کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالٰی کا دیدارکیا؟

کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالٰی کا دیدارکیا؟
کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالٰی کا دیدارکیا؟

  



بہت سے مسلمان استفسار کرتے ہیں کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج کو اللہ تعالٰی کا دیدارکیا ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدارِ الٰہی کرنے کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔قرآن کریم کی جس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدارِ الہٰی کا انکار کیا جاتا ہے وہ بعض لوگوں کی زبردستی ہے۔ یہی حال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا ہے۔ دونوں پر مختصر غور کیا جاتا ہے۔ قرآن و سنت سے جو چیز ثابت ہے، وہ ہے دیدار خداوندی اور نفی میں پیش کی جانے والی آیت میں ہے۔ ’’آنکھوں کے ادراک کی نفی‘‘ حالانکہ دیکھنے اور ادراک میں فرق ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

’’نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبرہے‘‘۔الانعام، 6: 103

امام رازی رحمہ اللہ تعالٰی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔

’’آیت کا مطلب ہے کہ تمام آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرتیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بعض آنکھیں دیکھ سکتی ہیں۔‘‘

’’دیکھے جانے والی چیز کی جب حد اور انتہاء ہو اور دیکھنے والی نظر تمام حدود، اطراف اور انتہاؤں کو گھیر لے تو گویا اس نظر نے اس چیز کو گھیر لیا۔ اس دیکھنے کو ادراک کہا جاتا ہے، لیکن جب نظر دیکھی جانے والی چیز کے اطراف کا احاطہ نہ کرے تو اس دیکھنے کا نام ادراک نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ دیکھنا، ایک جنس، جس کے نیچے دو انواع ہیں، ایک دیکھنا احاطے کے ساتھ اور دوسرا دیکھنا بلا احاطہ کئے، صرف احاطے والے دیکھنے کو ادراک کہا جاتا ہے۔ پس ادراک کی نفی سے دیکھنے کی ایک قسم کی نفی ثابت ہوئی اور ایک نوع کی نفی سے جنس کی نفی نہیں ہوتی۔ پس اللہ کے ادراک کی نفی سے اللہ کے دیکھنے کی نفی لازم نہیں آتی۔‘‘رازی، التفسیر الکبیر، 13: 104

امام قرطبیؒ فرماتے ہیں’’ادراک کا مطلب ہے گھیر لینا اور حد کھینچنا جیسے مخلوق دیکھی جاسکتی ہے۔ اللہکا دیکھنا ثابت ہے‘‘۔

خلاصہ یہ کہ قرآن کی آیت سے اور اسے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول سے، دیدار الٰہی کی نفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتی۔ آیت کا مطلب ہے کہ تمام آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں یا یہ کہ آنکھیں اللہ کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور ظاہر ہے کہ دیکھنا اور ہے، احاطہ کرنا اور ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بعض آنکھیں دنیا میں بھی اللہ کو دیکھ سکتی ہیں اور یقیناً وہ بعض آنکھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ہیں۔

علامہ قرطبیؒ مزید لکھتے ہیں’’عبد اللہ بن حارث کی حضرت ابن عباس اور ابن کعب سے ملاقات ہوئی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ ہم بنی ہاشم تو کہتے ہیں کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دوبار دیکھا ہے، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ دوستی (خلت) ابراہیم علیہ السلام کے لئے ،کلام موسیٰ علیہ السلام کے لئے اور دیدارِ الٰہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ثابت ہے۔ اس پر حضرت کعب نے اللہاکبر کہا یہاں تک کہ پہاڑ گونج اٹھے‘‘۔قرطبی ، الجامع لاحکام القرآن ، 7: 56

امام عبدالرزاقؒ نے بیان کیا’’حسن بصری اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے‘‘۔

مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ’’کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں‘‘۔

حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھوں سے اللہ کو دیکھا۔ دیکھا، یہاں تک کہ ان کا سانس بند ہو گیا۔‘‘

یہی امام ابو الحسن اشعریؒ اور ان کے اصحاب کا مسلک ہے۔ یہی حضرت انس رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ، ربیع اور حسن کا مذہب ہے۔

قرطبی ، الجامع لا حکام القرآن ، 7: 56

نیز ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر ہجرت کے بعد آئیں جبکہ واقعہ معراج، ہجرت سے پہلے کا ہے۔ اس لئے انہوں نے صرف قرآن کی آیت سے استدلال فرمایا جس کی تفسیر ہم نے باحوالہ بیان کر دی ہے۔

قرآن نے اللہ کے دیدار کی نفی نہیں فرمائی، یہ فرمایا ہے کہ آنکھیں اللہ کا احاطہ نہیں کرتیں۔ ظاہر ہے کہ مخلوق محدود، اس کی نظر محدود، اللہ غیر محدود پھر اس کا احاطہ مخلوق کیونکر کر سکتی ہے۔ رہا دیکھنا سو اس کی نفی قرآن میں نہیں۔(مفتی عبدالقیوم ہزاروی نابغہ روزگار شخصیت ہیں۔ادارہ منہاج القران کے دارالفتاویٰ سے منسلک ہیں )

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ