’اس ایک قسم کی عورتیں ہمارے معاشرے کیلئے ایڈز جیسے مرض سے بھی زیادہ خطرناک ہیں‘ معروف خاتون اسلامی رہنما نے ایسا اعلان کردیا کہ تہلکہ برپاہوگیا، ڈھیروں خواتین احتجاج کرنے لگیں

’اس ایک قسم کی عورتیں ہمارے معاشرے کیلئے ایڈز جیسے مرض سے بھی زیادہ خطرناک ...
’اس ایک قسم کی عورتیں ہمارے معاشرے کیلئے ایڈز جیسے مرض سے بھی زیادہ خطرناک ہیں‘ معروف خاتون اسلامی رہنما نے ایسا اعلان کردیا کہ تہلکہ برپاہوگیا، ڈھیروں خواتین احتجاج کرنے لگیں

  



نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کے لباس اور معاشرے کی اخلاقیات کے درمیان تعلق اکثر موضوع بحث بنا رہتا ہے۔ بھارت میں ایک خاتون مذہبی رہنما نے بھی اس بحث میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ایک ایسا بیان دے دیا ہے کہ پورے ملک میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔

’آج کل خواتین نے یہ کام شروع کردیا ہے اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ قیامت واقعی بہت قریب آگئی ہے‘ معروف اسلامی رہنما نے ایسا اعلان کردیا کہ جان کر آپ بھی پریشان ہوجائیں گے

ویب سائٹ ڈی این اے انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی ہند کے خواتین ونگ کی صدر عطیہ صدیقہ نے اپنے ایک بیان میں خواتین کے چست لباس کو ایڈز کی ہولناک بیماری سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بیان جمعہ کے روز خطاب کے دوران اس وقت دیا جب ان سے سوال کیا گیا کہ مردوں کے برعکس عورتوں کو پردے کا پابندی کیوں بنایا گیا ہے۔ انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا ”خواتین کو اپنے تحفظ کیلئے پردہ کرنا چاہیے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ مرد ہمیں کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ بے پردہ خواتین معاشرے کو آلودہ کررہی ہیں۔ فضائی آلودگی، آبی آلودگی کے متعلق تو تفکرات پائے جاتے ہیں لیکن معاشرے کے لئے سب سے بڑی آلودگی خواتین کی بے پردگی ہے۔ یہی وہ خواتین ہیں جو ماحول کو آلودہ کررہی ہیں۔ ایڈز کی بیماری پھیل رہی ہے، اور اسی وجہ سے عصمت دری کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ جو خواتین چست لباس پہنتی ہیں وہی ماحول کو آلودہ کرتی ہیں۔ مرد باہر گھومتے ہیں۔ آج کل عورتیں بھی باہر گھومتی ہیں۔ اگر دونوں باہر رہیں گے تو بچے کہاں جائیں گے؟ عورتوں کو صرف بنیادی ضروریات کے لئے ہی باہر نکلنا چاہیے۔ یہ چیزیں بھارتی کلچر کے بھی خلاف ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس