زرداری صاحب کا دُکھ

زرداری صاحب کا دُکھ
زرداری صاحب کا دُکھ

  



حیرت ہے زرداری صاحب میاں نواز شریف کو لانڈھی جیل بھیجنے،صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دینے اور ان سے پنجاب چھیننے کا نعرہ لگارہے ہیں۔ٹھیک ہے۔ میاں نواز شریف بھی دودھ کے دھلے نہیں ہوں گے ، لیکن زرداری صاحب ،اللہ معاف کرے آپ تو گنگاشناور ہیں۔چھاج کیا بولے چھاننی سے ۔۔۔ دودہائیاں آپ کی کرپشن کی دوھائیاں دیتی نظر آتی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے اور ردالفساد کی فضا میں بھی اس قسم کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں کہ زرداری صاحب کی سیاست کا انت ہونے والا ہے۔لہذا زرداری صاحب کا واویلا سمجھ میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔پوری قوم اس کا ادراک رکھتی ہے کہ جب سے ایجنسیوں نے انکے قریبی دوستوں اور پتھاریداروں پر ہاتھ ڈالا ہے ،ان کے سینے میں تنگی پیدا ہونے لگی ہے۔اس کا ذمہ دار وہ ایجنسیوں سے زیادہ میاں نواز شریف کو سمجھتے ہیں جنہوں نے نوّ ے کی دہائی سے آج تک انہیں مقدمات میں رسوا کیا اور جیلوں میں زندگی کے اہم ترین سال گزارنے پر مجبور کیا ۔یہ رنج،دکھ،انتقام پرانا ہے حالانکہ درمیان میں دونوں کے مابین این آرو اور بی بی کی شہادت نے مصالحت کرائی اور دل وجان سے ایک دوسرے کے بدترین مخالف پونے کے باوجود زرداری صاحب کو پاکستان کے صدارتی محلپر راج کرنے کا موقع ملا۔ بحثیت صدر انہوں نے زمام سیاست کو اپنے قابو میں رکھااور ملک میں کرپشن کو ترقی دینے کے سوا ان کا کوئی قابل فخر کارنامہ نہیں۔سندھ ماں جس کی وہ قسم کھاتے ہیں،اس کے تن سے بھی سارے کپڑے اتارنے میں لگے رہے،آج بھی سندھ پاکستان کا بدقسمت اور پسماندہ ترین صوبہ ہے جسے جئے بھٹو کا نعرہ لگانے والوں نے جہنم بنادیاہے۔

زرداری صاحب کے سیاسی کردار پر ہردور میں سوال اٹھتے رہے ہیں ۔1990 سے 2004 کے 14 سال ان کی زندگی کے سب سے ہنگامہ خیز سال تھے۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان پر کرپشن کے الزامات لگے اور انکو مسٹر ٹین پرسنٹ کا نام دیاگیا۔ہر سرکاری سودے میں دس فیصد کمیشن ان کا ہوتا تھا۔ سب سے پہلے 1990میں انہیں صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالر اینٹھنے کی سازش کے الزام میں حراست میں لیا گیاتھا۔تاہم غلام اسحاق خان نے بعد میں آصف زرداری کو رہا کردیا۔ پانچ نومبر 1996ء کو دوسری بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضٰی بھٹو قتل کیس میں آیا تو انہوں نے مونچھیں کٹوا کر بے گناہی کا ثبوت دینے کی کوشش کی۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ یہ الزمات بھی سامنے آئے کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکہ میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لئے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران انہوں نے تقریباًً دس سال قید میں کاٹے اور 2004ء میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کردیا گیا۔ قومی احتساب دفتر نے بھی آصف علی زرداری پر بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے حاصل کرنے کے الزامات لگائے۔جنوری 2010ء میں قومی احتساب دفتر نے پس پردہ زرداری کے لیے کام کرنے والے ناصر خان کی اسلام آباد میں 2460 کنال زمین کو سرکاری سپردگی میں لینے کا حکم دیاتھا۔ سابق صدر زرداری کی کرپشن مارکیٹ میں انکے بہت سے قریبی اور قابل اعتماد منہ بولے بھائی کام کرتے ہیں ۔ڈاکٹر عاصم اس کی مثال ہیں تو عزیر بلوچ کا نام بھی انکے دوستوں کی فہرست میں شامل ہے۔تازہ ترین گرفتار ہونے والوں میں زرداری صاحب کے مینیجر غلام قادر مری اور اشفاق لغاری شامل ہیں ۔یہ لوگ زرداری صاحب کے کاروباری معاملات چلاتے اور بعض قتل کے کیسوں میں بھی ملوث ہیں ۔ان کی گرفتاری بلاشبہ زرداری صاحب کے لئے ایک شاک ہیں جس کی وجہ سے وہ دوبئی کی کھچار سے باہر نکل کر شیر کا شکار کرنے کے لئے ہانکا کرنا چاہتے ہیں۔ جس جرآت رندانہ کے ساتھ وہ میاں نواز شریف کو لاندھی جیل بجھوانے اور انہیں صادق اور امین نہ ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں ،یہ مطالبہ انکی شخصیت سے میل نہیں کھاتا ۔خود وہ جیل سے اتنا ڈرت ہیں کہ جنرل راحیل شریف کے دور میں وہ خود ساختہ ہجرت کرگئے تھے اور جونہی جنرل راحیل شریف اپنی نئی ڈیوٹی پر سعودیہ گئے ہیں توزرداری صاحب پاکستان لوٹ آئے اور خود کو پوتر ثابت کرنے پر زور لگانے لگے ہیں ۔

چند روز پہلے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاتھا کہ میاں صاحب ہم آپ کو گھر بھیجیں گے ،آپ گھر نہیں کسی اور گھر جائیں گے ،آپ کو لانڈھی جیل میں کھانا بھیجنے کیلئے میں تیار ہوں۔جھنگ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاتھا کہ اس دفعہ ہم نے پنجاب کا قلعہ فتح کرناہے ،اس بار ہم نے شریفوں کو مٹانا ہے ،گزشتہ الیکشن ہم نہیں ہار بلکہ ہمیں آر اوز نے ہرایاہے۔ان کا کہناتھا کہ ن لیگ نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ،نہ بجلی ہے نہ پانی ،قرض دوگنا کر دیا ہے ،عوام کے ساتھ یہ کیا کیا۔میاں صاحب چاروں صوبوں کو آپ سے نجات چاہیے، آپ صرف سرکاری روٹیاں توڑنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے، آپ سے کچھ نہیں ہوتا ، آپ پائے کھانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے،ہم ہرطرف سے آپ کے پیچھے لگ رہے ہیں،جب تک نکال نہ دیں آپ کے پیچھے لگے رہیں گے،آپ نے قوم کا حق لوٹا ہے، ہم آپ سے حق واپس لیں گے۔سوال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دورصدارت میں اور پھر موجودہ دور میں انکی صوبائی حکومت نے سندھ میں کون سا ترقیاتی معرکہ صرف کیا ہے۔

زرداری صاحب تو جیسے پانامہ فیصلے کے انتظار میں تھے اور انہیں گویا یہ پہلے سے یقین تھا کہ پانامہ کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں ہی آئے گا لہذا وہ اپنا رنج مٹانے کے لئے میاں نواز شریف کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں ،مشورہ کیوں بلکہ دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ان کا فرمان ہے کہ نواز شریف کو عزت مآب ججوں نے صادق اور امین قرار نہیں دیا لہذا میاں صاحب کو اب استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔اگر انہوں نے استعفیٰ نہ دیا تو وہ جمہور کی طاقت سے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کردیں گے۔عجیب بات ہے۔عدلیہ کے جن ریمارکس کی بنیاد پر وہ میاں نواز شریف پر تنقید کررہے ہیں اسی عدلیہ کی کھلے عام تضحیک بھی کررہے ہیں ۔ان کے مطابق عدلیہ نے بہت دیر لگائی اور فیصلہ بھی غلط دیا۔

زرادی صاحب نے جس نکتہ پر میاں نواز شریف سے استعفٰی کا مطالبہ کیا ہے ،یہ نکتہ بڑا مضحکہ خیز لگتا ہے ۔۔۔ ان پر دو درجن سے زائد مقدمات تھے ،ان کے نام کا زرداری ٹیکس چلتا رہا ۔کیاایسا شخص صادق اور امین ہوسکتاہے؟ ۔کیا یہ قوم کی بدقسمتی نہیں کہ کرپشن کے بے تاج بادشاہ زرداری صاحب کو صادق اور امین کہا گیااور صدر پاکستان کا عہدہ ان کے سپرد کیا گیا ۔ا نکے وزرائے اعظم اور وزرا بھی انکے نقش قدم پر چلتے رہیاور آج عالم یہ ہے کہ ایک وزیر اعظم رینٹل پاوراوردوسرا ایفیڈرین جیسے مقدمات بھگت رہاہے ۔انکی قیادت میں پیپلز پارٹی کی نیک نامی کا جنازہ نکل چکا ہے ۔شریف اور وضعدار شخصیات انکی قیادت میں پی پی پی میں شامل نہیں ہونا چاہتیں۔ایم کیو ایم کے بعد زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی میں بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا راج رہاہے اور اسکا ثبوت انکے گرفتار ہونے والے دوست اور خود ان کا ماضی ہے۔وہ اس بات پر نازاں ہیں کہ ’’ ایک زرداری سب پر بھاری‘‘ ۔اس میں کوئی شک نہیں ۔پیپلز پارٹی کو ٹکڑ وں میں بانٹنے اور بانجھ کرنے میں ایک زرداری ہی کافی نکلے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ