پاناما فیصلہ ،وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف سے استعفیٰ کے مطالبہ پر وکلاءتنظیمیں دودھڑوں میں تقسیم

پاناما فیصلہ ،وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف سے استعفیٰ کے مطالبہ پر ...
پاناما فیصلہ ،وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف سے استعفیٰ کے مطالبہ پر وکلاءتنظیمیں دودھڑوں میں تقسیم

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف سے استعفیٰ کے مطالبہ پر وکلاءتنظیمیںدودھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہیں ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن استعفیٰ کے مطالبہ سے پیچھے ہٹ گئی ہے جبکہ پاکستان بار کونسل نے بھی وزیراعظم کا استعفیٰ کے مطالبہ سے انکار کردیا ہے ۔

متحدہ عرب امارات کی وہ 10 سرکاری نوکریاں جو پاکستانی بھی حاصل کرسکتے ہیں

سپریم کورٹ کی طرف سے پاناماکیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دیکر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بطور ملزم پیش ہوں، بار کے عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس میں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو وکلاءتحریک چلائیں گے ۔سپریم کورٹ بار کی طرف سے بھی وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ سامنے آیا تھا تاہم اب سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری آفتاب باجواہ کی طرف سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے متفقہ طور پر ایسا کوئی مطالبہ کرنے کا تاحال فیصلہ نہیں کیا ہے جو بیانات سامنے آئے ہیں وہ انفرادی طور پر دیئے گئے ہیں ۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل وزیر اعظم کے استعفیٰ کے معاملے پر تاحال لاہور ہائی کورٹ بار سے متفق نہیں ہو سکی ہیں، سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجواہ اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس بلائے ہیں، ان اجلاسوں میں مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

مزید : لاہور