نوجوانوں کی بات بزرگانہ شفقت سے سنیں

نوجوانوں کی بات بزرگانہ شفقت سے سنیں
نوجوانوں کی بات بزرگانہ شفقت سے سنیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شکر کیجیے لاہور کے موچی دروازہ میدان میں اس بار گٹر کا پانی ہی چھوڑا گیا۔ ایک بار یہاں حزبِ اختلاف کا جلسہ ناکام بنانے کے لیے سانپ بھی چھوڑے جا چکے ہیں اور صاف پانی تو خیر پچھلے ستر برس میں کئی بار چھوڑا گیا۔

لاہور آج بھی خوش قسمت ہے کہ دیگر صوبوں کے عوام اور رہنماؤں کو وفاقی پالیسیوں سے جو بھی شکایات ہوں وہ اہلِ لاہور کو اعتماد میں لینا نہیں بھولتے۔ یہ الگ بات کہ لاہور سنتا سب کی مگر کرتا اپنی ہے۔

شیخ مجیب الرحمان نے پانچ فروری 1966ء کو لاہور میں ہی چھ نکات کی نقاب کشائی کی تھی۔ اس کے بعد غدار پھر محبِ وطن پھر غدار کی گردان شروع ہو گئی۔ لاہور طے ہی نہ کر پایا کہ شیخ کا کرنا کیا ہے ، کیا ماننا ہے ، کتنا ماننا ہے ؟ اس گومگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ فروری 1974ء میں اسی لاہور کو بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم شیخ مجیب الرحمان کا سرکاری سطح پر خیر مقدم کرنا پڑا۔

ماما قدیر اٹھائیس پاپیادہ لوگوں کے ہمراہ اپنا دکھ بانٹنے کے لیے کوئٹہ سے کراچی آیا اور پھر اسلام آباد جاتے ہوئے اسی لاہور میں فروری 2014 میں ایک دن قیام کے بعد آگے بڑھ گیا۔ اگر ماما کی بات لاہور سن لیتا اور کچھ دن اپنے پاس ٹھہرا لیتا تو شائد آج جتنی پولٹیکل انجینیئرنگ کرنا پڑ رہی ہے اس کی ضرورت نہ پڑتی۔

منظور پشتین کو بہت سے لوگ کل کا بچہ کہتے ہیں۔ مگر لاہور میں جلسے کا فیصلہ بتاتا ہے کہ اسے بچہ سمجھنے والے کتنے بچگانہ ہیں۔ یہ تازہ ثبوت ہے کہ دیگر قومیتیں آج بھی وفاق کے اندر اپنی تکالیف کا مداوا کرنے کے بارے میں کتنی پرامید ہیں

۔

مگر طالبان کو ہم خیال لیکن گمراہ بھائی کہنے والی اور خادم حسین رضوی کی گرفتاری سے معذور حکومتِ پنجاب اور اس کی انتظامی مشینری استعمال کرنے والے دوستوں نے پشتین کے ساتھیوں کو حراست میں لینے ، پھر چھوڑنے ، جلسے کی اجازت دینے ، منسوخ کرنے اور پھر اجازت دینے سے وفاق کی کتنی خدمت کی ؟ یہ جاننے کے لئے مورخ کا انتظار ضروری نہیں۔

کیا آپ آرمی پبلک اسکول کے قتلِ عام کے بعد غیر متشدد اور آئین کے دائرے میں رہنے والے جوابی بیانیئے کی تلاش میں مارے مارے نہیں پھر رہے تھے؟ یہ جوابی بیانیہ خود رو منظور پشتین کی شکل میں سامنے ہے تو آپ سے سنبھالا نہیں جا رہا۔

اڑچن یہ ہے کہ پاکستانی عوام 2018ء میں مگر پاکستانی ریاست 1918ء میں رہ رہی ہے۔ آپ نے قبائلی علاقوں میں طالبان کو پنپنے دیا اور پھر ان طالبان سے جان بھی چھڑائی۔ بہت شکریہ۔ بے حد شکریہ۔اب آگے بھی تو بڑھیں۔

یہی تو موقع ہے منظور پشتین جیسوں کو وفاق دوست زراعت پر لگانے کا مگر نہ تو آپ خود کاشت کر رہے ہیں نہ مقامی کاشتکاروں کو کرنے دے رہے ہیں۔ اور جب وہ چیختے ہیں یہ کیسی آزادی ہے تو آپ سمجھتے ہیں یہ تو ریاست کے باغی ہیں۔ حالانکہ یہ پاکستان سے نہیں پاکستان میں آزادی مانگ رہے ہیں۔

جو علاقے آپ نے گمراہ بھائیوں کی فسطائیت سے آزاد کروائے ان میں آئینی برابری کی فصل بھی تو بوئیں تاکہ مستقبل میں پاگل پن کا جھاڑ جھنکار پھر سے نہ اْگ آئے۔

الجھنا ہے تو ان نوجوانوں سے سنجیدہ بحث میں الجھیں۔ اپنی منوا لیں یا ان کی مان لیں۔

ان سے نپٹنے کے لیے میڈیا بلیک آؤٹ یا اجرتی تجزیہ بازوں کی آڑ لے کر لونڈیہار پن نہ فرمائیں۔

آپ کی اب وہ عمر نہیں ہے۔ سفید سر کی لاج رکھتے ہوئے بزرگانہ شفقت اور تدبر کو ہاتھ ڈالیں اس سے پہلے کہ ان نوجوانوں کی بات ایک اور بتنگڑ بن جائے۔

مزید : رائے /کالم