محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو احترام دلانا قوم پر قرض ہے

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو احترام دلانا قوم پر قرض ہے

  

مکرمی! جس شخص نے وطن کی خاطر ہالینڈ میں اپنا بہتر مستقبل قربان کر کے اِس وقت پاکستان میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی،جس وقت مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے جُدا ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا میں اِس وقت کا درد کبھی بھول نہیں سکا، جب مَیں نے اپنے کانوں سے یہ خبر سُنی تھی کہ جنرل نیازی نے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دیئے ہیں میری طرح کتنے پاکستانی تھے جو روئے اور افسردہ تھے پاکستان کامستقبل تاریک نظر آرہا تھا ایسے میں نظریاتی اختلاف کے باوجو دذوالفقار علی بھٹو واحد لیڈر تھا، جس نے نئے عزم کے ساتھ قوم کو حوصلہ دیا اور کہا کہ ہم گھاس کھا لیں گے، مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے وہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان لانے والے ہیں پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے چیلنج سمجھ کر اپنی ٹیم کے ہمراہ دن رات محنت سے وہ کام کر دکھایا،جس کے خواب کی تعبیر بھٹو اپنی زندگی میں نا دیکھ سکے تھے کہتے ہیں ۔ 1985ء میں ایٹم بم بن چکا تھا یہی وجہ ہے کہ راجیو گاندھی جب پاکستان پر حملہ کے لئے پر تول رہا تھا ، توضیاالحق کرکٹ دیکھنے کے بہانے انڈیا گئے اور راجیو کو ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے کرانڈین فوجیں بارڈر سے واپس کروا دی تھیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخص ہے، جس نے پاکستان کو نا قابلِ تسخیر کر دیا، مگر ہم بڑ ے ہی بے وفا اور احسان فراموش قوم ثابت ہو رہے ہیں ہم نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا حق کیا ادا کرنا تھا اُلٹا ٹی وی پراُن سے معافی منگوا ڈالی وہ بھی غیروں کے خوف سے بقول شخصے کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، مگر ہماری غیرت تو دنیاکے بازار میں بڑی سستی نکلی اب بھی وقت ہے ان کی زندگی میں ان کے ماتھے سے وہ کالک مٹادی جائے،جو معافی کی صورت لگائی گئی ہے وہ شخص اگر دُنیا سے جائے تو اس اطمینان کے ساتھ کہ قوم نے اُسے احترام واپس کر دیایہ ہم سب پر قدیر خان کا قرض ہے ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، آخر میں لکھتے لکھتے یاد آیا کہ آج کل اسلام آباد ائر پورٹ کے نام کی باتیں چل رہی ہیں، اس کے نام کے لئے قدیر خان ائرپورٹ کی تجویز پر اتفاق ہونا چاہئے۔ یہ بھی اُن کی گرانقدر خدمات کے اعتراف کا ایک حقیر سا نذرانہ ہے حکمرانوں سے اس سلسلے میں پُر زور اپیل ہے۔ (زاہد رؤف کمبوہ، گوجرہ)

مزید :

رائے -اداریہ -