’وہ میرے دفتر میں کام کرتا تھا، ہماری دوستی ہوئی اور پھر جسمانی تعلق قائم ہوگیا لیکن پھر مجھے پتہ لگا وہ کسی اور سے شادی کررہا ہے، اس سے پوچھا تو آگے سے ایسا شرمناک ترین جواب مل گیا کہ واقعی زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، وہ کہنے لگا کہ۔۔۔‘

’وہ میرے دفتر میں کام کرتا تھا، ہماری دوستی ہوئی اور پھر جسمانی تعلق قائم ...
’وہ میرے دفتر میں کام کرتا تھا، ہماری دوستی ہوئی اور پھر جسمانی تعلق قائم ہوگیا لیکن پھر مجھے پتہ لگا وہ کسی اور سے شادی کررہا ہے، اس سے پوچھا تو آگے سے ایسا شرمناک ترین جواب مل گیا کہ واقعی زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، وہ کہنے لگا کہ۔۔۔‘

  



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے معاشرے میں خواتین کے استحصال کو کسی نہ کسی طور ’جائز‘ بنا ہی لیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ بدسلوکی کا ذمہ دار بھی انہیں ہی قرار دیا جاتا ہے، اور یوں جرم کے مرتکب ہونے والے مرد بڑی آسانی سے خود کو بری الزمہ قرار دے دیتے ہیں۔ اسی استحصال کا نشانہ بننے والی ایک خاتون نے ویب سائٹ اکڑ بکڑ پر اپنی داستان غم کچھ یوں بیان کی ہے:

’’آپ کوئی ستی، ساوتری نہیں ہیں‘‘ یہ چھ الفاظ مجھے کبھی چین لینے نہیں دیتے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو میرے ایک سابقہ دوست نے کہے، لیکن ان کا اصل مطلب یہ تھا کہ ’’میں جب چاہوں تمہارے ساتھ جسمانی تعلق استوار کرسکتا ہوں کیونکہ تم اسے پہلے بھی کسی سے تعلق رکھ چکی ہو، لیکن اگر تم اس سے کچھ زیادہ چاہو، یعنی شادی، تو معذرت کے ساتھ اس کی اجازت نہیں۔‘‘

میں آفس میں اس سے سینئر تھی اور میری آمدنی بھی زیادہ تھی، لیکن اس کی بھی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ اس معاملے کا آغا اس وقت ہوا جب میرے والدین میرے لئے رشتہ ڈھونڈ رہے تھے۔ مجھے اپنے آفس میں کام کرنے والا یہ لڑکا مناسب لگا اور میں نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے اس تک یہ بات پہنچائی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والدین سے بات کرے گا ۔

چند دن بعد ہی اس نے مجھ سے ملاقات کی درخواست کی، جس کے بعد ہماری بات چیت اور ملاقاتیں باقاعدگی سے ہونے لگیں۔ وہ میرے ماضی میں گہری دلچسپی رکھتا تھا اور میں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں بھی مجھے کچھ لڑکوں میں دلچسپی رہی تھی۔ مجھے معلوم ہے کہ سچ بتا کر میں نے غلطی کی تھی۔

ایک دن ہم نے تنہائی میں بارش میں بھیگنے کا لطف لیا اور پھر بے قابو ہو کر سب حدیں پھلانگ گئے۔ اس واقعے نے ہمارے درمیان خفیہ تعلق کا راستہ کھول دیا۔ اس وقت میں اس بات کو نہیں سمجھتی تھی لیکن اب جان چکی ہوں کہ اس کیلئے یہ تعلق صرف جسمانی لطف تک محسوس تھا،جبکہ میں سمجھتی رہی کہ میں نے اس کے دل میں جگہ بنالی تھی۔

مجھ پر حقیقت اس وقت کھلی جب مجھے اس کے شادی کے منصوبے کا علم ہوا۔ جب میں نے اس سے سوال کیا تو اس کا جواب تھا ’’تم عمر میں مجھ سے بڑی ہو اور میرے گھر والے مجھے تمہارے ساتھ شادی کی اجازت نہیں دیں گے۔ ویسے بھی تم کام چلا لو گی۔ مہربانی کرکے مجھے اس شادی کی اجازت دو ۔‘‘

وہ جس سے شادی کررہا ہے اس کی عمر 23یا 24 سال ہے اور وہ گریجوایشن کررہی ہے۔ میں 32 سال کی ہوں، پوسٹ گریجوایٹ ہوں اور ملازمت کرتی ہوں۔ میں ملازمت کی غرض سے اپنے گھر سے بھی دور رہتی ہوں۔ شاید میں تو کسی بھی شخص کیلئے مناسب جوڑ نہیں ہوں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس