سعودی عسکری اتحاد کی قیادت کیلئے ترکی اور مصر کا نام بھی زیرغور رہنے کا انکشاف ، لیکن بالآخر قیادت پاکستان کے حصے میں آئی کیونکہ ۔ ۔۔

سعودی عسکری اتحاد کی قیادت کیلئے ترکی اور مصر کا نام بھی زیرغور رہنے کا ...
سعودی عسکری اتحاد کی قیادت کیلئے ترکی اور مصر کا نام بھی زیرغور رہنے کا انکشاف ، لیکن بالآخر قیادت پاکستان کے حصے میں آئی کیونکہ ۔ ۔۔

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سعودی عرب کی سرپرستی میں بننے والے 39اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت پاکستان کوسونپے جانے سے قبل کئی دیگر ممالک کے نام بھی زیرغورآئے لیکن بالآخر قرعہ پاک فوج کے نام نکلا اور کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔

روزنامہ دنیا کے مطابق   پاکستان کو اس اتحاد کی قیادت ملنے کی دو بنیادی وجوہات میں سعودی حکومت کی طرف سے پاکستان کو مسلم دنیا میں طاقت کے مرکز کے طور پر دیکھنے  اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی فوج دنیا میں واحد فوج ہے جس نے گزشتہ پندرہ سال میں انتہائی کامیابی سے نہ صرف دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے بلکہ پاکستان سے کامیاب حکمت عملی کے تحت دہشتگردی اور انتہا پسندی بھی تقریباً ختم کردی۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحاد کی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں مصر اور ترکی کو بھی قیادت دینے پر غور کیا گیا مگر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ترکی کے ساتھ تعلقات کے تاریخی پس منظر کی وجہ سے ترکی کو قیادت نہیں دی گئی۔بتایا گیا ہے کہ اتحاد کی تشکیل کے حوالے سے جب مختلف امور کا جائزہ لیا جا رہا تھا تو اکثریتی اسلامی ممالک کی رائے تھی کہ ترکی،مصر اور ایران کے مقابلے میں پاکستان کی فوج زیادہ پیشہ وارانہ ہے ،پاکستان کی اس اتحاد کی قیادت سنبھالنے کی وجہ سے ایران اتحاد کے خلاف بہت حد تک شدید ردعمل دینے سے گریزاں ہے۔

 جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نےبھی سعودی حکمرانوں کے ساتھ ایران کے معاملے پر بڑا واضح موقف اختیار کیا ہے کہ ایران، شام اور لبنان کو ابتدائی طور پر آبزرور کے طور پر اتحاد میں شامل کیا جائے ۔

مزید : قومی