فیشن کا اصل تعلق موسم، ماحول اور معاشرتی اقدار سے ہے

فیشن کا اصل تعلق موسم، ماحول اور معاشرتی اقدار سے ہے

  

فیشن میں نمو، جِدّت اور قوتِ اظہار تب واقع ہوتی ہے جب ملکی حالات میں اطمینان، خوشیاں اور سماج ترقی اور بہتری کی ڈگر پر رواں ہوں۔ ہمارے پیارے ملک میں حالات بہتری کی جانب رواں ہیں اور لوگوں میں یقین اور اُمید کی شمیں روشن ہوئی ہیں۔ وہ دن یقیناً دور نہیں جب پاکستان معاشی اور معاشرتی لحاظ سے دنیا کے صف اول کے ممالک میں ایک ہوگا۔ اِس ملک کو بنانے والے مخلص اور نیک ارادوں کے مالک تھے جبکہ اس کا بُرا سوچنے والے بزدل، کم ظرف اور محدود سوچ کے حامل ہیں اور جو ایک دن ضرور خائب و خاسر ہوں گے۔ ہمارا ملک انشاء اللہ وہ مقام ضرور حاصل کرے گا جس کا تصور اس ملک کے بانی رہنماؤں نے کیا تھا۔ وہ سوچ جو پاکستان کے مفکر اور خالق کے اذہان کا محور تھی اب نئی نسل کے قلوب کو گرما رہی ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل ہر میدان میں خواہ کیمرے ٹریل کی مشق ہو یا فنون لطیفہ اور فیشن کے میدان کی بات ہو اپنے عزم اور استقلال کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔

پاکستانی ماڈل ایسے فیشن مقبول عام کرنے کی کوشش میں ہیں جو موسم، ماحول اور معاشرتی اقدار کے تقاضوں کے عین مطابق ہو اور عام لوگوں کی پہنچ اور پسندیدگی پر پورا اُترے۔ ہمارے لوگ اب سمجھ دار ضرور ہیں کہ صحیح اور غلط میں تمیز کرسکیں۔ جو چیز عوامی معیار پر پورا نہیں اترتی وہ خودبخود معدوم ہو جاتی ہے اور جس شے میں قوت ہو وہ عوامی مقبولیت حاصل کرلیتی ہے۔

ان دنوں بہار کا موسم اپنے جوبن پر ہے۔ اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن پہنے قطار اندر قطار پھول تو اپنا جلوہ دکھا ہی رہے ہیں، اشجار بھی اپنے نوخیز پتوں اور پھولوں سے لوگوں کے دل لبھانے کے لئے موجود ہیں۔ ابھی گل مُہرکے پھولوں نے درختوں پر آگ روشن کررکھی ہے۔ اسی لئے اسے شجر شعلۂ نما(Tree Flame) کہتے ہیں۔ دو ماہ بعد املتاس اور گلِ نشتر بھی بالترتیب اپنے پیلے اور سرخ زیور سے فطرت کی مانگ سجادیں گے۔ بہار کے یہی رنگ ہیں جنہیں کپڑوں کے ڈیزائنز اپنی سوچ و فکر سے ایسی تخلیقات کی صورت میں سامنے لاتے ہیں کہ جو مارکیٹ میں آتے ہی خواتین کی توجہ ایک دم اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔لباس سے متعلق مختلف برانڈز کی ہر ممکن سعی ہوتی ہے کہ وہ وقت پر اپنے پراڈکٹس مارکیٹ میں لے آئیں اور دادِ تحسین حاصل کریں۔ البتہ ہماری وہ خواتین جو لباس کے بارے میں جمالیاتی حِس کی مالک ہوتی ہیں خود ایسے پہناوے تیار کرتی ہیں جو موسم اور ماحول میں ان کی شخصیت کو قابلِ توجہ بنا دیتے ہیں۔ ہماری خواتین خواہ وہ غریب، متوسط یا امیر گھرانوں سے تعلق رکھتی ہوں، لباس کے بارے میں اچھا ذوق ضرور رکھتی ہیں۔ اگر خود تراش خراش اور سلائی نہیں کرتی تو درزیوں پراپنا مطلوب و مقصود واضح ضرور کردیتی ہیں۔ پہناوا وہ وہی پہنتی ہیں جو انہیں عزت و وقار اور آرام و آسودگی دے۔

دیکھا جائے تو قدر خود بھی فیشن پسند ہے۔ ہر نیا دن گزرنے والے دن سے مختلف ہوتا ہے۔ فطرت زمین پر اپنے رنگوں اور رعنائیوں میں تبدیلیاں کرتی رہتی ہے۔ ایسے ایسے ڈیزائن بنتے اور سنورتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آسمان پر دھنک اپنا جادو جگاتی ہے تو زمین پر پھول اور ہریالی کا طلسم چھا جاتا ہے۔ قدرت کے فسوں کے آگے انسانی عقل ذرا بھی اہمیت نہیں رکھتی۔ بہرحال انسان کو جو کچھ دیا گیا اسی سے وہ اپنی عقل کے مطابق کام لیتا۔ اور اس میں جدت اور ندرت پیدا کرتا ہے۔ اپنی اسی صلاحیت کو وہ فیشن کا نام دیتا ہے۔

ہمارے ملک کی خواتین میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی کارکردگی سے وہ اپنی صنف کا نام روشن کر رہی ہیں۔ فیشن میں بھی ان کی ذہنی اُپج ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ریمپ واک ہو یا گلیوں، بازاروں میں ان کی آمد و رفت یا پھر وسیع و عریض شاپنگ مال میں ان کی چہل قدمی، سبھی جگہوں پر اپنی موجودگی سے وہ مناظر میں رنگ بھرتی اور اس فیشن کا حصہ بنتی ہیں جو پاکستانی معاشرے اور سماج کا ضروری عنصر ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -