پاناما کیس فیصلے کے بعد پہلا عوامی سروے آگیا ، کتنے فیصد پاکستانیوں کو فیصلہ پسند آیا اور کتنوں کو بالکل بھی پسند نہیں آیا ؟ حیران کن نتیجہ منظر عام پر آگیا

پاناما کیس فیصلے کے بعد پہلا عوامی سروے آگیا ، کتنے فیصد پاکستانیوں کو فیصلہ ...
پاناما کیس فیصلے کے بعد پہلا عوامی سروے آگیا ، کتنے فیصد پاکستانیوں کو فیصلہ پسند آیا اور کتنوں کو بالکل بھی پسند نہیں آیا ؟ حیران کن نتیجہ منظر عام پر آگیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) ”گیلپ پاکستان “کے سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر 3میں سے صرف 1پاکستانی نے پاناما کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پسند کیا ۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد 24گھنٹو ں میں لی جانے والی عوامی رائے پر مشتمل اس سروے میں کہا گیا ہے کہ صرف 36فیصد لوگوں کو پاناما کیس کا فیصلہ پسند آیا جبکہ 43فیصد نے اس فیصلے کو ناپسند قرار دیا ۔

پاکستان کے چاروں صوبوں سے 1400مرد اور خواتین کی رائے پر مبنی اس حالیہ سروے میں کہا گیا ہے کہ 21فیصد پاکستانی شہریوں نے پاناما کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی رائے نہیں دی۔

ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کے سعودی عرب پہنچتے ہی سعودی عسکری اتحاد کو بڑی کامیابی مل گئی

سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ اگر وہ سپریم کورٹ کے جج ہوتے تو کیا وہ یہی فیصلہ دیتے ، سخت حکم جاری کرتے یا نرم ججمنٹ دیتے جس پر 40فیصد لوگوں نے رائے دی کہ اگر وہ سپریم کورٹ کے جج ہوتے تو انتہائی سخت فیصلہ دیتے جبکہ 21فیصد کا کہنا تھا کہ وہ قدرے نرم فیصلہ سناتے ۔ اس کے علاوہ 23فیصد پاکستانی عوام کا کہنا تھا کہ وہ اسی قسم کا حکم نامہ جاری کرتے جبکہ سروے میں حصہ لینے والے 16فیصد لوگوں نے رائے دی کہ انہیں اس بارے میں کچھ پتہ نہیں ۔

سروے میں لوگوں سے سوال کیا گیا کہ آیا سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کو اچھے فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا یا برے فیصلے کی طور پر ؟ جس پر 37فیصد افراد نے بتایا کہ اسے اچھے فیصلے جبکہ 45فیصد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی اس ججمنٹ کو برے فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔ 18فیصد نے رائے دینے سے گریز کیا ۔

’’اب یہ کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔‘‘عمران خان نے واضح کر دیا

گیلپ انتظامیہ نے لوگوں سے اگلا سوال پوچھا کہ آیا یہ فیصلہ نوازشریف کے حق میں تھا یا خلاف؟ تو 55فیصد مرد وخواتین نے جواب میں کہا کہ عدالتی فیصلہ وزیر اعظم کے حق میں ہے ، 14فیصد نے اسے نوازشریف کے خلاف قرار دیا جبکہ 31فیصد کا کہنا تھا کہ فیصلہ نہ تو انکے خلاف ہے اور نہ ہی حق میں سمجھا جا سکتا ہے ۔

29فیصد کو لگتا ہے کہ فیصلے سے ملک میں کرپشن کم ہو گی جبکہ 28فیصد نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر فیصلے کا اچھا اثر پڑےگا ۔ اسی طرح 30فیصدی عوام نے جواب دیا کہ فیصلے سے ترقی کی شرح میں اضافہ ہو گا ۔

ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کو دبئی میں لی گئی تصویر سامنے آگئی ، سوشل میڈیا پر تنقید 

”گیلپ پاکستان “سروے میں انتظامیہ کی جانب سے سوال رکھا گیا کہ آیا فیصلے سے سیاستدانوں کی کرپشن میں کمی ہو گی ،اضافہ ہو گا یا پھر کوئی فرق نہیں پڑیگا جس کے جواب میں 29فیصد شہریوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی بدعنوانی میں کمی آئے گی ، 51فیصد کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے سیاستدانوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا جبکہ 20فیصد لوگوں نے حیران کن طور پر موقف دیا کہ اس سے کرپشن اور بدعنوانی میں اضافہ ہو جائے گا ۔

اسی طرح پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے28فیصد مردو خواتین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مجموعی طور پر اچھا تاثر پڑیگا ، 32فیصد نے اس کے منفی اثرات کا عندیہ دیا جبکہ اتنے فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی خاص تاثر نہیں پڑنے والا ،8فیصد نے کہا کہ وہ اس بارے میں رائے دینے سے قاصر ہیں ۔

 قانون نا سمجھنے والے میڈیا پر ۔۔۔چیف جسٹس نے عمران خان پر ریمارکس کی بوچھاڑ کر دی 

سروے میں ملک باسیوں سے سوال کیا گیا کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد کیا پاکستان میں ترقی کی شرح بڑھے گی ، کم ہو گی یا موجودہ سطح پر ہی رہے گی تو 30فیصد نے ترقی کی شرح میں اضافے ، 35فیصد نے کمی جبکہ 35فیصد نے کہا کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑ سکتا ۔

پاناما فیصلے سے قبل اگلے الیکشن میں ووٹ دینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر 17فیصد پاکستانیوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پیپلز پارٹی ،22فیصد نے تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے جبکہ 38فیصد لوگوں نے مسلم لیگ نواز کیلئے ووٹ ڈالنے کی حامی بھری ، 3فیصد نے آزاد امیدواروں کو ، 2فیصد نے جے یو آئی ، عوامی نیشنل پارٹی ، ایم کیو ایم پاکستان ، بی این پی جبکہ 1فیصد نے کہا کہ وہ پاک سر زمین پارٹی ، جماعت اسلامی ، پاکستان مسلم لیگ فنگشنل ، ایم کیو ایم لندن کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے ۔ سروے میں شامل 8فیصد لوگوں نے انتخابی عمل سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے جبکہ 1فیصد نے اپنی پسند کی پارٹی بتانے سے گریز کیا ۔

پاکستان تحریک انصاف نے پاناما کیس فیصلے کو بنیاد بنا کر چیئرمین نیب کیخلاف ریفرنس دائر کر دیا

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ووٹ ڈالنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں 36فیصد نے مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ، 16فیصد نے پیپلز پارٹی کو ، 25فیصد نے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ، 3فیصد نے جمعیت علماءاسلام ، عوامی نیشنل پارٹی ، جماعت اسلامی ،بی این پی اور آزاد امیدواروں کو جبکہ 1فیصد نے پاک سر زمین پارٹی ، ایم کیو ایم پاکستان ، پاکستان مسلم لیگ فنگشنل ، ایم کیو ایم لندن اور مسلم لیگ ق کے امیدوار کو ووٹ دینے پر رضامندگی ظاہر کی ، سروے میں شریک 8فیصد مرد و خواتین نے ووٹ نہ ڈالنے جبکہ 1فیصد نے جواب دینے سے گریز کیا ۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما لیکس جیسے کیسز کو ٹیک اپ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے اہم ترین سوال پر 39فیصد عوام نے جواب دیا کہ وہ سیاسی کیسز میں سپریم کورٹ کی مداخلت کے حق میں ہیں ، 26فیصد نے سپریم کورٹ کے اس اقدام کی مخالفت کی جبکہ 24فیصد شہریوں نے کہا کہ وہ نہ تو اس کے حق میں ہیں اور نہ ہی خلاف ہیں ،11فیصد نے کہا کہ وہ اس بارے میں رائے دینے سے قاصر ہیں ۔

گیلپ پاکستان سروے میں سوال کیا گیا کہ آیا سپریم کورٹ نے نوازشریف کو کرپٹ قرار دیکر نااہل نہیں کیا یا کیاانہیں نہ ہی کرپٹ اور نااہل قرار دیا گیا ؟ جس پر 39فیصد لوگوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں وزیر اعظم کو کرپٹ قرار دیا مگر نااہل نہیں کیا جبکہ 46فیصد نے رائے دی کہ انہیں نہ تو کرپٹ قرار دیا گیا نہ ہی نااہل ۔

71فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کومن و عن قبول کیا ، 20فیصد نے فیصلے کو کسی حد تک جبکہ 9فیصد نے کہا کہ وہ اس ججمنٹ کو مسترد کر تے ہیں ۔عمران خان اور پی ٹی آئی کیلئے 19فیصد نے کہا کہ وہ فیصلے کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں ، 36فیصد نے کسی حد تک ، 45فیصد نے جواب دیا کہ وہ فیصلے کو بلکل بھی تسلیم نہیں کرتے ۔

جماعت اسلامی کیلئے 17فیصد نے فیصلہ قبول کرنے ، 46فیصد نے کسی حد تک جبکہ 37فیصد نے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کا اظہار کیا ، اسی طرح شیخ رشید کیلئے 14فیصد نے عدالت کے حکم کو پوری طرح قبول کرنے ، 33فیصد نے کسی حد تک جبکہ 53فیصد نے فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ۔

پیپلز پارٹی کیلئے 17فیصد نے جواب دیا کہ وہ اس حکم کو من و عن قبول کرتے ہیں ، 39فیصد عوام نے فیصلہ کسی حد تک اور 44فیصد نے بلکل بھی تسلیم نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔سروے میں شریک 28فیصد نے عام عوام کی خاطر فیصلہ تسلیم کرنے ، 40فیصد نے کسی حد تک تسلیم کرنے جبکہ 32فیصد نے پاناما کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔

مزید : قومی