شوہر کے قتل کی ملزمہ کی ضمانت پر رہائی کے بعد ہائی کورٹ نے بچے بھی خاتون کے حوالے کردیئے

شوہر کے قتل کی ملزمہ کی ضمانت پر رہائی کے بعد ہائی کورٹ نے بچے بھی خاتون کے ...
شوہر کے قتل کی ملزمہ کی ضمانت پر رہائی کے بعد ہائی کورٹ نے بچے بھی خاتون کے حوالے کردیئے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ نے 3یتیم بچے دادادادی کی تحویل سے لے کرماں کے حوالے کردیئے ،عدالتی فیصلے کے بعد بچوں، دادی اور تایا کی چیخ و پکار،بچوں کا ماں کے ساتھ جانے سے انکار ،احاطہ عدالت میں دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔جسٹس ملک شہزاداحمد خان نے پاکپتن کی رہائشی بیوہ خاتون ساجدہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔

رشتہ داریاں کام پر اثر انداز نہیں ہوتی، اعتزاز احسن کے اکلوتے برادر نسبتی سابق صدر رفیق تارڑ کے داماد تھے: مجیب الرحمان شامی

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ سسرال نے خاوند افتخار احمد کے قتل کے الزام میں بے بنیاد مقدمہ درج کرایا۔پولیس نے قتل کیس میں جیل بھجوایا تو اس کے تین یتیم بچوں حسنین ،علی رضا اور خدیجہ کو دادا سروراوردادی غلام فاطمہ نے پاس رکھ لیا،اب درخواست گزار خاتون خاوند کے قتل کے جرم میں ضمانت پر رہا ہوکرباہر آئی ہے تو دادا اور دادی بچے ماں کے حوالے نہیں کررہے اور نہ اسے بچوں سے ملنے کی اجازت دے رہے ہیں۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تینوں بچوں کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت میں دادا اور دادی کے وکیل کاکہناتھا کہ درخواست گزار خاتون اپنے خاوند کے قتل میں ملوث ہے،بچوں کی زندگی بھی اس سے محفوظ نہیں۔وکیل کاکہنا تھا کہ بچے بھی ماں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔عدالت نے فریقین کے وکلاءکے لائل سننے کے بعد تینوں بچوں کوماں کے حوالے کرنے کاحکم دے دیا ہے،عدالتی فیصلہ سنتے ہی بچوں اور ان کے دادا،دادی اور تایا نے چیخ وپکار شروع کردی اور دھاڑیں مارمار کر روتے رہے تاہم ہائیکورٹ کی سیکورٹی نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے بچوں کو ماں کے ساتھ بجھوادیاہے۔

مزید : لاہور