ایمنسٹی سکیم کا بنیادی مقصد غیر ملکی قرضوں پر انحصارکم کرنا ہے ، ریجنل ٹیکس آفیسر فیصل آباد

ایمنسٹی سکیم کا بنیادی مقصد غیر ملکی قرضوں پر انحصارکم کرنا ہے ، ریجنل ٹیکس ...

  

فیصل آباد (بیورورپورٹ) ایمنسٹی سکیم کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کیلئے غیر ملکی قرضوں پر انحصارکم کرنا ہے جبکہ اس مقصد کیلئے دستاویزی معیشت کو رواج دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کے ذریعے ٹیکسوں کی موجودہ شرح میں بھی کمی کی جا رہی ہے۔ یہ بات ریجنل ٹیکس آفیسر چوہدری محمد طارق نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایمنسٹی سکیم بارے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کے اس مطالبے سے اتفاق کیا کہ ٹیکسوں کی بنیاد کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم عام کاروباری افراد کا خیال ہے کہ یہ سکیم صرف نئے ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ تک محدود ہے حالانکہ اس کا اطلاق ان موجودہ ٹیکس گزاروں پر بھی ہوتا ہے جو ٹیکس گزار تو ہیں مگر وہ اپنے حصے کا پورا ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ ٹیکس کی شرح کا ذکر کرتے ہوئے ریجنل ٹیکس آفیسر نے کہا کہ اس وقت دیگر علاقائی ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں ٹیکسوں کی شرح بہت مختلف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنیز کے ریٹ اس وقت 27 فیصد ہیں جن کو بتدریج 24 فیصد پر لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عام طو رپر کرایہ سے ملنے والی آمدنی پر ٹیکس زیادہ ہوتا ہے جبکہ بزنس سے ہونے والی آمدنی پر یہ کم ہوتا ہے کیونکہ کرایہ کی آمدن میں محنت نہیں کرنا پڑتی جبکہ بزنس کی صورت میں ٹیکس گزار کو خود متحرک کردار ادا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اس لئے حصص ، کرایہ اور اس طرح کی دیگر آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو پہلے ہی اس پر کام کر رہے ہیں تاہم جب حکومت ریٹ کم کرتی ہے تو سرمایہ کاری محاصل کی وصولی کے اہداف پورے نہیں ہوتے اور پھر حکومت کو دوبارہ سپر ٹیکس لگانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طو رپر ہمیں اپنے ٹیکسوں کی شرح کو ریجن کے دیگر ملکوں کے برابر لانا ہوگا۔ بلڈرز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایمنسٹی سکیم کے تحت سپر سٹکچر کی قیمت کا تعین 400 روپے فی مربع فٹ کے حساب سے کیا جائے گا لیکن حساب کتاب کے بعد اس پر منافع بہت بڑھ جائے گا ۔

جس سے مزید کئی قسم کی پیچیدگیوں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح مارکیٹ ریٹ کے تعین پر بھی ٹیکس دہندگان اور ٹیکس وصول کرنے والوں میں اختلاف ہو سکتا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ جہاں اس سلسلہ میں واضح قانون نہ ہو وہاں اسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس سلسلہ میں معمولی فرق پر محکمہ نرم رویہ اختیار کرتا ہے اور صرف اس صورت میں اختلاف پیدا ہوتا ہے جب یہ فرق غیر معمولی ہو۔ انہوں نے ریجنل ٹیکس آفس کی طرف سے یقین دلایا کہ بہت زیادہ فرق نہ ہونے کی صورت میں محکمہ ان کیلئے پریشانی کا باعث نہیں بنے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 30 جون تک اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کی مدت ختم ہو رہی ہے اس لئے ان سے پہلے پہلے اس مسائل کو حل کر لینا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 29 جون کی تاریخ کا مقصد29 جون رات بارہ بجے تک ہے تاہم وہ اس سلسلہ میں محکمہ سے وضاحت لے لیں گے۔ اس سے قبل معروف ٹیکس قانون دان حامد مسعود نے ایمنسٹی سکیم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے خاص طو رپر ان نکات کی نشاندہی کی جن سے مستقبل میں اختلافی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکس قوانین کی بعض شقوں میں اضافہ پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ 116 کے تحت پہلے غیر دانستہ غلطی کی تصحیح ہو سکتی تھی جبکہ 116-A کے تحت اس میں تصحیح نہیں ہو سکے گی تاہم انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ حکومت قومی بجٹ میں اس شق کو اصل صورت میں بحال کر دے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا جبکہ 24 لاکھ تک 5 فیصد ، 48 لاکھ تک 10 فیصد جبکہ اس سے زائدہ آمدن پر 15 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ جولائی سے جائیداد کی منتقلی کے سلسلہ میں ایف بی آر اور ڈی سی کے ریٹ ختم کر دیئے جائیں گے اور پراپرٹی ٹیکس پر یکساں ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی یہ تجویز قانونی نہیں تاہم امید ہے کہ بجٹ میں اس کو قانونی تحفظ مہیا کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹرسٹی کے قائمقام صدر شیخ فاروق یوسف نے کہا کہ ملکی نظام کو چلانے کیلئے ٹیکسوں کو بنیادی اور کلیدی اہمیت حاصل ہے لیکن اس وقت ملک میں Tax to GDP کی شرح 10.5 فیصدہے حکومت اس شرح کو12-13 فیصد تک بڑھانے کے دعوے کرتی رہی ہے مگر عملی طور پر اس سلسلہ میں نمایاں پیش رفت نظر نہیں آرہی جس کی وجہ سے ہمارا Fiscal Deficit بھی کنٹرول نہیں ہو رہا انہوں نے کہا کہ اس پر قابو پانے کا واحد حل یہی ہے کہ ٹیکس بیس کو بڑھایا جائے اور ٹیکسوں کی شرح کو کم کرکے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں جبکہ دستاویزی معیشت کا عمل اپنی صحیح رفتار سے جاری نہیں اور ٹیکس بیس میں بھی اضافہ نہیں ہو رہا۔ ان حالات میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم2018 ملکی اکانومی، بزنس کمیونٹی اور عوام کیلئے حکومت کا خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے میرٹس اور ڈی میرٹس پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے مگر فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کا موقف یہ ہے کہ اس سکیم کا حتمی مقصد ٹیکس بیس کو بڑھانا اور بزنسز کو ریلیف دینا ہونا چاہیئے۔ اس سے یقیناًمعیشت کو فروغ حاصل ہوگا اور حکومت کو ڈویلپمنٹ کیلئے ضروری ریونیو بھی مل سکے گا۔ فاروق یوسف نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستانیوں کے 150 بلین ڈالر کے اثاثے بیرون ملک ہیں جن میں 40 بلین ڈالر صرف Real Estate کے شعبہ میں ہیں ۔ اگر حکومت ان اثاثوں کا 50 فیصدہی ملک میں لانے کے قابل ہو جاتی ہے تو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے بیرونی قرضوں پر انحصار بہت حد تک کم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر کا موقف یہی ہے کہ اس سکیم کو ملکی اور معاشی مفادکیلئے صحیح معنوں میں implement کیا جائے کیونکہ صرف گزشتہ پانچ سال میں چار ایمنسٹی سکیمیں ناکامی سے دو چارہو چکی ہیں جبکہ باربار کی ایمنسٹی سکیموں سے ایماندار ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو کہ 30 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کے حوالے سے وہ پالیسی سازوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان وجوہات پر بھی غور کریں جن کی وجہ سے یہ اثاثے بیرون ملک منتقل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یقیناًاس میں ملکی حالات کا بھی تعلق ہے مگر ہماری خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام اور ہائی ٹیکس ریٹس بھی ہیں۔ انہوں نے اس اہم موضوع پر بروقت سیمینار کے انعقاد پر چیف کمشنر ریجنل ٹیکس آفس چوہدری محمد طارق کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے فیصل آباد چیمبرآف کامرس انڈسٹری کے ممبران کو اس سکیم کے مقاصد کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ سوال و جواب کی نشست میں ٹیکس کمیٹی کے چیئرمین چوہدری طلعت محمود، عبیداللہ شیخ ، حامد مسعود ، رانا معروف بھٹی ، رانا محمد سکندر اعظم خان، محمد انور اور سید مظہر حسین رضوی نے حصہ لیا جبکہ نائب صدر عثما ن رؤف نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔بعد میں قائم مقام صدر شیخ فاروق یوسف نے ریجنل ٹیکس آفیسر چوہدری محمد طارق کو جبکہ ٹیکس کمیٹی کے چیئرمین چوہدری طلعت محمود نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک امجد کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی شیلڈ پیش کی۔

مزید :

کامرس -