عدلیہ کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کا فرض اولین !

عدلیہ کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کا فرض اولین !

  

پانامہ بنچ میں شامل اور نیب کیسز کے نگران جج اور سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور ماڈل ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ پر 14اپریل ہفتہ کی رات 10بج کر 50منٹ اور اگلے روز اتوار کی صبح 9بج کر 45منٹ پر ہونے والے فائرنگ کے واقعات سے لاہور میں بالعموم اور ملک بھر میں بالخصوص تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ان واقعات کی اطلاع ملتے ہی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار فوراً جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پہنچے اور ان کی خیریت دریافت کی۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے پی ایس او کو جسٹس اعجاز الاحسن سے ملنے سے روک دیا گیا۔ چیف جسٹس نے اس واقعہ کی نگرانی کے فرائض اپنے ذمہ لیتے ہوئے آئی جی کو حکم دیا کہ جس قدر جلد ہو سکے ملزم کو گرفتار کیا جائے۔ موقع سے نائن ایم ایم پستول سے چلائی گئی گولی کے خول بھی برآمد ہوئے ۔ واضح رہے کہ ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر کی سربراہی میں جے آئی ٹی بھی قائم کر دی گئی۔ علاوہ ازیں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے نمائندے بھی تحقیقات میں شامل کیے گے۔ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے بھی اس واقعہ کی پر زور مذمت کی گئی اور کہا تمام سٹیک ہولڈرز، ریاستی اداروں کی موثر فنکشنگ کے لئے محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائیں اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں۔ واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل تھے اور وہ احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنس کے نگران جج بھی ہیں۔ بلاشبہ واقعہ قابل مذمت اور باعث افسوس ہے جس کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات ناگزیر ہے۔ اس وقت جتنے منہ اتنی باتیں والی صورتحال ہے۔ سیاسی مخالفین واقعہ کو پانامہ لیکس اور نیب ریفرنسز کے ساتھ جوڑ کر واقعہ کی تمام تر ذمہ داری(ن) لیگ پر ڈال رہے جبکہ مکمل تحقیقات تک کسی کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ جس طرح کے حالات اس وقت سیاسی اعتبار سے چل رہے ہیں(ن) لیگ پر واقعہ کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری عمل ہے تاہم محض مفروضوں سے کہانی بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ یہ امر بھی خارج از امکان نہیں کہ کوئی تیسری قوت سیاسی مخالفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا کام دکھا رہی ہو۔ جب سیاسی قائدین ملک کے اہم ترین اداروں کے حوالے سے بدگمان ہونگے، ان پر الزامات لگا کر ان کے فیصلوں کو دل سے تسلیم کرنے کی بجائے گلی، چوکوں اور بازاروں میں ان کے خلاف نعرے لگائیں گے تو پھر ایسے واقعات کا رونما ہونا کوئی اچنبے کی بات نہیں، دشمن ہمیشہ ایسے ہی موقعوں سے فائدہ اٹھایا کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ 1997ء میں سپریم کورٹ پر (ن) لیگ نے ہی حملہ کیا تھا جس میں سعد رفیق کے ملوث ہونے کا ریکارڈ موجود ہے۔ اس لئے اب بھی (ن) لیگ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسرا حکمران جماعت کے قائدین نے عدلیہ کے خلاف جو محاذ کھول رکھا ہے اور عوام کو اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کے لئے اکسایا جا رہا ہے اس سے بھی حکومتی جماعت کے چاہنے والے متاثر ہو رہے ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی جذباتی کارکن نے اپنے طور پر ایسی حرکت کی ہو۔ اس لئے قائدین کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ محتاط انداز میں گفتگو کریں، عوام کو اکسانے کی بجائے صبر و تحمل کا درس دیں خود بھی قانون کی پاسداری کریں اور عوام کو بھی قائل کریں۔ حملہ چونکہ لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ کے قریب ہی ہوا جو ریڈ زون میں واقعہ ہے تو سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا پھر خود سب سامنے آ جائے گا اس لئے وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ الزام تراشی کی سیاست کے بجائے جے آئی ٹی کمیشن رپورٹ کا انتظار کای جائے یقیناً جو بھی ملوث ہو گا اسے سامنے لایا جائے گا۔اس وقت ملک میں عدلیہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے موجودہ چیف جٹس آف سپریم کورٹ نے عوام کے ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی، کرپشن کے خاتمہ اور قانون کی حکمرانی کا جو عہد کیا ہے اس سے کرپٹ مافیا کی نیندیں حرا م ہو گئی ہیں۔ یقیناًایسے ہی لوگ ایسی بزدلانہ کارروائی کر سکتے ہیں جنہیں عدلیہ کے فیصلوں سے گزند پہنچ رہی ہے۔ واقعہ میں ملوث افراد کی گرفتاری میاں شہباز شریف کی سیف سٹی پروگرام کے لئے بھی امتحان ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اسے ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے میں پہلی شرط ہے۔ اگر عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہوں تو پھر تباہ حال ملک بھی جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ قانون کو با اثر افراد نے اپنے تابع رکھا۔ غریب اور امیر کے لئے الگ الگ ضابطے مرتب کئے گئے جس سے انصاف کی فراہمی ایک سوالیہ نشان بن گئی۔ اب جبکہ اعلیٰ عدلیہ اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے میدان عمل میں اتری ہے تو یقیناً خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ امر ہو گا۔ اس وقت انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے بھی افواہیں عام ہیں اگر خدا نخواستہ ایسا کوئی بڑا واقعہ رونما ہو گیا تو جمہوریت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کو دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، اندرونی و بیرونی محاذ پر دشمن سرگرم ہے ایسے میں سیاستدانوں کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ محتاط طرز عمل اپنائیں، اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی ترک کر دیں، اپوزیشن جماعتیں بھی بغیر کسی ثبوت کے الزام تراشیوں سے گریز کریں۔ واقعہ کی تحقیقات کی چیف جسٹس ثاقب نثار خود نگرانی کر رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ نتائج کا انتظار کیا جائے۔(ن) لیگی قائدین بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پنجاب حکومت بھرپور تعاون کرے۔ اب عدلیہ آزاد ہے کسی دباؤ میں آنے والی نہیں اس لئے ضروری ہے کہ قانون کے مطابق معاملات کو حل ہونے دیا جائے ورنہ دشمن قوتیں ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر تباہی و بربادی کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ عدالتی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔کیونکہ ہمارے ہاں ججوں کو عرصہ دراز سے اس نوعیت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی ججوں پر حملے کئے گئے، کئی کے بچوں کو اغواء کر لیا گیا اور کئی تو قتل بھی کر دیئے گئے۔ اس تناظر میں حالات کا جائزہ لینے سے یہ امر منکشف ہو جاتا ہے کہ کئی ججز ایسے بھی ہوں گے جو دھمکیوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہو کر میرٹ پر فیصلے کرنے سے بھی قاصر ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ واقعہ کی جوڈیشنل انکوائری سے یہ مثبت پہلو برآمد ہو سکتا ہے کہ فائرنگ کے محرکان اور ملزم دونوں یقیناًبے نقاب ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعہ کی آڑ میں سیاسی عناصر کو پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہئے ۔عدلیہ کے نمائندوں کو ڈرانے دھماکے کے لئے بعض عناصر جو مذموم ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ان میں انہیں ہرگز کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ عوام کو اب اس کا پورا پورا ادراک اور احساس ہو چکا ہے کہ اس نوعیت کے شرمناک اقدام محض انصاف کرنے والوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ شرپسند عناصر پر اب یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جانی چاہئے کہ اس ملک کے عوام اپنی عدلیہ اور فوج کی پشت پر کھڑے ہیں اور ایسے ہتھکنڈوں سے عدلیہ کے نمائندوں کے پائے استقلال میں ہرگز لغزش نہیں آ سکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ کے بعض دوسرے اہم پہلوؤں کے ساتھ ساتھ حکومت اور پنجاب پولیس کی نااہلی کے واضح ثبوت مل گئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سول حکومت عدلیہ کے معزز ججوں کو تحفظ کی فراہمی میں ناکام ہو چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جج صاحبان کی سکیورٹی پولیس سے لے کر رینجرز کے حوالے کرنے کا مشورہ یقیناًایک صائب مشورہ ہے۔ ہمارے ملک میں سول اداروں کی جانب سے کاروبار ریاست نمٹانے کے لئے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہونا جب تک سول اداروں کے افسران کا وطیرہ رہے گا اس وقت تک ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کو اپنا شیوہ بناتے رہیں گے اور خود کو فرائض اور ذمہ داریوں سے دور رکھنے کے راستہ پر گامزن رہیں گے اور سیاست میں اقربا پروری، میرٹ کی پامالی اور دیگر اخلاقی قباحتوں اور برائیوں کو پروان چڑھاتے رہیں گے۔ حد تو یہ ہے کہ آج اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں نے یہ فریضہ بھی جغرافیائی سرحدوں کے محافظوں کو سونپ دیا ہے۔ ملک میں امن و امان کی بد سے بدتر ہونے والی صورت حال کو کنٹرول کرنا ہو، بارش طوفان، زلزلہ یا کوئی آفت ہمارے ہاں سب ہی میں فوج کو طلب کیا جاتا ہے اور آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ فوج کے تحفظ کے بغیر ہمارے عدلیہ کے جج صاحبان بھی اب خود کو غیر محفوظ سمجھیں گے۔ اسی لئے آج جج صاحبان کی سکیورٹی فوج کے حوالہ کرنے کی سرگوشیاں سنی جا رہی ہیں۔ ۔ تاہم جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ سے حکومت اور پنجاب پولیس کی نا اہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے اسی لئے تو شرپسند عناصر کی جرأت اور حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ انہوں نے ریاست کے اہم ترین ستون کے اہم ترین معزز جج کے گھر پر فائرنگ کی۔ عدلیہ کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کا فرض ہے اور اس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر کوئی دورائے نہیں ہو سکتیں کہ معزز جج کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی جامع اور ٹھوس انداز میں فی الفور تحقیقات کی جانی چاہئے۔ یہی نہیں بلکہ ماڈل ٹاؤن جیسے ریڈ زون میں نامعلوم افراد کا نائن ایم ایم سمیت دیگر اسلحہ لے کر گھومنا خود اس علاقے کی سکیورٹی پر سوال اٹھانے کے لئے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے جج صاحبان کی سکیورٹی پولیس سے لے کر رینجرز ک حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو سول اداروں بالخصوص پنجاب پولیس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستانی قوم اپنے سول اداروں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ وہ کب تک اپنے فرائض منصبی کی ایمانداری سے ادائیگی میں کوتاہی برتتے رہیں گے کیونکہ اگر اسی طرح معاملات کو ڈنگ ٹپاؤپالیسیوں کا سہارا لے کر چلایا گیا تو یہ ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن کر رہ جائیں گے۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے میں سویلین اداروں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -