یونیورسٹی فنکشن، نوجوان طالبہ نے اپنے ہاتھوں پر مہندی سے ایسا ڈیزائن بنا لیا کہ کچھ ہی لمحوں بعد جان کے لالے پڑ گئے، ہسپتال لے جانا پڑگئی کیونکہ۔۔۔

یونیورسٹی فنکشن، نوجوان طالبہ نے اپنے ہاتھوں پر مہندی سے ایسا ڈیزائن بنا لیا ...
یونیورسٹی فنکشن، نوجوان طالبہ نے اپنے ہاتھوں پر مہندی سے ایسا ڈیزائن بنا لیا کہ کچھ ہی لمحوں بعد جان کے لالے پڑ گئے، ہسپتال لے جانا پڑگئی کیونکہ۔۔۔

  



شارجہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) یونیورسٹی میں مہندی کے ڈیزائن بنانے کی تقریب کے دوران ایک لڑکی کا ہاتھ بری طرح جل گیا جس کے باعث اسے کئی دن شدید جلن اور تکلیف میں گزارنے پڑے۔ متاثرہ لڑکی نے خبردار کیا ہے کہ کالی مہندی استعمال کریں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ٹروکالر کی نئی ایپلیکیشن متعارف، گوگل ڈو کیساتھ انضمام کا بھی اعلان

تفصیلات کے مطابق ایک لڑکی ہالہ یاسر نے اپنے ہاتھ پر کالی مہندی لگائی تو اس کے 30 منٹ بعد ہی ہاتھ پر جلن شروع ہو گئی جس پر اس نے فوراً اپنا ہاتھ دھو لیا لیکن جلن پھر بھی جاری رہی۔ ہالہ کو فوراً ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے جلے ہوئے ہاتھ پر لگانے کیلئے کریم دی گئی اور کھانے کیلئے کچھ دوائیاں دیدی گئیں۔

ہالہ کا کہنا ہے کہ ”مہندی لگانے والی لڑکی کا دعویٰ ہے کہ اس نے کالی نہیں، سرخ مہندی استعمال کی۔ جب لڑکی نے مہندی لگانا شروع کی تو میں نے سوچا کہ یہ گہری سرخ رنگ کی مہندی ہے کیونکہ میں کالی مہندی کے نقصانات سے واقف ہوں بالخصوص جب اس میں کوئی اور کیمیکل بھی شامل کئے گئے ہوں۔“

ایک ہفتے بعد ہالہ یاسر کو ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرا دیا گیا کیونکہ مہندی کے باعث ہونے والی الرجی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ ہالہ نے کہا کہ ”میں نے زیادہ تر کالا حصہ اتار دیا اگرچہ وہاں پہلے سے بہت زیادہ تکلیف تھی مگر مجھے کرنا پڑا، میں درد سے پاگل ہوئی جا رہی تھی۔“

ہالہ یاسر ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جلن، الرجی اور درد کم کرنے کیلئے مجھے روزانہ دن میں 2 مرتبہ اینٹی ہیسٹا مائن اور درد کش ادویات دی جا رہی تھیں جس کے باعث دل کی دھڑکن کے مسائل پید ہونا شروع ہوئے تو ڈاکٹروں نے ہائیڈرو کورٹی سون دینا بند کر دی۔

جلن ایک ہفتہ جاری رہی اور اس دوران ہاتھ پر سوجن کم کرنے کیلئے ہر گھنٹے بعد برف کے پیکٹ استعمال کرنا پڑے۔ ہالہ کا کہنا ہے کہ ” چھالوں کی وجہ سے مجھے اب بھی اپنی انگلیاں موڑتے ہوئے مشکل پیش آتی ہے۔ میں سو نہیں سکتی کیونکہ ہاتھ پر نہ رکنے والی خارش اور جلن ہوتی ہے۔“

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

دوسری جانب امارات ڈرماٹالوجی سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر انور الحمادی کا کہنا ہے کہ مہندی کے باعث اس طرح کے مسائل کا پیدا ہونا کلینکس میں نظر آنے والی عام بات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ” ہم بیوٹی سیلونز میں کالی مہندی کے استعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے کیونکہ اس زیادہ تر اس مہندی میں کچھ کیمیکل استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ اس کا رنگ زیادہ دیر تک رہ سکے۔ اور اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔“

انہوں نے کہا کہ کالی مہندی لگانے سے پہلے خواتین کو ہاتھ کے تھوڑے سے حصے پر اس کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اس میں کہیں ایسا کیمیکل تو استعمال نہیں کیا گیا تو جس سے خطرناک انفیکشن ہو۔ان کا کہنا تھا کہ شدید نوعیت کے کیسز میں لوگوں کو آنکھوں کی سوزش کے علاوہ سانس میں دشواری کے مسائل بھی دیکھنے میں آئے ہیں جبکہ اس کا علاج انفیکشن کی نوعیت پر منحصر ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس