فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 69

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 69
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 69

  

سب کچھ بدل چکا تھا۔ ہم دونوں ہی کیا‘ ساری دنیا بدل گئی تھی۔ کچھ دیر ایک دوسرے کے بارے میں معلوم کرتے رہے۔

’’باجی ٹھیک ہیں ‘‘ اس نے کہا۔ ’’بس صحت خراب رہتی ہے۔ آپ کا ذکر کرتی ہیں۔‘‘

’’تمہاری شادی ہو گئی ؟‘‘ ہم نے پوچھا

ایک اداس سی معنی خیز مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی۔ ’’چھوڑیں یہ ایک علیحدہ داستان ہے۔ اگلی بار ملیں گے تو سناؤں گی۔ اور دیکھیں جب اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ آئیں تو مجھ سے ضرور ملائیں۔ بلکہ میرے گھر پر کھانا بھی کھائیں۔ اچھا اب میں چلتی ہوں۔ نوکری کا معاملہ ہے۔‘‘

شاہانہ چلی گئی مگر اپنے پیچھے یادوں کی ایک برات چھوڑ گئی۔ وہ زمانہ یاد آگیا۔ جواب کبھی لوٹ کر نہ آئے گا۔ وہ لوگ‘ وہ کہانیاں‘ وہ واقعات‘ آنکھوں کے سامنے پھرنے لگے۔ کانو ں میں جانے والوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ وہ دوست احباب‘وہ فن کار‘وہ ہنر مند‘ وہ محفلیں‘ وہ ماحول‘ ایک ایک کر کے سب کچھ ایک پرانی فلم کی طرح آنکھوں میں گھومنے لگا۔ یہ وہ زمانہ تھا جسے ہم سنہرا دورکہہ سکتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ دوبارہ لوٹ کر نہ آئے گا۔

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 68 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شاہانہ کا تذکرہ ہم نے اس لیے ضروری سمجھا تھا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان کی فلمی صنعت میں ایک ایسا دور بھی تھا جب چھوٹے موٹے کردار کرنے والے فن کار بھی ہوش مند‘ پڑھے لکھے اور با شعور ہوا کرتے تھے۔ اب تو ایسی ہوا چلی ہے کہ بڑے بڑوں کو دیکھ کر بھی عبرت ہوتی ہے۔ شاہانہ سے وہ ہماری آخری ملاقات تھی۔ ہم اس کے بعد نہ اس ہوٹل میں ٹھہرے اور نہ شاہانہ سے ملاقات کا موقع ملا۔

لاہور کی مال روڈ پر ہرمعقول آدمی کا ہر روز کم سے کم ایک اور زیادہ سے زیادہ درجنوں پھیرے لگانا رواج میں داخل تھا۔ ہم بھی مال روڈ کے پر سکون اور صاف ستھرے فٹ پاتھوں پر ٹہلا کرتے تھے۔ مال روڈ کی دونوں جانب وسیع سبزہ زار تھے اور گھاس کے تختوں پر رنگا رنگ پھول کھلا کرتے تھے۔ فضا میں کثافت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ نہ سڑکوں پر کاروں کا اور فٹ پاتھوں پر لوگوں کا ہجوم تھا اس لیے مال روڈ پر چہل قدمی کرنا ان دنوں صحیح معنوں میں ایک خوبصورت تفریح تھی۔

ہم نے ایک روز دیکھا کہ مال روڈ پر شیزان ریستوران کے سامنے ایک سرخ رنگ کی خوبصورت چمکتی ہوئی کار کھڑی ہے۔ اس کی چھت کھلی ہوئی تھی۔ کار سے ٹیک لگا کر ایک خوبصورت ہیروٹائپ آدمی کھڑا تھا۔ اس نے سفید پتلون اور سفید قمیص پہن رکھی تھی۔ گلے میں اسکارف تھا۔ پیروں میں نہایت نفیس قسم کے جوتے تھے۔ اس کے لباس سے بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ اس کے پاس گزرتے ہوئے ہم شیزان میں داخل ہو گئے۔

ہم نے اپنے صحافی دوست سے پوچھا۔ ’’ یہ کون ہے جو ہر روز مال روڈ پر نظر آتا ہے۔‘‘

’’ یہ چودھری محمد اسلم ہے۔ بہت پیسے والوں کا بیٹا ہے۔اس کے والد چودھری دین محمد بڑے آدمی ہیں۔ مال روڈ پر اور اس کے عقب میں بے حساب زمینیں اور عمارتیں ان کی ملکیت ہیں۔‘‘

’’ اچھا۔ تو کیا یہ ہر روز ان عمارتوں کا کرایہ وصول کرنے آتاہے ؟‘‘

’’ ارے نہیں۔ بس رئیس ہے‘ عیش کرتا ہے۔‘‘

ہم نے پوچھا ’’ یہ پڑھتا وڑھتا کیوں نہیں ؟‘‘

جواب ملا۔’’ جو پڑھنا تھا پڑھ لیا۔ ایف سی کالج سے گریجویشن کیاہے۔‘‘

’’ تو پھر کوئی کام کیوں نہیں کرتا ؟‘‘

وہ ہنسنے لگا۔’’ بھائی اسے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے گھر کا رئیس ہے۔ بے فکری۔ سنا ہے فلم میں ہیرو بننے کا شوقین ہے۔‘‘

یہ اسلم پرویز سے ہمارا پہلا تعارف تھا۔

اسلم پرویز اس وقت تک اسلم پرویز نہیں بنے تھے۔ محض چودھری اسلم تھے۔ ان کے خاندان کے بارے میں آپ سن ہی چکے ہیں۔ یہ سب ملا کر چار بھائی تھے۔ اسلم کا ان میں تیسرا نمبرتھا۔ ان کا گھرانہ ایک دین دار اور کاروباری گھرانہ تھا۔ اس کے باوجود اس گھرمیں دو فن کار پیدا ہو گئے۔ ایک اسلم پرویز اور دوسرے ان کے بھائی معین نجمی۔

معین نجمی بھی ایک دراز قد‘ دبلے پتلے‘ خوش شکل نوجوان تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ان کو مصوری کا شوق تھا چنانچہ آرٹ کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور بہت اچھے مصور بن گئے۔ اخلاق و عادات کے وہ بھی بہت اچھے تھے۔ خوش لباس بھی تھے۔ اب بہت عرصے سے انہیں نہیں دیکھا مگر اس زمانے میں پڑھے لکھے حلقوں اور ریستورانوں میں معین نجمی بھی اکثر نظر آجاتے تھے۔ باقی دو بھائی کاروبار سے وابستہ رہے اس لئے دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔

اسلم کو ادکاری کا بچپن ہی سے شوق تھا۔ کالج کے زمانے میں ڈراموں میں حصہ لیتے رہے۔ پڑھ لکھ کر فارغ ہوئے تو ہیرو بننے کا سودا سر میں سما گیا۔ وضع دار اور غیور آدمی تھے اس لئے اپنی زبان سے تو کسی سے کہتے نہیں تھے کہ مجھے ہیرو بنا لو۔ بس گھوم پھر کر سیشن پریڈ کرتے رہتے تھے۔ خوش لباسی کا اسلم کو ہمیشہ شوق رہا۔ اتنا نفیس لباس پہننے والے فلمی دنیا میں تو کیا باہر کی دنیا میں بھی بہت کم ہوں گے۔ اسلم پرویز کی مرگ ناگہاں کے بعد ایک صحافی نے تو یہ لکھ دیا کہ اسلم پرویز ایشیا کے سب سے زیادہ خوس لباس آدمی تھے۔ لباس کی تراش خراش اس کی فٹنگ‘ اس کا استعمال‘ رنگوں کی میچنگ۔ ہر لحاظ سے ان کا لباس بے عیب ہوا کرتا تھا۔ وہ زمانہ باذوق لوگوں کا زمانہ تھا جو زندگی میں ہر اچھی چیز کو پسند کرتے ہیں۔ نگار خانوں‘ فلمی دفتروں اور فلمی تقاریب میں جسے دیکھئے کسی ٹیلر ماسٹر کا اشتہار بنا نظر آتا تھا۔ پھر یہ لوگ ایک دوسرے کو سراہتے بھی تھے۔ بات نہ بنے تو نکتہ چینی بھی کرتے تھے۔(جاری ہے)

قسط نمبر 70 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ