اربوں روپے غیر ملکی بینکوں میں منتقل

اربوں روپے غیر ملکی بینکوں میں منتقل

  

پاکستان میں مختلف طریقوں سے رقم کو دو گنا کرنے کا جھانسہ دیکر لوٹنے کے قصے تو منظر عام پر آتے رہتے ہیں اور سادہ لوح عوام ان کے جھانسے میں آ کر اپنی جمع پونجی لٹا بیٹھتے ہیں ڈبل شاہ کا قصہ ابھی اتنا پرانا نہیں ہوا مگر رقم کو دوگنا کرنے کا خواب دیکھنے والے دوبارہ انہی نوسربازوں کا شکار ہو جاتے ہیں پھر اس امر کی دہائی دینا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ لٹ گئے مارے گئے‘انکا کچھ باقی نہیں بچا ‘سب کچھ سمجھنے اور جاننے کے باوجود لوگ ایسے کاروبار میں سرمایہ کاری کر دیتے ہیں جن کی عمر چند ماہ ہوتی ہے اور نوسر باز اپنا سب کچھ سمیٹ کر منظر عام سے غائب ہو جاتے ہیں ایسی سکیموں میں ان دنوں ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے ذریعے جن کا ہیڈ کوارٹر ایسے ممالک میں ہے جہاں کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی اور عقل مند بھی بے عقل ہو جاتے ہیں اور اپنے کروڑوں روپے ان ویب سائٹس کے ذریعے بھاری بھر کم سرمایہ کاری کر کے اپنا سب کچھ گنوا لیتے ہیں ان دنوں ملک کے مختلف شہروں میں مختلف غیر ملکی ویب سائٹس کے ذریعے اربوں روپے غیر ملکی بینکوں میں جا رہے ہیں اس کے عوض بھاری بھر کم منافع دینے کا لالچ دیا جاتا ہے ایک سروے کے مطابق مختلف شہریوں میں نوسر بازوں نے کرایہ پر دفاتر حاصل کر کے شہریوں کو انکی رقم دو گنا کرنے کا جھانسہ دیکر ابتک بیشمار رقم غیر ملکی بینکوں میں منتقل کی جا چکی ہے اس سکیم کے تحت ایسے پیکجز متعارف کرائے گئے ہیں جن کے جھانسے میں آ کر لوگ کروڑوں روپے جمع کرا رہے ہیں جبکہ پاکستان کے قانون نافذ کرنیوالے وفاقی ادارے اس صورتحال سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور نہ ہی ایسی ویب سائٹس پر کوئی پابندی لگائی جا رہی ہے جس کے ذریعے پاکستانی سرمایہ بیرون ملک منتقل ہونے سے روکا جا سکے ایک ایسی ہی سکیم ہانگ کانگ سے شروع ہوئی ہے جس نے مقبولیت کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں لوگوں نے وسیع پیمانے پر اس میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اس سکیم کے تحت ایسے پیکجز متعارف کرائے گئے ہیں جس میں لائٹ پیک ‘ میں 4سو ڈالر جمع کرانے کے بعد 50ڈالر ہفتہ وار اور سالانہ 1ہزار ڈالر ‘ پلس پیک میں 12سو ڈالر جمع کرانے پر ساڑھے 26ہزار ماہانہ اور 3لاکھ 96ہزار روپے جمع کرانے پر سالانہ ڈالروں کی شکل میں منافع دیے جانے کاجھانسہ دیا جاتا ہے تمام کاروبار غیر ملکی کرنسی میں وسیع پیمانے پرکیا جا رہا ہے اور اسے ویزا کارڈ کی صورت میں غیر ملکی بینکوں میں منتقل کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں کوئی ایک شخص بھی سروے کے دوران نہیں ملا جس نے یہ بتایا ہو کہ اسے پرافٹ ملنا شروع ہو گیا ہے پاکستانی رقم غیر ملکی کرنسی میں تبدیل ہو کر وسیع پیمانے پر بیرون ملک جا رہی ہے اس سے قبل وزیر آباد کے رہائشی ایک ڈبل شاہ نے رقم دوگنی کرنے کا لالچ دیکر اربوں روپے اکٹھے کیے اور دنیا میں شہرت حاصل کی گجرات میں بھی ایک موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی نے بھاری بھر کم منافع کا لالچ دیکر گجرات کے سرمایہ داروں کے کروڑوں روپے ہضم کر لیے اور فیکٹری پر کروڑوں روپے دینے والے متاثرین نے قبضہ کر لیا گجرات میں گاہے بگاہے رقم دوگنی کرنے کا لالچ دینے والے منظر عام پر آتے رہتے ہیں مگر انکا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے کوئی بولی کی کمیٹی کے نام پر اور کوئی رقم دوگنی کے علاوہ اب درجنوں مختلف غیر ملکی کمپنیوں کی ویب سائٹس جس میں لوگوں کو سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے کہ ذریعے اب اربوں روپے بٹور لیے گئے ہیںیہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ نوسر باز سرمایہ کاری کرنیوالے ہر شخص کو یہ کہتے ہیں کہ اگر رقم ڈوب گئی تو وہ ذمہ دار نہ ہوں گے اور ان سے مختلف اقسام کے کاغذات پر دستخط کرا لیے جاتے ہیں شہریوں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ اس سے قبل کہ کوئی بہت بڑا مالیاتی سکینڈل منظر عام پر آئے مذکورہ نوسر بازوں کو فی الفور گرفتار کر کے پاکستانی اور غیر ملکی کرنسی کو بیرون ملک وسیع پیمانے پر منتقلی سے روکا جائے ویب سائٹ پر بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والے شخص کو مزید لوگوں کو پھنسانے کے لیے پر کشش پیکج بھی بنائے گئے ہیں ایک شخص اگر سرمایہ کاری کرتا ہے تو دو مزید افراد کو اس چنگل میں پھنسانے کے لیے اسے خصوصی رعایت دی جاتی ہے اسکے پوائنٹ بنتے ہیں اور ان پوائنٹس کے حساب سے اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اسکی رقم بڑی تیزی کے ساتھ جنگلی گھاس کی طرح بڑھ رہی ہے دو مزید شکار ہونیوالے افراد بھی اسی لالچ میں مزید افراد کو ان کا شکار بناتے ہیں قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ مختلف غیر ملکی ویب سائٹس کے ذریعے جوا کھیلنے کا رجحان بھی اپنے عروج پر ہے مختلف مقامات پر نوجوانوں کی بڑی تعداد ان غیر ملکی جوا کھیلنے والی ویب سائٹس کے ذریعے جوا کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر قانون نافذ کرنیوالے ادارے کسی ایک شخص کو بھی پکڑنے میں ناکام رہے ہیں پرائز بانڈ کے نمبرز بھی فروخت کیے جاتے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے ایف آئی اے کے ذمہ داران کو مختلف ذرائع سے ایسی معلومات ملتی رہتی ہیں مگر پاکستانی معاشرے میں نوسر باز اس قدر اثر ورسوخ رکھتے ہیں کہ ان کے خلاف کاروائی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے غیر ملکی ویب سائٹس بھاری بھر کم منافع دینے کا لالچ دیکر پاکستان سے وسیع پیمانے پر رقم بٹورنے میں مصروف ہیں حکومتی اس صورتحال کا فوری طور پر تدارک کرے اور ایسی ویب سائٹس پر پابندی عائد کر دی جائے جس کے ذریعے پاکستانی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے قومی خزانے میں زرمبادلہ کے زخائر روز بروز کم اور پاکستان کی کرنسی کی قیمت دن بدن زوال پذیر ہے کچھ عرصہ قبل بٹ کوائن کے نام سے منظر عام پر آنیوالی سائبر کرنسی نے تہلکہ مچا دیا انٹرنیٹ کے ذریعے لین دین کرنیوالے اس فرضی کرنسی کو کوئی بھی بینک کرنسی کے طور پر قبول نہیں کرتا اور ماہرین معاشیات نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ اس میں سرمایہ کاری انکو کنگال کر سکتی ہے خد ا نخواستہ اگر کوئی ایسی سکیم ڈوب جائے تو یہ ڈبل شاہ تو نہیں جسے گرفتار کیا جا سکے یا پھر لوگوں کی رقم نیب یا قانون نافذ کرنیوالے ادارے اکٹھی کر کے متاثرین کو واپس کر سکیں معلوم نہیں جن کے پاس سرمایہ ہے وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے کیوں اجتناب کرتے ہیں اور غیر ملکی ویب سائٹس کے ذریعے پاکستانی کرنسی کو تبدیل کر کے بیرون ملک کیوں بجھواتے ہیں بادی النظر میں یہ ایف آئی اے کا کام ہے کہ اس صورتحال کا فوری طور پر تدارک کرے اور ایسے نوسر بازوں کو ملک گیر مہم چلا کر گرفتار کرے اور عوام کو لٹنے سے بچایا جا سکے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -