شام سے بیرونی طاقتیں باہر نکل جائیں

شام سے بیرونی طاقتیں باہر نکل جائیں
شام سے بیرونی طاقتیں باہر نکل جائیں

  

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حکمران گزشتہ چند سال سے شام میں صدر بشار الاسد کو اپنے ملک کی سیاسی قیادت سے ہٹانے کے لئے ذرائع ابلاغ میں تسلسل سے منظم انداز سے مہم چلانے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی خاصی تگ و دو کر رہے تھے، لیکن ان کا یہ مطالبہ بین الاقوامی قوانین کے طور پر درست نہیں تھا، اس لئے بیشتر ممالک کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جبکہ مذکورہ بالا ممالک مختلف حوالوں سے شام کے حکمران پر اس امر کا دباؤ ڈالتے رہتے تھے، لیکن صدر بشار الاسد اس کو قبول کرنے کے لئے کسی طرح تیار نہیں تھے۔

یوں یہ کشمکش مسلسل مشرق وسطیٰ کے سیاسی اور معاشی حالات پر اثر انداز ہو رہی تھی جو حالیہ دنوں میں مزید شدید اور خطرناک ہو گئی ہے۔

اس مشکل وقت میں مسلمانوں کو فرقہ واریت کی تفریق سے گریز کرنا چاہئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سابق امریکی سربراہوں کی طرح صورت حال پر بہت پیچ و تاب کھا رہے تھے کیونکہ امریکہ سردست واحد سپر پاور ہونے کی بنا پر اس خطہ ارض میں اپنی من مانی سیاسی اور دفاعی پالیسیاں ہی چلانے کی ڈگر کو ترجیح دیتا آ رہا ہے جس سے گزشتہ چند سال میں شام کے بیشتر شہروں اور علاقوں میں تباہی اور بربادی کے واقعات پڑھنے اور سننے میں آ رہے ہیں۔

ان مقامات پر سالہا سال سے فضائی بمباری، انسانی قتل و غارت اور دوسرے ممالک میں نقل مکانی ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ بعض یورپی ممالک کے حکمران وسیع پیمانے پر ہجرت سے عاجز آ کر اپنی سرحدیں بند کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ بعض قریبی ممالک مثلاً سعودی عرب اور ترکی کے حکمران بھی امریکی اتحادی قوتوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

یوں مسلم امہ متحد و متفق ہونے کی بجائے باہمی انتشار اور نفاق کی راہ پر دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی اتحادی قوتوں کی شام پر میزائل داغنے اور فضائی بمباری سے وہاں کے چپے چپے پر عمارتوں کی مسماری اور راستوں کی بندش سے معمولات زندگی کیسے جاری اور رواں دواں رہ سکتے ہیں؟ قارئین کرام نے ذرائع ابلاغ میں اکثر دیکھا ہوگا کہ مایوس، پریشاں حال کرب و اذیت سے دوچار لوگ اپنے بچوں کی زندگی بچانے کے لئے، پناہ گاہوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں۔

یہ صورت حال انسانی ضمیر اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لحاظ سے فوری توجہ اور ضروری اقدامات کی متقا ضی ہے۔ شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام، اس پر جارحیت کرنے کا بے بنیاد اور من گھڑت جواز اختراع کیا گیا ہے۔

ایران اور روس، صدر بشار الاسد کی مدد کر رہے ہیں۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں 14 اپریل کی شب کو ہدف بنائے گئے علاقوں میں ہر سمت تباہی و بربادی سے ملبے اور کھنڈرات کے مزید ڈھیر بن گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل نے بھی اس مشترکہ فوجی یلغار کو کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔

غور طلب معاملہ یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے بھی ایسے حالات مزید جاری رکھے گئے تو عالمی امن فوری طور پر خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے کیونکہ مقابل قوتیں بھی تو آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہنے سے اپنے مفادات کو کیسے محفوظ رکھ سکیں گی؟ سوال یہ ہے کہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کی بربادی کے علاوہ کیا کوئی بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں؟ بڑی طاقتیں اپنی من مانی کرنے کے لئے طاقت کے روایتی اندھے استعمال سے باز آ جائیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے یا حملہ آور قوتوں کے ازخود جارحیت کے مزید ارتکاب کے گریز سے، شام سے بیرونی حملہ آور قوتوں کا فوری طور پر انخلاء ضروری ہے۔

وہاں میزائل اور فضائی بمباری جلد روک دی جائے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس ، شام پر جارحانہ اور ظالمانہ کارروائیاں بلا تاخیر بند کر دیں۔کیونکہ حالیہ دنوں میں شام کی سیاسی قیادت نے کسی بیرونی ملک پر کوئی جارحانہ حملہ نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی امن کے قیام کا بڑا مقتدر ادارہ ہے۔ اس کو کسی بڑی طاقت یا اتحاد کا آلہ کار بن کر اپنا کردار جانبدارانہ نہیں بتانا چاہیے کیونکہ انسانی مسائل، حقوق اور اقدار کا تحفظ کیسے ہو سکے گا؟

مزید :

رائے -کالم -