ایران نیو کلیئر ڈیل کا مخدوش مستقبل؟

ایران نیو کلیئر ڈیل کا مخدوش مستقبل؟

  

ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نیوکلیئر ڈیل سے الگ ہوا اور معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا گیا تو ایران یورینیم کی افزودگی کا عمل تیزی سے آگے بڑھانا شروع کردے گا، ایران نے 2015ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت یورینیم کی افزودگی کا عمل سلو ڈاؤن کیا تھا، اس وقت صرف اس حد تک یورینیم افزودہ کیا جارہا ہے جو توانائی وغیرہ کے شعبوں میں کام آسکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ یہ اعلان کرچکے ہیں کہ امریکہ آئندہ ماہ معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کرسکتا ہے، اس معاہدے میں ایران اور امریکہ کے علاوہ روس، چین، فرانس برطانیہ اور جرمنی بھی فریق ہیں، ایران ان ملکوں پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ معاہدے کو بچانے کی کوشش کریں، فرانس کے صدر ایمانوئل میکغول آج امریکہ کے دورے پر پہنچنے والے ہیں، جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل بھی اگلے ہفتے امریکہ جارہی ہیں، دونوں رہنما دوسرے موضوعات کے علاوہ ایران نیوکلیئر ڈیل پر بھی امریکی صدر سے مذاکرات کریں گے، امریکہ معاہدے میں بعض نئی شرائط شامل کرانا چاہتا ہے، اس کا خیال ہے کہ معاہدے کے بعد ایران نے اپنا میزائل پروگرام تیزی سے آگے بڑھانا شروع کردیا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ میزائل پروگرام اس معاہدے میں نہیں آتا۔

ایران نے امریکہ اور پانچ بڑی طاقتوں کے ساتھ جو نیو کلیئر ڈیل کیا تھا، اس پر معاہدے کے تمام فریقوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا، اس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما تو اس حد تک چلے گئے تھے کہ انہیں یہ کہنا پڑا تھا کہ اگر امریکی کانگرس نے اس معاہدے کی منظوری نہ دی تو وہ صدارتی ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے کانگرس کی مخالفت کو بے اثر بنادیں گے، تاہم اس کی نوبت نہیں آئی اور امریکی کانگرس نے معاہدے کی منظوری دیدی، البتہ صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران نہ صرف اس معاہدے کی مخالفت کرتے رہے بلکہ یہ بھی کہتے رہے کہ وہ اگر صدر منتخب ہوگئے تو وہ معاہدے کو رول بیک کردیں گے۔ وہ جب سے صدر بنے ہیں، یہ اعلانات کررہے ہیں کہ وہ یہ معاہدہ ختم کریں گے، اس لئے بعید نہیں کہ وہ اگلے ماہ ایسا کرہی دیں۔

دوسری جانب ایران بھی اس نئی صورتِ حال اور امریکہ کے معاہدے سے ممکنہ علیحدگی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے اور اس وقت امریکہ میں موجود ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ معاہدے سے الگ ہو جاتا ہے تو پھر ایران پر اس کی پابندی کرنا ضروری نہیں ہوگا، وہ بھی اپنی مرضی سے یورینیم کی افزودگی کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے میں آزاد ہوگا، دوسرے فریق ممالک اگرچہ معاہدے کو بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ فرانس اور جرمنی کے سربراہان تو صدر ٹرمپ سے بات چیت کے لئے بھی پروگرام بنا چکے ہیں لیکن یہ سوال اہم ہے کہ کیا وہ صدر ٹرمپ کو قائل بھی کرسکیں گے یا نہیں؟ اس لحاظ سے یہ وقت معاہدے کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے۔ صدر ٹرمپ اور کانگرس میں معاہدے کی مخالف لابی ہر حالت میں معاہدے کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے تو وہ امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے مفاد کو پیشِ نظر رکھ رہی ہے جو ایران سے اس لئے خائف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے باقی ملکوں سے تو اس نے ایک ایک کرکے نپٹ لیا ہے اور اب کسی میں اتنی طاقت باقی نہیں رہ گئی کہ وہ اس کے لئے خطرہ بن سکے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ڈاکٹرائن میں تو اسرائیل کے لئے ہر طرح کے تحفظ کے امکانات ہیں، اس لئے مستقبل کا سعودی عرب بھی اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔ لے دے کے ایران ایک ایسا ملک ہے جس سے اسرائیل خائف بھی ہے اور ایران کے پاس ایسی فوجی قوت بھی ہے جس سے اسرئیل کو خوفزدہ ہونا بھی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کے ذریعے ایران کو گھیرنے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے اور نیو کلیئر ڈیل کا خاتمہ بھی ایسی ہی کوششوں کا حصہ ہے۔

ایران نیوکلیئر ڈیل جب طے پایا تھا تو معاہدے میں شریک ملکوں سمیت تمام دنیا میں مجموعی طور پر اسے سراہا گیا تھا اگرچہ ایران کے اندر ایسے عناصر موجود تھے اور اب بھی ہیں جو معاہدے کو پسند نہیں کرتے تاہم صدر حسن روحانی کے حامی معاہدے کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے تھے اور ایران کو فوری طور پر یہ فائدہ بھی ہوا تھا کہ اس پر عائد اقتصادی پابندیاں اگر پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھیں تو بڑی حد تک کم ضرور ہوگئی تھیں اور یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ آئندہ حالات بہتر ہوں گے لیکن عجیب بات ہے کہ عہدِ ٹرمپ کے آغاز کے ساتھ ہی معاہدے کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے سابق امریکی صدر بارک اوباما اب بھی معاہدے کے حامی ہیں اور اسے امریکہ کی بڑی کامیابی تصور کرتے ہیں یہ معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا اور اگر اِس کے ذریعے ایران نے کچھ کامیابیاں حاصل کی تھیں تو یہ ایرانی مذاکرات کاروں کی مہارت کا اعجاز تھا اور اس پر ایران کو داد دینی چاہئے کہ اس نے پانچ ویٹو پاور کے حامل ملکوں اور ایک بڑی معاشی قوت(جرمنی) کے مقابلے میں مذاکراتی مہارت کا اتنا شاندار مظاہرہ کیا کہ ایران اپنے لئے بہت سی مراعات کے حصول میں کامیاب رہا۔

عالمی معاہدے جو مختلف ملکوں کے درمیان طے پاتے ہیں وہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہوتے کہ جب چاہا معاہدہ کرلیا اور جب چاہا اس سے نکل جانے کا اعلان کردیا، صدر ٹرمپ اگر عالمی مدبر ہوتے تو وہ نہ صرف کانگرس اور اسرائیل کے دباؤ کا مقابلہ کرتے بلکہ انہیں یہ بھی سمجھاتے کہ امریکہ کی عزت اس میں ہے کہ وہ معاہدے کی پابندی کرے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکی رائے عامہ اور امریکہ کے اہم حلقے ابھی سے یہ کہنے لگے ہیں کہ انہیں اگلی ٹرم کے لئے صدارتی امیدوار نہیں ہونا چاہئے حالانکہ ہر امریکی صدر دوسری ٹرم کے لئے عمومی طور پر امیدوار ہوتا ہے وہ ہارے یا جیتے، اس کی امید واری ہمیشہ سے مسلمہ چلی آرہی ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی ایسی ہی حرکتوں سے خود کو متنازعہ بنالیا ہے اور اُن کی انتظامیہ میں اہم عہدوں پر رہنے والے اعلیٰ عہدیدار امریکہ کے لئے یہ بہتر سمجھتے ہیں کہ وہ اگلے امیدوار نہ بنیں، ایران کے ساتھ ڈیل امریکی تدبر کا بھی امتحان ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اندرون ملک جو چاہے کریں کم از کم عالمی معاہدوں کے بارے میں بے تدبیری کا مظاہرہ نہ کریں اور ایران کو موقع نہ دیں کہ وہ امریکہ کے کسی عاقبت نااندیشانہ فیصلے کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کرے

مزید :

رائے -اداریہ -