پولیس کا احترام اپنی جگہ لیکن عدالت کی عزت پہلے ہے،عدالتی حکم عدولی نظر انداز نہیں کی جاسکتی ،ہائی کورٹ

پولیس کا احترام اپنی جگہ لیکن عدالت کی عزت پہلے ہے،عدالتی حکم عدولی نظر ...
پولیس کا احترام اپنی جگہ لیکن عدالت کی عزت پہلے ہے،عدالتی حکم عدولی نظر انداز نہیں کی جاسکتی ،ہائی کورٹ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے قراردیا ہے کہ پولیس ریاست کاا ہم ادارہ ہے،ہم پولیس کا احترام کرتے ہیں لیکن عدالت کی عزت پہلے ہے،عدالتوں کی حکم عدولی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔جسٹس قاضی محمدامین احمد اورجسٹس اسجد جاویدگورال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ ریمارکس پولیس ریکارڈعدالتوں میں پیش نہ کرنے کے کیس میں سی سی پی اوامین وینس اورایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہورمبشرمیکن کو مخاطب کرکے دیئے ۔

چوہدری نثار سے ڈی جی اینٹی نارکوٹیکس فورس کی ملاقات، ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال

عدالت میں سی سی پی او لاہورنے بیان دیاکہ ریکارڈ پیش نہ کرنے والے تفتیشی افسرمقبول حسین کومعطل کردیا گیاہے جبکہ عدالتی احکامات پرعمل درآمد کے لئے سپیشل ڈیسک بنادیئے ہیں۔عدالت نے سی سی پی اولاہورسے استفسار کیاکہ تھانہ شفیق آباد میں قتل کیس میں سزائے موت کے مجرم محمد ارشد کی اپیل میں پولیس ریکارڈ پیش کیوں نہیں کیاگیا جس پر سی سی پی او امین وینس نے کہا کہ پولیس ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کرنے والے تفتیشی افسر سب انسپکٹر مقبول حسین کو معطل کردیا ہے اور عدالتوں میں پولیس ریکارڈکو یقینی بنانے کے لئے پراسیکیوٹر جنرل ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور ہر متعلقہ ضلع کے دفتر میں سپیشل ڈیسک تشکیل دینے کے لئے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس افسران کو عدالتی احکامات پرروزانہ کی بنیاد پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس پرعدالت نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹادی۔

مزید : لاہور