسے میں آصف زرداری کے خلاف بدترین کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات لگانے کے حوالے سے سوال پر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اس سوال کا جواب میں اپنے دل میں رکھتا ہوں خان صاحب سے بات نہیں کرتا ہم سیاسی لوگ ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ تبدیلی انگلی کے اشارے سے نہیں آئے گی اس کے لئے عوامی طاقت کو جمع کرنا ہو گا اور متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنی ہو گی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دانشور سینئر ذمہ دار خان صاحب کو سمجھائیں کہ وہ سیاسی انداز اور طور طریقے اپنائیں ایسے بیانات دے کر اپنے لئے ہی وہ سیاسی مسائل پیدا کریں گے، انہوں نے کہا کہ دادو میں آ کر انہوں نے جن افراد کے سہارے ایسی باتیں کی ہیں سندھ کے لوگ انہیں اچھی طرح جانتے ہیں سندھ میں کوئی قیامت برپا نہیں ہو گئی کہ سندھ کے عوام لیاقت جتوئی اور ارباب رحیم پر اعتماد کریں گے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دوست اگر عمران خان کو نہیں سمجھائیں گے اور عمران خان اسی طرح چلیں گے تو پھر ہم سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے مک مکا کر لیا ہے اور نہیں چاہتے کہ نوازشریف کے خلاف کوئی طاقتور تحریک چلے، مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ میں نے بہت غور کیا ہے اور سمجھتا ہوں کہ عمران خان پنجاب کی وجہ سے خوفزدہ ہیں اور انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے وہاں مک مکا کر لیا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پیپلزپارٹی پنجاب میں آ گئی تو ان کے پاؤں اکھڑ جائیں گے، مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ عابد شیر علی جیسے وزیروں کو شائد حالات اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مسلم لیگ پر اثرات کا اندازہ نہیں لیکن پنجاب سے ہی مسلم لیگ (ن) میں سے کچھ مثبت آوازیں بھی اٹھی ہیں، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے وزیر لاٹھی گولی کے ذریعے مخصوص علاقوں میں انتخابات جیتنے پر یقین رکھتے ہیں لیکن آئندہ الیکشن میں ایسا ممکن نہ ہو گا، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے اندر بھی قانون اور آئین کی بات کرنے والے موجود ہیں ہم صرف مشرف زدہ چند وزراء اور اسی طرح کی ذہنیت رکھنے والے کچھ مسلم لیگیوں کے خلاف ہیں جبکہ ہم پنجاب کے بھی دشمن نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو سبھی اچھے لوگ مشورہ دے رہے ہیں جن میں مسلم لیگی بھی شامل ہیں کہ وہ صورتحال کو سمجھیں اور باعزت طور پر مستعفی ہو جائیں ورنہ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ جتنا عرصہ اور اقتدار میں رہیں گے ان کے لئے ذلت میں اضافہ ہی ہو گا، عمران خان کی طرف سے پیپلزپارٹی اور آصف زرداری پر تنقید کے حوالے سے سوال پر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف تحریک کو منظم اور مضبوط کرنے کے لئے ضیاء الحق کے ان قریبی ساتھیوں کو بھی ایم آر ڈی میں شامل کیا تھا جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا مطالبہ کرتے رہے تھے، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کی مفاہمانہ پالیسی سے ضیاء الحق کا مقابلہ کیا تھا آج بھی ہم موجودہ حکومت کے خلاف مضبوط اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں مگر جنہیں ہم اتحاد میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں انہیں بھی چاہیے کہ وہ بہتر زبان استعمال کریں اور اچھا رویہ اپنائیں، انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے نہ کبھی معافی مانگی نہ میدان چھوڑ کر بھاگے اور میدان میں بہادری سے مقابلہ کیا اور عدالتوں سے بری ہوئے اس لئے حکمران آصف علی زرداری کی پالیسیوں اور شعور کا نہ تو مقابلہ کر سکتے ہیں نہ ہی بینظیر بھٹو کے تدبر جیسا رویہ اپنانے کی ان میں صلاحیت ہے، انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے محافظ اور ترجمان بنیں گے تو حکمرانوں کا ان سے مقابلہ ہو گا پھر انہیں پتہ چلے گا، ایک سوال پر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ عابد شیر علی میرے گھر کی بجلی کٹوائیں گے میں تو غریب ہوں اور غریبوں کے ساتھ کھڑا ہوں گا لیکن کوئی میرے گھر میں تو گھس کر دیکھے اس سے آگے پھر بات ہو گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر