’یورپ میں موجود اس چیز کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں بارشیں کم ہوگئی ہیں‘ سائنسدانوں نے انتہائی تشویشناک انکشاف کردیا، ایسی وجہ بتادی جو اب تک کسی نے سوچی بھی نہ تھی

’یورپ میں موجود اس چیز کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں بارشیں کم ہوگئی ہیں‘ ...
’یورپ میں موجود اس چیز کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں بارشیں کم ہوگئی ہیں‘ سائنسدانوں نے انتہائی تشویشناک انکشاف کردیا، ایسی وجہ بتادی جو اب تک کسی نے سوچی بھی نہ تھی

  


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر بڑے جوش و خروش کے ساتھ لگائے جارہے ہیں، اور ان منصوبوں کیلئے مدد فراہم کرنے پر ہم دوست ملک چین کے بہت شکرگزار بھی ہیں، لیکن اس جوش و خروش کے عالم میں کچھ ہوش سے کام لیتے ہوئے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے ہمارے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ دنیا کی ممتاز ترین جامعات میں شمار ہونے والے برطانوی ادارے امپیریل کالج لندن کے سائنسدانوں کی ایک چشم کشا تحقیق اس ضمن میں انتہائی قابل غور ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یورپ میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی آلودگی ہزاروں میل دور جنوبی ایشاءکے خطے میں بھی تباہی برپا کر رہی ہے۔ بھارت میں تو یہ ایک ایسے قحط کا سبب بنی جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے ۔

دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق یورپ کی آلودگی کی وجہ سے بھارت میں پید اہونے والا قحط اس کی تاریخ کی بدترین آفات میں سے ایک تھا، جس نے 13کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا۔ اسی طرح پاکستان بھی موسمی ردوبدل اور خشک سالی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ آلودگی کا ایک بڑا حصہ سلفر ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل تھا، جو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے پیدا ہورہا تھا۔ اس کی وجہ سے تیزابی بارش، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں اور نباتاتی حیات کو نقصان جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔

شمالی کوریا نے امریکی بحری بیڑے کو ایک ہی حملے میں تباہ کرنے کی دھمکی دے دی ،شمالی کوریا کسی غلط فہمی میں نہ رہے ،اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے تیار ہیں :امریکہ

اسی طرح سلفیٹ ایروسولز بھی بڑی مقدار میں ماحول میں شامل ہوئے۔ یہ کیمیائی مادے سورج کی روشنی کو واپس خلاءمیں منعکس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ماحولیاتی درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی آنے لگتی ہے۔ شمالی نصف کرے سے آلودگی کے اخراج نے جنوبی نصف کرے میں شرح حرارت کو متاثر کیا، جس کی وجہ سے بارشوں کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شمالی نصف کرے کی آلودگی نے بھارت کے شمال مغربی خطے میں بارشوں کی مقدار تقریباً 40 فیصد کم کردی۔ یہ آلودگی شمالی نصف کرے کے صنعتی علاقوں بکثرت پیدا ہو رہی تھی۔ صرف یورپ سے خارج ہونے والی آلودگی نے بارشوں کی مقدار میں 10 فیصد کمی کی۔

تحقیق کار ڈاکٹر اپاستولس وولگاراکس کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے ایک حصے میں کیمیائی مادوں کا اخراج دیگر حصوں کیلئے مسائل کھڑے کرسکتا ہے، چاہے آلودگی مادی طور پر ایک حصے سے دوسرے حصے میں منتقل نہ ہی ہو۔ دی انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت مشرقی ایشیاءکے خطے میں خارج ہونے والی آلودگی بڑے پیمانے پر منفی اثرت کی حامل ہے، اگرچہ امریکہ اور یورپ سے اخراج کے باعث بھی دنیا کے دیگر حصوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی