ایلیٹ پولیس ٹریننگ نوشہرہ میں خواتین کمانڈوز کی ٹریننگ

ایلیٹ پولیس ٹریننگ نوشہرہ میں خواتین کمانڈوز کی ٹریننگ

  

پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ، خیبر پختونخواہ کی پولیس کو سیاست سے پاک کر دیا گیا ہے اور یہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس وقت پولیس حکومت،اس کے وزرا یا اراکین اسمبلی کی جانب سے کسی قسم کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے۔ تمام فیصلے قانون کے مطابق اور میرٹ پر کئے جاتے ہیں۔ اس پالیسی پر عمل درآمد کے بعد سے بہت بہتری پیدا ہوئی ہے کرپشن میں کمی اور خدمت کی ادائیگی میں بہتری شامل ہیں۔ شہریوں کا فیڈ بیک کا نظام اعلی پولیس افیسرز کو نگرانی اور احتساب کا موقع مہیا کرتا ہے۔ ثقافتی رکاوٹوں اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے، خواتین کے لئے اپنے حقوق، خاص طور پر پولیس کی خدمات حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی جنگ میں خواتین پولیس کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں اور اپنے وطن کی مٹی پر جان نچھاور کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کررہی ہے۔خیبر پختونخوا پولیس کی 69 لیڈیز پولیس کمانڈوز تربیت مکمل کرکے فیلڈ میں مرد پولیس کمانڈوز کے شانہ بشانہ اپنے فرائض وابستہ توقعات سے بڑھ کر سرانجام دے ر ہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبے میں خواتین پولیس دہشت گردی سمیت ہر قسم کے جرائم کے کنٹرول کے لیے مرد پولیس کے ساتھ ملکر اپنا موثر اور اہم کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس فورس کے بہت سے خواتین نے بخوشی خود کمانڈو تربیت حاصل کرنے کی حامی بھرلی ہے۔ اس مقصد کے لیے 34 خواتین پر مشتمل پہلے دستے نے جوائنٹ ایلیٹ پولیس ٹریننگ نوشہرہ میں 4 مہینے پر مشتمل کمانڈوز ٹریننگ کے تمام سخت مراحل،جن سے مرد پولیس کمانڈوز کو گزرنا پڑتا ہے خوش اسلوبی سے مکمل کرلئے۔ جبکہ 35 لیڈیز پر مشتمل دوسرا دستہ بھی ایلیٹ کمانڈو ٹریننگ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد ایلیٹ لیڈیز کمانڈوز کا حصہ بن چکا ہے۔اسی طرح لیڈیز پولیس کے 69 ارکان پر مشتمل یہ دونوں دستے مرد پولیس ایلیٹ کمانڈوز کے ہمراہ فیلڈ میں دہشت گردوں اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف آپریشنوں اور کاروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ لیڈیز پولیس کا تیسرا دستہ بہت جلد ایلیٹ کمانڈو ٹریننگ کا حصہ بن جائے گا۔ یہاں پر امر قابل ذکرہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں دو لیڈیز پولیس (نوشہرہ اور سوات) اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرچکی ہیں۔ اس وقت صوبے میں 684خواتین پولیس اہلکار مختلف نوعیت کے سیکورٹی فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ جن میں پشاور میں 67،چارسدہ میں20، نوشہرہ میں24، مردان میں 58، صوابی میں 24، ایبٹ آباد میں 38، مانسہرہ میں 32، ہری پور میں 25، بٹگرام میں 6، تور غر میں 1، سوات میں 36، شانگلہ میں14، دیر آپر میں 4، دیرلوئر میں 43، بونیر میں 9، چترال میں 48، کوہاٹ میں 14، کرک میں 8، بنوں میں 39، لکی مروت میں 8، ڈی آئی خان میں 46، سپیشل برانچ میں 14، سی ٹی ڈی میں 7، ایلیٹ فورس میں 63،کیمپس میں 5، ایف آر پی میں 9اور پی ٹی سی ہنگو میں 4 مرد پولیس کے برابر سیکورٹی کے تمام فرائض کامیابی اور احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے خواتین پولیس ڈسک پر لیڈیز پولیس تعیناتی ایک احسن قدم ہے۔ جہاں خواتین بلا خوف و خطر اپنے مسئلے مسائل پیش کرتی ہیں۔ لیڈیز پولیس کسی بھی عوامی اجتماعات، طالبات کی امتحانی مراکز، لیڈیز بازاروں اور شاپنگ سنٹروں، حساس چیک پوسٹوں، عدالتوں کی سیکورٹی، ٹریفک، انوسٹی گیشن، پولیس دفاتر، ماڈل پولیس اسٹیشن، ویمن ڈسک،آپریشنل فرائض بخوبی سرانجام دے رہی ہیں۔ گھریلو خواتین خیبر پختونخوا پولیس کا حصہ بن کر ہاتھ میں خود کار اور بھاری اسلحہ لئے سیسہ پلائی دیوار کے مانند پرعزم طریقے سے دہشت گردی کا مردانہ وار مقابلہ کررہی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -